تفکر اور مراقبہ | Tafakkur Muraqbah

تفکر  اور مراقبہ

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ  اَنْفُسِھِمْ قف مَا خَلَقَ اللّٰہُ  السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی  ط وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآیِٔ رَبِّھِمْ لَکٰفِرُوْنَ۔(سورۃ روم۔8)
ترجمہ: کیا انہوں نے اپنے اندر فکر نہیں کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور جو کچھ ان میں ہے حق کے ساتھ اور مقررہ وقت تک، بے شک اکثر لوگ لقائے الٰہی (دیدارِ الٰہی) کو جھٹلاتے ہیں۔
اس آیت مبارکہ میں ﷲ پاک نے دعوتِ غور و فکر دی ہے کہ اپنے اندر تفکر اور غور و فکر کرو اور آسمانوں اور زمین میں کہ ان کے اندر جو کچھ پیدا فرمایا گیا ہے، وہ حق ہے اور مقررہ مدت تک کے لیے ہے۔

ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
تَفَکَّرُوْا فِیْ اٰیٰتِہٖ وَ لَا تَفَکَّرُوْا فِیْ ذَاتِہٖ  
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی آیات (نشانیوں) میں تفکر کرو مگر اس کی ذات میں تفکر مت کرو۔
تَفَکَّرُ السَّاعَۃِ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیْنِ  
ترجمہ: گھڑی بھر کا تفکر دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔
اَلذِّکْرُ بِلَا فِکْرِ کَصَوْتِ الْکَلْبِ   
ترجمہ: فکر کے بغیر ذکر کرنا گویا کتے کا بھونکنا ہے۔

کسی علم کو سیکھنے یا کسی چیز کو سمجھنے کے لئے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں تجسس پیدا ہوتا ہے کہ اس چیز کی اصلیت کیا ہے؟ یہ کیوں اور کس لئے ہے؟ اگر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی تفکر کیا جائے تو اس چھوٹی سی بات کی بڑی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی بڑی سے بڑی بات پر غور و فکر نہ کیا جائے تو وہ بڑی بات غیر اہم اور فضول بن جاتی ہے۔ تفکر سے ہمیں کسی شے کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے اورپھر تفکر ہی کے ذریعہ اس علم میں جتنی گہرائی پیدا ہوتی ہے اسی مناسبت سے اس چیز اور اس چیز کی صفات کے بارے میں ہم باخبر ہو جاتے ہیں۔ دنیا آج مادی اور سائنسی ترقی کے جس مقام پر کھڑی ہے اس کی بنیاد غور و فکر ہی ہے۔ ہر ایجاد، دریافت، منطق اور اصول کے پیچھے کسی سائنس دان، فلسفی یا مفکر کا غور و فکر اور تفکر موجود ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے:
اصل عبادت سوچ (غور و فکر) ہے۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

۱۔فقرِ قراں اختلاطِ ذکر و فِکر
فکر را کامل ندیدیم جز ذکر

۲۔ذکر؟ ذوق و شوق را دادن ادب
کارِ جان است ایں نہ کارِ کام و لب

۳۔خیزد از وے شعلہ ہائے سینہ سوز
با مزاجِ تو نمی سازد ہنوز
(جاوید نامہ)

ترجمہ: (۱)  فقر ِقران ذکر اور فِکر کا باہم اختلاط ہے۔ میں نے ذکر کے بغیر فکر کو کامل نہیں دیکھا (فکر سے مراد اپنی ذات کے اندر غور کرنا اور خودی کی پہچان حاصل کرنا ہے جبکہ ذکر سے مراد ذکر اسمِ اللہ ذات ہے۔ جب طالب ان دونوں خصوصیات کا حامل ہو جاتا ہے تو وہ صاحب ِ فقر ہو جاتا ہے)۔
(۲)  ذکر کیا ہے؟ ذوق و شوق کو ادب سکھانے کانام ہے اور یہ روح کا کام ہے، حلق اور ہونٹوں کا کام نہیں۔ یعنی اقبالؒ کے نزدیک ذکر وہ نہیں جو ہونٹوں یا زبان سے کیا جاتا ہے بلکہ ذکر سے مراد وہ ذکر ہے جو روح سے کیا جاتا ہے یعنی ذکرِ اسمِ  اللہ ذات۔
(۳) ذکر (ذکرِ اسمِ  اللہ ذات) سے سینے کو جلا دینے والے (عشق کے) شعلے اٹھتے ہیں لیکن تیرا مزاج ابھی تک اس ذکر سے موافقت نہیں رکھتا۔ گویا ذکرِاللہ سے پیدا ہونے والی عشق کی آگ ماسویٰ اللہ کو جلا ڈالتی ہے لیکن تو ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا۔ 

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
کسی علم یا چیز کو سمجھنے کے لئے جب ہم سوچ بچار کرتے ہیں تو اسے فکر، تفکر یا غور و فکر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ دنیا آج مادی اور سائنسی ترقی کے جس مقام پر کھڑی ہے اس کی بنیاد سائنس دانوں کا مادیت میں غور و فکر ہی ہے۔ ہر ایجاد اور دریافت کے پیچھے غور و فکر اور تفکر پنہاں ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی ذات کے اندر تفکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ (ترجمہ: کیا وہ اپنے اندر تفکر نہیں کرتے)۔ انسان جب اپنے اندر تفکر کرتا ہے تو اس راز تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حدیث ِ قدسی ہے اَلْاِنْسَانُ سِرِّیْ وَ اَنَا سِرُّہٗ (ترجمہ: انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں)۔ جب انسان اس رازسے آگاہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا محرم راز بنا لیتا ہے۔ اس لئے فقرا من میں ڈوبنے، تن کے حجرے میں جھانکنے اور اپنے اندر داخل ہونے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ مراقبہ بھی فکر اور تفکر ہی کا نام ہے۔ ابتدائی مراقبہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے ذہن کو اسمِ  اللہ ذات پر یکسو کیا جاتا ہے اور عارفین کا مراقبہ یہ ہے کہ کھلی آنکھوں سے ہر چیز کا نظارہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے ’’میں تیس سال تک اللہ تعالیٰ سے محوِکلام رہا اور لوگ یہ سمجھتے رہے کہ میں ان سے باتیں کر رہا ہوں۔‘‘

مراقبہ اور تفکر میں فرق

مراقبہ تفکر ہی کی ایک قسم ہے لیکن مراقبہ اورتفکر میں فرق صرف یہ ہے کہ مراقبہ کے لیے خلوت میں آنکھیں بند کرکے قلب کو ایک نکتہ پر یکسو کرنا اور اس نکتے پر تفکر کرنا ضروری ہے۔ جب اس طریقہ سے تفکر پختہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہ راز عیاں کر دیتا ہے جس کے بارے میں تفکر کیا جا رہا ہوتا ہے۔ جبکہ فکر یا تفکر کے لیے خلوت کا ہونا یا آنکھیں بند کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس میں طالب ہر لمحہ ہر آن، تنہائی میں، ہجوم میں، دنیا کے معاملات کے دوران بھی ایک ہی بات پر غور و فکر یا سوچ بچار کر رہا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس پر وہ راز عیاں کرتا چلا جاتا ہے جس کے بارے میں وہ تفکر کرتا رہتا ہے۔ یعنی کھلی آنکھوں سے ہر شے کو دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رازوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہ مراقبہ سے اعلیٰ مرتبہ ہے، آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ مراقبہ ابتدا ہے اور تفکر انتہا ہے۔ مراقبہ یا تفکر دراصل وہ غور و فکر ہے جس سے انسان اپنی روح کا علم حاصل کرتا ہے۔ یہ علم حاصل ہونے کے بعد انسان اپنی روح اور روح کے اللہ سے تعلق کی حقیقت جان جاتا ہے۔ فقر کا راستہ تفکر ہی کا راستہ ہے۔ تفکر سے ہی اس راہ کے راز کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے طالبِ مولیٰ ہمیشہ تفکر میں گم رہتا ہے اور ہر لمحہ تفکر کے ذریعہ نئی منزل حاصل کرتا ہے۔

مراقبہ 

مراقبہ عربی لفظ رَاقَبَہ سے مشتق ہے جس کے معنی نگرانی کرنا، نگاہ رکھنا، نگہبانی کرنا وغیرہ کے ہیں۔ اَلرَّقِیْبُ اللہ کے ننانونے اسمائے حسنہ میں سے ایک اسم ہے جس کے معنی نگہبان اور محافظ کے ہیں۔ اس لحاظ سے مراقبہ کے لغوی معنی نگہبانی کرنے کے ہیں۔ فقر و تصوف کی اصطلاح میں مراقبہ سے مراد قلب کا اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہو جانا ہے تاکہ دل غیر اللہ کے خیال اور فکر سے محفوظ رہے۔ درحقیقت مراقبہ دل کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے جس کے تحت بندے کے دِل کی نگرانی ہوتی رہتی ہے اور نفسانی اور شیطانی خطرات سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔ ہر مراقبے کا مدعا اور منشا یہ ہوتا ہے کہ غیر اﷲ دل میں نہ آنے پائے۔ مراقبہ وہ ذریعہ خاص ہے جو طالب کو مولا تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسے مراقبہ کو مشاہدہ کا نام دیا جاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ ﷲ علیہ فرماتے ہیں:

مراقبہ دِل کی نگہبانی ہے جو اللہ کے رقیب غیر حق کو دِل میں نہیں آنے دیتا جیسا کہ نفسانی و شیطانی خطرات، (باطنی) مرض اور پریشانیاں اور جو کچھ غیر ماسویٰ اللہ ہے۔ مراقبہ حق تک پہنچانے والے اور خاص مشاہدہ عطاکرنے والے عمل کو کہتے ہیں، مراقبہ نفسانی خیالات کو ختم کرنے کو کہتے ہیں۔ مراقبہ محبوب کی محبت کو کہتے ہیں، مراقبہ اللہ کے اسرار کے محرم ہونے، مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری پانے اور تجلیاتِ نورِ ذات کے علم سے واقفیت کو کہتے ہیں۔ (شمس العارفین)

مراقبہ میں انسان پرروحانی اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ صاحبِ مراقبہ اﷲ کے نور کا مشاہدہ کرتا ہے، اُسے دیدارِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک لمحہ بھی تجلیاتِ ذات کے مشاہدہ اور دیدار سے نہیں رکتا خواہ ظاہر میں لوگوں سے بات چیت ہی کیوں نہ کرتا ہو اور دنیاوی زندگی میں مصروف کیوں نہ رہتا ہو، اسے باطن میں ہمیشہ دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

مراقبہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا نام ہے جو مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا  کے لازوال مقامِ حی قیوم میں استغراق کا رہنما ہے، جو حضوری کے حال احوال اور سر اسرار کی سیر کرا کے صاحبِ مشاہدہ بناتا ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مشرف کراتا ہے۔ (عین الفقر)

مراقبہ میں استغراق کی کیفیت بظاہر خواب سے ملتی جلتی ہے اور عام طور پر احوال بھی یکساں ہوتے ہیں۔ البتہ خواب میں دل کی نگہبانی و حفاظت میں اس قدر احتیاط نہیں رہتی اس لئے مراقبہ خواب سے زیادہ قوی اور کہیں زیادہ غالب ہوتا ہے۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
خواب اور مراقبہ کے احوال ایک جیسے ہوتے ہیں البتہ مراقبہ خواب سے زیادہ غالب ہوتا ہے۔ خواب دیکھنے والا شوروغل اور اونچی آواز سن کر نیند سے بیدار ہو جاتا ہے لیکن اگر کسی پر مراقبہ غالب آ جائے تو وہ نورِ وحدانیت ِ ذات اور حضوری کے مقامات کے مشاہدہ میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ اگر اس حال میں صاحبِ مراقبہ کا سر اس کے تن سے جدا بھی کردیا جائے تو اسے ہرگز خبر نہیں ہوتی۔ پس معلوم ہوا مراقبہ موت کی مثل ہے، ایسے مراقبۂ موت میں صاحبِ مراقبہ حضوری میں باشعور رہ کر جواب با صواب پاتا رہتا ہے۔ مراتبِ مراقبہ اور معرفتِ مراقبہ سے صاحبِ مراقبہ کو معرفتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے اور وہ عارف باللہ بن کر نور سے سرفراز ہوتا ہے۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضَوْا عَنْہُ  (سورۃ البینہ۔8)
ترجمہ: اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔
اور وہ اللہ کی دوستی پر راضی رہتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً۔ج فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۔لا وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔  (سورۃ الفجر28-30)
ترجمہ:لوٹ اپنے ربّ کی طرف، وہ تجھ سے راضی ہوا اور تو اس سے راضی ہوا۔ پس میرے بندوں میں شامل ہوکر میری جنتِ قرب میں آجا۔

صاحبِ مراقبہ اللہ کے رازوں کا محرم ہوتا ہے۔ صاحبِ مراقبہ کی بیداری نیند کی مانند ہوتی ہے اور وہ نیند میں بھی بیدار اور ہوشیار رہتا ہے۔ وہ مشاہدۂ حق اللہ تعالیٰ کے سوا غیر کی طرف دیکھنے سے ہزار بار استغفار کرتا ہے کیونکہ خدا پروردہ بہت زیادہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی غَیُّورٌ وَ یُحِبُّ الْغَیْرَۃِ وَلِغَیْرَتِہٖ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ظَاہِرَھَا وَ بَاطِنَھَا 
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ غیور ہے اور غیرت کو پسند کرتا ہے۔ اپنی غیرت کے سبب اس نے تمام ظاہر و پوشیدہ بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے۔
مراقبہ کے ذریعے محبین اور محققین کو اللہ کی محبت، معرفت، ملاقات اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے مراتب نصیب ہوتے ہیں۔ مراقبہ کے ان مراتب سے مردہ دل والا مردود ہی محروم رہتا ہے جبکہ زندہ دل صاحب ِ غیب ہو جاتا ہے۔ (شمس العارفین)

مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے ذکر و فکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ ذکر ِقلبی کلمہ طیب کا بھی ہو سکتا ہے، کسی آیت یا اسمِ اللہ ذات کا بھی ہو سکتا ہے یا ننانوے اسمائے حسنہ میں سے کسی اسم کا۔ ذکر کے ساتھ اسمِ اللہ ذات کا تصور کرنا بھی ضروری ہے۔ جب اس طریقہ سے باقاعدگی سے مراقبہ کیا جائے تو ذکر، فکر اور تصور اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ پھر مراقب کو آنکھیں بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن مراقبہ وہی اور اسی طرح کرنا چاہیے جس طرح مرشد عطا کرے۔ مرشد کی اجازت کے بغیر مراقبہ کرنا کارِ بے کار ہے۔

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اﷲ علیہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:
مراقبہ کی بہت سی اقسام ہیں: مراقبۂ ذکر فکر، مراقبۂ حضور مذ کور، مراقبہ ٔ فنا فی الشیخ، مراقبۂ فنا فی ھوُ، مراقبۂ فنا فی فقر، مراقبہ فنا فی محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، مراقبۂ فنا فی النفس، مراقبۂ فنا فی نودنہ اسمائے باری تعالیٰ۔ (عین الفقر)

مراقبہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں:
باطنی تحقیقات کی رُو سے وہ مراقبہ کہ جس میں باطل شیطانی، خطراتِ نفسانی اور حادثاتِ دنیا فانی سے پیدا ہونے والے وہمات نہ پائے جاتے ہوں اور ذکر و فکر و کلماتِ تسبیح کے ذریعے بالکل صحیح ہو، یہ ہے کہ جب طالبِ ﷲ باطن کی طرف متوجہ ہو کر تصورِ اسمِ اللہ ذات سے مراقبہ شروع کرے تو اُسے چاہیے کہ پہلے تین بار بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، تین بار درود شریف، تین بار آیۃ الکرسی، تین بار سَلٰمٌ قف  قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِیْمٍ، تین بار چاروں قل شریف، تین بار سورۃ فاتحہ، تین بار استغفار، تین بار کلمہ تمجید اور تین بار کلمہ طیب  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  پڑھ لے اور پھر اپنی نظر اسمِ اللہ ذات اور اسم محمد  پر ٹکا دے۔ اس کے بعد آنکھیں بند کر کے مجلسِ انبیا و اولیا اﷲ اور معرفتِ اِلَّا ُ کی نیت کر لے تو مرشد کامل بے شک اپنی رفاقت میں اُسے حضورِ مجلس میں پہنچا دے گا۔ (مجالسۃ النبیؐ خورد) 

اپنی کتاب محک الفقر (کلاں) میں آپؒ نے مراقبہ کی تین منازل بیان کی ہیں؛ پہلا مراقبہ مبتدی جس میں استغراق حاصل ہوتا ہے اور طالب روشن ضمیر ہو جاتا ہے، دوسرا مراقبہ متوسط جس میں استغراق اس حد تک جا پہنچتا ہے کہ طالب ظاہر کے عوامل سے بالکل بے خبر ہو جاتا ہے اور تیسرا مراقبہ منتہی جس میں نورِ وحدانیت ذات کے مشاہدہ میں غرق ہو جاتا ہے۔ 

مراقبہ کے باطنی فیوض و برکات بیان کرتے ہوئے حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
جب کوئی علمِ مراقبہ کا مطالعہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کے دِل میں اللہ کی محبت بڑھتی ہے۔ اس محبت سے اس پر سات مجالس کھلتی ہیں جس میں وہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک تمام انبیا کی ارواح کو دیکھتا ہے۔ یقین کے ساتھ حاصل ہونے والے علمِ مراقبہ کا یہ ابتدائی سبق ہے۔ مراقبۂ اسمِ اللہ ذات مراقبہ کرنے والے کو مشاہداتِ حضوری عطا کر کے لاھوت لامکان تک پہنچا دیتا ہے۔ ذکر و فکر کے دوران حبسِ دم کرنے والا شخص مراقبہ کی قدر و قیمت نہیں جانتا، وہ تو حیوانات کی مثل بیوقوف، حیرت زدہ اور پریشان حال ہوتا ہے۔ مراقبہ کی مزید شرح یہ ہے کہ مراقبہ موت کے قریب ہے۔ جو شخص اسمِ  اللہ ذات کے تصور میں مشغول ہو کر توجہ سے مراقبہ کرتا ہے اسے مرتبۂ موت کے تمام احوالات کا مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے۔ وہ (دورانِ مراقبہ) جان کنی، قبر کی حقیقت، منکرو نکیر کے سوالات اور قیامت کے دن کی حساب گاہ کو دیکھ لیتا ہے اور سلامتی سے پل صراط سے گزر کر جنت میں چلا جاتا ہے۔ حورو قصور کا نظارہ دیکھ کر پروردگار کے دیدارِ پرُ انوار سے مشرف ہو جاتا ہے۔ (مراقبہ کا حاصل یہ ہے کہ) اہلِ مراقبہ حق الیقین کے ساتھ اللہ کی ذات سے واصل ہو جاتے ہیں۔ (شمس العارفین)
راہِ سلوک میں جب طالب مختلف منازل طے کرتا ہے تو اسے اپنی ہر منزل پر اسی منزل کی مناسبت سے مشاہدات حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
چار منازل پر چار قسم کا مراقبہ ہے۔ مراقبۂ شریعت کا تعلق اطاعت، عبودیت اور مشاہدۂ ناسوت سے ہے، مقامِ ناسوت پر صاحب ِ مراقبہ جو بھی دیکھتا ہے محض دنیا دیکھتا ہے۔ دوسرا مراقبہ مقامِ ملکوت پر ہے جو ورد و وظائف کے ذریعے فرشتوں جیسی پاکیٔ تن حاصل کرنے والوں اور ملکی صفات کے حامل لوگوں کا مراقبہ ہے۔وہ مراقبہ میں جو کچھ دیکھتے ہیں مقامِ ملکوت سے دیکھتے ہیںاور فرشتوںکی صفات سے متصف ہوتے ہیں۔ تیسرا مراقبہ اہلِ جبروت کا ہے جو اہل ذکرِ اللہ ہیں۔ وہ جو بھی مشاہدہ کرتے ہیں مقامِ جبروت سے کرتے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہیں۔ چوتھا مراقبہ مقامِ لاھوت کا ہے جو اہلِ معرفت کو حاصل ہے۔ انہیں جو بھی مشاہدہ ہوتا ہے مقامِ لاھوت سے ہوتا ہے۔ پانچواں مراقبۂ حضور غرق فنا فی اللہ ہے جو مقامِ ربوبیت کا مراقبہ ہے۔ اس مراقبہ میں مشاہدۂ ربوبیتِ توحیداور حق تعالیٰ کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ پس اسی مقام کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (سورۃ الرحمن29-)
ترجمہ: وہ(اللہ) ہر روز ایک نئی شان سے ظاہر ہوتاہے۔

اور یہی اس مقام کے صاحبِ مراقبہ کا مکان ہے۔ (عین الفقر)

آپؒ مزید ارشاد فرماتے ہیں:
اگر طالب مراقبہ میں خود سے بیگانہ ہو جائے اور پھر مراقبہ سے باہر آ کر جو کچھ مراقبہ میں مشاہدہ کیا اسے پل بھر میں بھول جائے تو جان لے کہ یہ سب الوہیتِ عین ذات کی طرف سے ہے۔ یہ مراتب اس عاشق دیوانے کے ہیں جو اپنی جان سے بیگانہ ہو کر پروانے کی طرح آگ میں جل رہا ہو۔ یہ بھی درمیانہ درجہ کا مراقبہ ہے، ابھی (طالب کو) وحدت اور حق تعالیٰ سے یگانگی نصیب نہیں ہوئی، وہ شانے پر بکھری زلفوں کی طرح (پریشان) ہے اور ابھی خام و ناتمام ہے۔ مراقبہ سمندر میں غوطہ لگانے والے غواص کی طرح ہونا چاہیے کہ ہر سانس کے ساتھ موتی نکال لائے۔ (عین الفقر)

حضرت سخی سلطان باھوؒ مراقبہ کا ذکر کرتے ہوئے شمس العارفین میں فرماتے ہیں کہ مراقبہ سے اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ آپؒ سب سے اعلیٰ مراقبہ اسمِ اللہ ذات (اسمِ ھوُ) کے مراقبہ کو قرار دیتے ہیں کیونکہ صرف اسی سے طالب لاھوت لامکان میں پہنچ کر دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوتا ہے اور اِسی مراقبہ سے طالب کو معراج حاصل ہوتی ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
مراقبہ کے دوران جب (مراقبہ کرنے والا) اسمِ اللہ ذات کو دیکھتا ہے تو اسمِ اللہ ذات اسے عین ذات کے مقام پر پہنچا دیتاہے اور وہ اپنے مطلوب کو اپنے ہی اندر دیکھ لیتا ہے۔ پھر وہ مراقبہ میں اس قدر غرق ہو جاتاہے کہ اسے نہ ذکر، فکر یاد رہتاہے نہ دم قدم، نہ راحت وغم، نہ فقر و فاقہ، نہ نفس و ذائقہ، نہ حضور مذکور، نہ بعد و دور، نہ قدر و قضا اور نہ حرص وہوا یاد رہتے ہیں۔ پس وہ کس مقام پر پہنچا ہے اور اُسے کیا یاد رہتا ہے؟ صرف ذوق، شوق اور محبت۔ عاشق جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کا ہر کام بالکل مکمل ہوجاتاہے۔ ذکر اور فکر اس پر حرام ہوجاتاہے اور وہ جو بھی دیکھتاہے خاص ہی دیکھتا ہے۔  (عین الفقر)

جو شخص خواب یا مراقبہ میں جنت میں داخل ہو کر جنت کا کھانا کھائے اور جنت کی نہر کا پانی پئے اور حور و قصور کا نظارہ دیکھے تو خواب یا مراقبہ سے باہر آنے کے بعد اسے تمام عمر کھانے پینے کی حاجت نہیں رہتی۔ بھوک اور پیاس کا احساس اس کے وجود سے ختم ہو جاتا ہے اور اس کی آنکھوں میں زندگی بھر نیند نہیں آتی اگرچہ وہ ظاہری طور پر سوتا ہوا نظر آئے۔ وہ ایک ہی وضو سے تمام عمر گزار دیتا ہے، اس کے وجود میں اس قدر قوت و توفیق پیدا ہوتی ہے کہ رات دن اس کا سر سجدہ سے فارغ نہیں ہوتا اور وہ روز بروز طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ بظاہر وہ جو کچھ کھاتا پیتا ہے محض مخلوق کی ملامت سے بچنے اور ان سے پوشیدہ رہنے کی غرض سے۔ موسمِ گرما اور موسمِ سرما اس کے لیے برابر ہو جاتے ہیں اور گرمی و سردی اسے کچھ مزہ نہیں دیتیں۔ یہ بھی خام اور ناقص درویش کے مراتب ہیں۔ فقیر کو ان مراتب سے شرم اور حیا آتی ہے اور یہ مراتب فقرِ محمدیؐ سے بہت دور ہیں کیونکہ ان کا تعلق خواہشِ نفس سے ہے۔ اس مرتبہ کی انتہا یہ ہے کہ طالب مراقبہ یا خواب میں لقائے ربّ العالمین سے مشرف ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر اس (ذات کے دیدار) کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ اس کے وجود میں معرفتِ توحید، ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور طلبِ محبت سے اس قدر آگ پیدا ہوتی ہے کہ اس کی جلالیت و غضب کے باعث وہ رات دن عبادت کے ذریعے نفس پر قہر برسانے میں مشغول رہتا ہے۔ وجود پر شریعت کا لبادہ اوڑھتا ہے اور ہمیشہ شریعت کی پیروی کرتا ہے اور کہتا ہے:
تَفَکَّرُوْا فِیْ نِعْمَآئِہٖ وَ لَا تَفَکَّرُوْا فِیْ ذَاتِہٖ 
ترجمہ: اللہ کی نعمتوں میں تفکر کرو اس کی ذات میں تفکر نہ کرو۔ (کلید التوحید کلاں)

آپؒ نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیفِ لطیف عین الفقر میں مراقبہ کے سات مراتب بیان فرمائے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:
مراقبہ کے سات مراتب ہیں۔ پہلا جاہل کا مراقبہ جو جنگل و بیابان میں بھٹکنے کی طرح ہے۔ دوسرا ہلِ بدعت و سرود کا مراقبہ جو دجال کے استدراج کی طرح ہے۔ تیسرا مراقبۂ ذکرہے جس میں مراقبہ کرنے والا ذکر کے مراتب سے گزر کر صاحبِ حال ہو جاتا ہے۔ چوتھا مراقبہ صاحبِ فکر کا ہے جس کے احوال اہلِ تفکر کو نصیب ہوتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
تَفَکَّرُ السَّاعَۃِ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیْنِ 
ترجمہ: ایک لمحے کا تفکر دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔

پانچواں مراقبۂ کامل کمال ہے جس میں عرفانِ ذات کا مشاہدہ کر کے طالب عارف باللہ ہو جاتا ہے۔ چھٹا مراقبۂ مکمل ہے جس میں معارف اہلِ روح اللہ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ساتواں مراقبۂ فقرِ لازوال ہے جو صاحبِ مراقبہ کو   اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  کے مقام پر پہنچا کر فنا فی اللہ اور عین ذاتِ توحید کی وحدانیت میں غرق کر دیتا ہے۔ مراقبۂ فقر تمام عظیم پیغمبروں کے مراقبوں سے بہتر ہے کہ تمام پیغمبروں کا فخر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فخر ’’فقر‘‘ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ الْفَقْرُ مِنِّیْ 
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔ (عین الفقر)

مراقبہ میں طالب کو مختلف مناظر بکثرت نظر آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی تصانیف میں ان مناظر کی تشریح فرمائی ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں: 

جس شخص کو خواب یا مراقبہ میں اہلِ کفار اور اہلِ زنار نظر آئیں تو جان لو کہ اس پر مقامِ نفس کھلا ہوا ہے یا ابھی تک اس پر کلمہ کی ابتدا  لَآ اِلٰہَ  بھی نہیں کھلی یا شیطان اسے ہرروز کفار کی مجلس دکھاتاہے تاکہ طالبِ مولیٰ کا دل سرد ہو جائے اور وہ اللہ کی راہ سے رک جائے۔ اسے چاہیے کہ سونے سے پہلے اور مراقبہ کرتے وقت درودشریف اور لَاحَوْلَ  کو اپنا ورد بنائے تاکہ خطرات اور وسوسۂ شیطانی ختم ہو جائیں اور اس کا ضمیر روشن ہو جائے۔ (عین الفقر)

اگر کسی کو مراقبہ میں جانور، مال و جاہ، سونا چاندی نظر آئیں توجان لو کہ یہ مراقبۂ حیوانی ہے اور اس کا تعلق ناسوت سے ہے۔ ابھی وہ شخص طلبِ دنیا کے صحرا میں بھٹک رہا ہے اور اس پر ذکرِ  اللہ کی تاثیر نہیں ہوئی۔ اس کا علاج یہ ہے کہ وہ طلبِ دنیا کو ترک کر کے دونوں جہانوں کی لذ ّات سے نجات حاصل کر لے۔ اگر کسی کو مراقبہ کے دوران بہشت کی مثل باغ اور باغیچے، دریا کا پانی، سبزہ کی بہار، بلند وبالا مکانات اور محلات اور حورو قصور نظر آئیں تو جان لو کہ اس کے دل پر میل، کثافت اور زنگ لگا ہواہے جو مرشد کامل اکمل کی نگاہ کے بغیر صاف نہیں ہو سکتا۔ ابھی اس کے دل کے گرد خناس اور خرطوم موجود ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ اس کا ذکرِسلطانی بھی اصل نہیں ہے۔ خاص اور اصلی ذکر کی کیا پہچان ہے؟ خاص ذکرِ اللہ جس شخص کا وردِ زبان ہو اس کی زبان سے ذکر اللہ، اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات اور اولیا کے ذکر کے سوا کوئی اور بات نہیں نکلتی۔ وہ اپنی آنکھ سے کسی غیر اور نامحرم کو نہیں دیکھتا کیونکہ نامحرم کو دیکھنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور اسے اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے شرم وحیا آتی ہے۔ (عین الفقر) 

مراقبہ سے چار قسم کا مشاہدہ حاصل ہوتاہے۔ جو شخص ظاہر میں صبح شام عبادت، ذکر، فکراور مراقبہ میں مشغول رہتا ہے لیکن باطن میں اس کا دل دنیا کی محبت میں مبتلا ہے وہ ظاہر باطن میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ سب ناسوتی، فانی اور جھوٹ ہے ۔ جو شخص ظاہر اور باطن میں اللہ کے ذکر، فکر، عشق اور محبت میں جان صرف کر دیتاہے وہ ظاہراور باطن میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ سب توحید ِ باری تعالیٰ کا مشاہدہ ہے۔ تیسری قسم کا مشاہدہ اس شخص کا ہے جسے باطن اور ظاہر میں اللہ تعالیٰ کا خوف رہتا ہے، وہ جو بھی مشاہدہ کرتا ہے اس میں اہل ِ جنت کو دیکھتا ہے۔ چوتھی قسم کا مشاہدہ ظاہر اور باطن میں تارکِ نماز اور اہلِ شرب کو ہوتاہے۔ وہ مشاہدہ میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ سراسر خواب و خیال، اس کے ظالم نفس اور زوال دلانے والے شیاطین کا شیطانی استدراج ہوتاہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
کُلُّ شَیْئٍ یَرْجِعُ اِلَی اَصْلِہٖ 
ترجمہ: ہر چیز اپنے اصل کی طرف رجوع کرتی ہے۔ (عین الفقر) 

صاحبِ مراقبہ کے مراتب بیان کرتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں:
جان لے کہ مراتبِ مراقبہ یہ ہیں کہ صاحبِ مراقبہ دائمی حضوری میں رہتا ہے۔ مراقبہ کسے کہتے ہیں؟ مراقبہ کے مراتب بہت ہی عظیم ہیں کیونکہ یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قدیم باطنی راہ ہے جس میں ہدایتِ الٰہی اور صراطِ مستقیم ہے ۔ صاحبِ مراقبہ کا مراقبہ اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ تصور اسمِ اللہ ذات کے ساتھ مراقبہ میں داخل اور خارج نہ ہو۔ مراقبہ خاص الخاص درجات کی اصل اور بنیاد ہے۔ صحیح مراقبہ وہ ہوتا ہے جس میں اسمِ  اللہ ذات کے ساتھ ذکر، فکر اور تسبیح کی جائے۔ صاحبِ مراقبہ باطن اور خواب میں جو بھی مشاہدہ کرتا ہے دراصل اللہ کی معرفت اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دیکھتا ہے اور انبیا و اولیا اللہ کی مجلس میںاُن سے ملاقات کرتا ہے۔ جو مراقبہ کے ذریعے یہ دو مراتب بطور دو گواہ حاصل نہیں کرتا اس کا مراقبہ غلط ہے بلکہ وہ مراقبہ سے کوئی راہ نہیں پاتا۔ مراقبہ ایسا نگہبان اور محافظ ہے جو نفس، شیطان اوردنیا کی پریشانیوں اور خطرات سے بچاتا ہے اور منزل بہ منزل، مقام بہ مقام طے کرواتا ہوا معرفتِ اِلَّا اللّٰہ  میں غرق کرکے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچا دیتا ہے۔ تحقیق کے طریقہ سے اس طرح کا صاحبِ مراقبہ جس وقت چاہتا ہے حضوری سے مشرف ہو جاتا ہے۔ عارف باللہ کا مراقبہ خیریت سے مکمل ہوتا ہے اور اس کا باطن معمور ہوتا ہے جس پر اسے مبارک ہو۔ (شمس العارفین)

تفکر

حضرت سخی سلطان باھوؒ تفکر کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
تفکر کے چار حروف ہیں: ت، ف، ک، ر۔ حرف ’ت ‘سے ترکِ ہوا، حرف ’ف‘سے فنائے نفس، حرف ’ک‘ سے کرامتِ روح اور حرف ’ر‘ سے رازِ حق۔ جس تفکر سے ترکِ ہوا و فنائے نفس نہ ہو اور کرامتِ روح و رازِ حق واضح نہ ہوسکے اُسے تفکر نہیں کہا جا سکتا۔ صاحبِ تفکر کی پہچان کیا ہے؟ یہ کہ وہ اپنے معبود کے اسمِ اللہ ذات میں تفکر کرتا ہے جس کی برکت سے اُس سے کسی قسم کا گناہ سرزد نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ راہِ راست پر قائم رہتا ہے۔ صاحبِ تفکر کی اور کیا نشانی ہے؟ یہ کہ وہ ہر دم ذکرِاسمِ  اللہ ذات میں غرق رہتا ہے جس سے اُس کے دِل میں کسی قسم کا نفاق باقی نہیں رہتا اور وہ باطن صفا ہو جاتا ہے۔ صاحبِ تفکر کی مزید پہچان کیا ہے؟ یہ کہ صاحبِ تفکر اسمِ  اللہ ذات کے ذکرمیں غرق ہو کر ماسویٰ اللہ کے نقوش پر خط ِتنسیخ کھینچ دیتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

جب مرشد طالبِ اللہ کو اسمِ  اللہ ذات کے تصور و ذکر کا تفکر بخشتا ہے اور طالب اپنی خودی سے دست بردار ہو کر بے خود ہوجاتا ہے اور جب خواب نما تفکر کے اُس مراقبہ میں دنیا و عقبیٰ اور کونین کی زیب و زینت اُس کے سامنے لائی جاتی ہے تو وہ اشتغالِ اللہ میں پیش آنے والے اسمِ اللہ ذات کے انوار کو دونوں جہان سے بہتر سمجھتا ہے اور اُس کے مقابلہ میں دونوں جہان کو کمتر سمجھتا ہے۔ یہاں پر اسمِ  اللہ ذات کا غیر مخلوق نور مخلوق انسان کو اپنی طرف اس شان سے کھینچتا ہے کہ اُسے غیر ماسویٰ اللہ کی طرف جانے ہی نہیں دیتا۔ اُس کا سارا اختیار چھین کر حق الحق مختار کے تابع کر دیتا ہے۔  اٰمَنَّا وَصَدَقْنَا  یعنی ہم نے مانا اور اس کی تصدیق کی۔ جو آدمی اس بات کا انکار کرتا ہے وہ وحدتِ ربانی کا انکار کرتا ہے۔ تفکر اولیا اللہ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ تفکر کی صورت سرّ کی سی ہے اور آدمی کے وجود میں ایمان کی صورت اسمِ اللہ ذات کے نور کی سی ہے۔ اولیا اللہ جب انتقال کرتے ہیں تو اُن کے ایمان کی صورت اُن کے جسم سے باہر آجاتی ہے اور اہلِ جنازہ کے ساتھ مل کر اپنا جنازہ خود پڑھتی ہے۔ عارفانِ الٰہی اور اولیا اللہ کے علاوہ ایمان کی اُس صورت کو کوئی نہیں جانتا۔ جس روحِ پاک کی صورتِ ایمان ایسی ہو اُسے یومِ حشر کے حساب کتاب کا کیا خطرہ؟ فرمانِ حق تعالیٰ ہے ’’خبردار! بے شک اولیا اللہ پر کوئی خوف ہے نہ غم۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر وقت تفکر میں غرق رہتے تھے اور شجرۃ النور مغفور کی صورت میں ہر وقت معراجِ حضور سے مشرف رہتے تھے۔ اُن کی یہ کیفیت خلقِ خداوندی میں مشہور ہے۔ عالمِ غیب کے ان عجائبات میں شک نہ کر کہ یہ راہِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نتیجہ ہیں۔ جو ان میں شک کرے وہ کافر ہے۔ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ جو آدمی ایمان اور صورتِ ایمان جو نورِ اسمِ  اللہ ذات ہے، پر یقین نہیں رکھتا وہ محض اپنے ایمان کو برباد کرتا ہے اور وہ منافق و بے ایمان ہے۔ تفکر کی شرح یہ بھی ہے کہ جب کوئی صاحبِ تفکر غرق فنا فی اللہ کے انتہائی تفکر کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اسمِ اللہ ذات کی معیت میں دائمی سلامتی کے مراتب پر پہنچ جاتا ہے اور اُس کی برکت سے دونوں جہان سلامت رہتے ہیں۔ (محک الفقر کلاں)
تفکرِ طلبِ مولیٰ کا مرتبہ یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے ’’گھڑی بھر کا تفکر دونوں جہان کی عبادت سے افضل ہے۔‘‘ (محک الفقر کلاں)

تفکر بھی تین قسم کا ہے: ابتدائی درجے کا تفکر، درمیانے درجے کا تفکر، انتہائی درجے کا تفکر۔
 ابتدائی درجے کا تفکر ایک سال کی عبادت سے افضل ہے کہ اُس میں صاحبِ تفکر جب ذکر فکر شروع کرتا ہے تو ابتداہی میں اس پر شدید خوفِ موت طاری ہو جاتا ہے اور وہ موت کے خیال سے کسی وقت بھی فارغ نہیں ہوتا۔ حیاتِ دنیا سے اُمید توڑ بیٹھتا ہے اور ہر دم ہر گھڑی خود کو مسافر گر دانتا ہے۔

خاص خلوت خانہ باشد قبور
از جدائی خلق بہ خالق حضور
عارفاں را قبر از حق شد خبر
شد وجود ذاکر عارف سر بہ سر 

ترجمہ: عارفوں کی قبریں اُن کے لیے خاص خلوت گاہ ہوتی ہیں جہاں وہ خلق سے جدائی اختیار کرکے معیتِ خالق اختیار کیے رہتے ہیں۔ قبر عارفوں کو ذاتِ حق کی آگاہی بخشتی ہے کہ قبر میں پہنچ کر عارف کا سارا وجود ذاکر بن جاتا ہے۔

عزرائیل علیہ السلام عارفوں کے ان احوال سے بے خبر رہتے ہیں کہ اولیا اللہ فقیر مرتے نہیں بلکہ وہ دائمی حیات پا کر ہر وقت اسمِ اللہ ذات کے نور میں غرق رہتے ہیں۔ جس آدمی کو تصورِ اسمِ اللہ ذات سے ایسی زندگی نصیب ہو جاتی ہے وہ غرقِ تجلیات ہو کر فنا فی اللہ ذات ہو جاتا ہے اور ہر وقت خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے ’’جو جتنا بڑا عارف ہوتا ہے اُتنا ہی عاجز ہوتا ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ عارف کبھی خوف کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی اُمید کی حالت میں۔ وہ غیر و غیریت سے نکل کر ہر وقت حیرت میں ڈوبا رہتا ہے، اُس کی یہ حیرت حضوریٔ حق کی وجہ سے ہوتی ہے۔ 

۱۔ذکر فکر سیرے از اسرارِ حق
زیر پائے ذاکرانش نہ طبق

۲۔نظر بالا عرش تر نہ یک مقام
ناظرے بہ ایں نظر ذاکر تمام

۳۔ہر کرا از دیدہ دِل واز شد
درمیانِ ذاکراں شہباز شد

۴۔باھوؒ! درمیان شیر و روباہ دور تر
شغال روباہ را بود پس با نظر

ترجمہ: (۱) ذکر و فکر سے اسرارِ حق کی وہ سیر نصیب ہوتی ہے کہ نو(9) طبق ذاکر کے قدموں کے نیچے آجاتے ہیں۔
 (۲) ذاکر کی نظر بالائے عرش چلی جاتی ہے جہاں سے نو (9) طبق محض ایک مقام نظر آتے ہیں۔ جس ذاکر کو ایسی نظر حاصل ہو جائے وہ ذاکرِ کامل کہلاتا ہے۔
(۳) جس ذاکر کی چشم ِدِل روشن ہو جاتی ہے وہ ذاکروںکا شہباز کہلاتا ہے۔
(۴)اے باھوؒ! شیر و لومڑی میں بڑا فرق ہے۔ گیدڑ و لومڑی کی نظر ہمیشہ پستی پر رہتی ہے۔

درمیانے درجے کا تفکر وہ ہے کہ جس سے ذکرِسلطانی پیدا ہوتا ہے جسے سیرسرّ مشاہدہ نور اللہ مطلق رحمانی کہتے ہیں۔ اس تفکر میں سب سے پہلے وہ ذکر کھلتا ہے جس سے سات و لائتوں کی بادشاہی ہاتھ آتی ہے۔ اس کے بعد ذکر ِسلطانی کھلتا ہے جس کا ذاکر سلطان العارفین، سلطان الواصلین، سلطان التارکین، سلطان الصابرین، سلطان العالمین، سلطان العاملین، سلطان العاشقین اور سلطان الذاکرین کہلاتا ہے۔ سلطان الذاکرین کی نشانی کیا ہے؟ یہ کہ ذکرِسلطانی مطلق عین العیانی (ذاتِ حق کو بلا حجاب دیکھنے) کاعمل ہے بلکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی قدرت و سرِسبحانی ہے کہ سلطان الذاکرین خطراتِ شیطانی اور وہماتِ نفسانی سے فارغ ہوتا ہے کیونکہ اس ذکر کا تعلق روح سے ہے اور صاحبِ روح کو رنج و زحمت و بلا بھی خوشگوار لگتی ہے اور وہ اس طرح خوش ہوتا ہے جس طرح بچے اور لڑکے مٹھائی و حلوا کھا کر خوش ہوتے ہیں۔ ایسے ذاکر کے دِل کو مضبوط دِل کہتے ہیں۔ دِل بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ اہلِ محبت کا دِل پہاڑ کی مثل ہوتا ہے۔ وہ ہلتا ہے نہ لرزتا ہے۔ صدیقین کا دِل مضبوط جڑ والے درخت کی مثل ہوتا ہے جو زمین شوق سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ عاشقوں کا دِل درخت کے پتوں کی مثل ہوتا ہے جو عشق کی گرمی و حرارت اور بادِ خزاں کے تھپیڑے کھا کھا کر کبھی برہنہ اور کبھی پوشیدہ ہوتا رہتا ہے۔ اس دِل کی بہار وصالِ یار سے ہے۔ بے یار بہار کس کام کی؟ جو دِل ذکرِ اللہ کے شغل میں محو رہتا ہے وہ معیتِ پروردگار میں غرق رہتا ہے اور جو دِل نجاستِ کفر سے آلودہ ہو کر مر جاتا ہے وہ اپنے گلے میں زنار پہنے رہتا ہے۔ ایسے دِلوں سے ہزار بار توبہ استغفار۔ صاحبِ معرفت کے لیے ضروری ہے کہ وہ چشمِ معرفت حاصل کرے۔ ایسی آنکھ کہ جس کی بینائی اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ کر کے باخدا ہوسکے۔ اگرچہ چشمِ معرفت دیگر چیز ہے لیکن اس میں لوگوں کی دلداری کا پورا پورا سامان ہے۔ عارف جس چیز کی طرف بھی دیکھتا ہے اُس میں نورِ الٰہی ہی دیکھتا ہے، وہ حسنِ خلق کو نہیں دیکھتا کہ حسنِ خلق پر نظر رکھنا گمراہی ہے۔ اے صاحبِ علم! معرفتِ الٰہی حاصل کر تاکہ معرفت تجھے کُنْ فَیَکُوْنَ  کے مرتبے پر پہنچا دے۔ یہ پیشہ و فکر اندیشہ ذکرِسلطانی سے حاصل ہوتا ہے اور ذکرِ سلطانی اُس ذکر کو کہتے ہیں جس میں تمام وجود ذکرِاللہ سے معمور ہو جاتا ہے اور وجود کے اندر گمراہی اور گناہ کا عمل دخل ختم ہوجاتا ہے۔ ذکرِسلطانی چار اذکار کا مجموعہ ہے یعنی ذکرِزبان، ذکرِقلب، ذکرِروح اور ذکرِسرّ۔ ذکرِسلطانی میں گھڑی بھر کا تفکر ستر سال کی عبادت سے افضل ہے اگرچہ اس تفکر میں کبھی غیرت، کبھی حیرت، کبھی جذبِ جلالی اورکبھی وجدِجمالی کا غلبہ رہتا ہے۔ ان حالات میں صاحبِ مشاہدہِ وصال کو خبردار رہنا چاہیے کہ اس مقام پر غلباتِ ذکر اور انتہائے سکر کی وجہ سے کفر و شرک و اَنا کا غلبہ ہو جاتا ہے جس سے بعض طالب اَنا کی مستی میں گرفتار ہو کر ابلیس کی طرح راندہ ِ درگاہ ہو جاتے ہیں۔ اس راہ میں ثابت قدم رہنے کے لیے لازم ہے کہ صاحبِ تفکر کی نظر اسمِ اللہ ذات اور حق الیقین کے مرتبے پر رہے۔

انتہائی درجے کا تفکر یہ ہے کہ جو فقیر چار افکار یعنی فکرِازل، فکرِابد، فکرِدنیا، فکرِعقبیٰ اور چار اذکار یعنی ذکرِزبانی جو محض عادت ہے، ذکرِقلبی جو ارادت ہے، ذکرِروحی جو عبادت ہے، ذکرِسری جو عین سعادت ہے اور چار دموں یعنی دمِ ناسوت، دمِ ملکوت، دمِ جبروت، دمِ لاھوت اور چار نفسوں یعنی نفسِ امارہ، نفسِ ملہمہ، نفسِ لوامہ، نفسِ مطمئنہ اور چار مقامات یعنی مقامِ شریعت، مقامِ طریقت، مقامِ حقیقت اور مقامِ معرفت میں سے ہر مقام کو طے کرکے پسِ پشت نہیں ڈال دیتا، ہر ایک کو بھلا نہیں دیتا، اپنا رُخ نورِ اللہ کی طرف کر کے غرق فنا فی اللہ، فنا فی فنا، بقا فی بقا اور مغفور فی مغفور نہیں ہو جاتا اور مراتب ِقرب و وصال حاصل کرکے عین بعین صاحبِ حضور نہیں ہو جاتا اُسے فقیر نہیں کہا جا سکتا کہ ابھی تک اُس میں ’’ہم اور میں‘‘ کی بُو سمائی ہوئی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
نَفْسُکَ عَدُوُّکَ فِیْ جَنْبِکَ 
ترجمہ: تیرے وجود میں تیرا نفس ہی تیرا دشمن ہے۔ 

بعض فقیروں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ساتھ پابند کر کے دونوں جہان کو اُن کا غلام اور دنیا و اہلِ دنیا کو اُن کا پابوس (قدم بوسی کرنے والا) بنا دیتے ہیں اور اُنہیں ترک و توکل، توحید، صبر و شکر، معرفت اور ذکر و فکرِالٰہی بخش دیتے ہیں جس سے وہ مستغنی ہو کر ہر وقت غرق باخدا رہتے ہیں۔ جس آدمی پر فقر و فاقہ (یعنی رزق کی فکر) غالب آجاتا ہے اور اُسے اپنا قیدی بنا لیتا ہے تو اُسے دربدر کا گدا بنا کر رُسوا کرتا ہے اور وہ وصالِ حق سے محروم رہ جاتا ہے اس لیے اے مردِ حق! فقر میں تفکر کر کہ فقر تو حیدِالٰہی کا نور ہے جو اسمائے الٰہی کے ذکر سے دِل کی گہرائیوں سے طلوع ہوتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

 سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ حقیقی تفکر جو طالب پر رازِ حقیقت کھولتا ہے، کے حصول کے بارے میں فرماتے ہیں:
انتہائے تفکر پر پہنچنا بہت ہی مشکل کام ہے اس لیے تفکر کی اس راہ میں ایسے صاحبِ تفکر مرشد کا ہاتھ پکڑ جو کامل فقیر ہو۔ (محک الفقر کلاں)
یہ یقین ہے کہ جب طالب صادق اور مرشد کامل اکمل فقیر صاحبِ تصرف اخلاص سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اگر مرشد چاہے تو طالب کو باطن میں مشرق تا مغرب تمام جہان اور تمام انسانوں پر تصرف عطا کر دے، مجلسِ محمدیؐ کی حضوری سے سرفراز فرما دے اور معرفت و فقر کے منصب دلا دے۔ اس مرتبہ پر حیران نہ ہو اور نہ نقص نکال کیونکہ صاحبِ باطن کے بغیر باطن حاصل نہیں ہوتا اور اس کے لیے طالب مرید کو بھی صادق ہونا چاہیے۔ یہی تفکر اور تصرف دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
تَفَکَّرُ السَّاعَۃِ خَیْرٌمِّنْ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیْنِ 
ترجمہ: گھڑی بھر کا تفکر دونوں جہان کی عبادت سے بہترہے۔  (کلید التوحید کلاں)

جان لو کہ جب صاحبِ تصور اسمِ اللہ ذات کلمہ طیب کو باترتیب اسمِ  اللہ ذات کے ساتھ پڑھتا ہے تو محبوبِ خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس کی حضوری سے مشرف ہوتا ہے۔ جب وہ آنکھیں بند کر کے مراقبہ کے دوران اپنے ہاتھ میں تصور اسمِ اللہ ذات کی تلوار پکڑتا ہے تو اس تلوار سے وہ تمام عمر کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو قتل کر دیتا ہے اور شیطان و نفس، خناس و خرطوم اور تمام خطرات کو بھی قتل کر دیتا ہے گویا کہ وہ روئے زمین پر موجود اپنے تمام دشمنوں کو قتل کر دیتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰ ۃوالسلام نے ارشاد فرمایا:
تَفَکَّرُ السَّاعَۃِ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیْنِ 
ترجمہ: گھڑی بھر کا تفکر دونوں جہان کی عبادت سے افضل ہے۔
پس ایسے دائمی ذکر، کامل تفکر اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری والے مراقبہ کو تمام نیکیوں کا مجموعہ کہتے ہیں جو کہ اس آیت کے مطابق ہے:
اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ط ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔  (سورۃ ھود۔114)
ترجمہ: بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ ذاکرین کے لیے ذکر ہے۔(کلید التوحید کلاں)

جان لو کہ عالم فاضل صاحبِ فقہ و نص و حدیث اور صاحبِ تفسیر کے مراتب، صاحبِ ورد و وظائف اور صاحبِ ذکر، فکر اور صاحبِ تاثیر کے مراتب سے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں کیے جانے والے تفکر کی بدولت دل میں محبتِ الٰہی بڑھتی ہے اور حق تعالیٰ کے احسانات میں تفکر کرنے سے دل میں حیا بڑھتی ہے۔ اللہ کے وعدوں اور وعید میں تفکر کرنے سے دل میں خوفِ الٰہی بڑھتا ہے۔ حق تعالیٰ کی معرفت میں تفکر کرنے سے دل میں نورِ توحیدِ الٰہی بڑھتا ہے۔ علم اور تلاوتِ قرآنِ مجید میں تفکر کرنے سے دل میں اعمالِ صالحہ کا شوق بڑھتا ہے۔ دنیا میں تفکر کرنے سے دل میں سیاہی جمع ہو جاتی ہے اور شیطانی منصوبہ بندی بڑھتی ہے۔ اس جہان میں دنیا اور اہلِ دنیا سے بدتر کوئی نہیں۔ وہ سب عجیب احمق ہیں جو اس بدتر دنیا کو اللہ کے نام، دینِ محمدیؐ اور فقرِمحمدیؐ سے بہتر سمجھتے ہیں۔ وہی شخص مومن و مسلمان ہے جو حق تعالیٰ کو اس کی قدرت کی بدولت غالب اور حاضر جاننے کا دائمی فرضِ عظیم ادا کرتا ہے۔ یہ فرض تمام فرائض سے عظیم تر ہے۔ اور تمام سنتوں سے عظیم تر سنتِ محمدیؐ یہ ہے کہ گھر بار اللہ کی راہ میں صَرف کر دیا جائے تاکہ یہ عظیم و بزرگ سنت ادا ہو جائے۔ اس فرض و سنت کو اہلِ اللہ ہی ادا کرتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)

تفکر سے حاصل ہونے والے وصالِ وحدت کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھوؒفرماتے ہیں:

تفکر بہ اوھام وحدت دہد
رساند بہ مولیٰ و از خود رہد

وھم است سلطان تفکر وزیر
تذکر بود لشکرت دِل پذیر

تجرد و تفرد بکن زادِ راہ
بدیں توشہ وھمت شود عین شاہ

چوں وھمت رساند بعالم وصال
تنت عین گردد از صحبت کمال

چوں اوھام گردد یقین گیر من
جہان جملہ آید بتدبیرِ من

چون سلطانِ وھمت بیابد کمال
بہر ساعت آید بدل صد جمال

بدین وھمت خود را چو آراستی
وصولِ حقیقت بخود یافتی

ترجمہ: ۱۔اوھام کے ساتھ کیا گیا تفکر طالب ِ مولیٰ کو اس کی اپنی ذات سے رہائی دلا کر مولیٰ تک پہنچاتا ہے اور وحدت عطا کرتا ہے۔
 ۲۔تیرے وجود میں وھم سلطان ہے، تفکر اس کا وزیر ہے اور ذکر تیرے دلپذیر لشکر کی طرح ہے۔
 ۳۔ اگر تو تجرید و تفرید کو اپنا زادِ راہ بنا لیتا ہے تو اس توشہ کی بدولت تیرا وھم عین شاہ ہو جائے گا۔
۴۔ جب تیرا وھم تجھے عالمِ وصال تک لے جائے گا تو تجھے اس صحبتِ کمال کی بدولت عین کے ساتھ عین کر دے گا۔
 ۵۔ جب میرا وھم یقینِ کامل کے مقام پر پہنچ گیا تو مجھے تمام جہان پر تصرف حاصل ہو گیا۔
 ۶۔ جب سلطانِ وھم تیرے دل میں کمال کو پہنچے گا تو تیرے دل میں ہر لمحہ جمالِ الٰہی کے سینکڑوں جلوے ظاہر ہوں گے۔ 
 ۷۔جب تو وھم کی طاقت حاصل کر لے گا تو تجھے وصالِ حق بھی حاصل ہو جائے گا۔ (محک الفقر کلاں، سلطان الوھم)

آپؒ پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

ذکر کنوں کر فکر ہمیشاں، ایہہ لفظ تِکھّا تلواروں ھوُ
کڈھن آہیں تے جان جلاون، فکر کَرن اسراروں ھوُ
ذاکر سوئی جیہڑے فکر کماون، ہک پلک ناں فارِغ یاروں ھوُ
فکر دا پھٹیا کوئی نہ جیوے، پٹے مُڈھ چا پاڑوں ھوُ
حق دا کلمہ آکھیں باھوؒ، ربّ رکھے فکر دِی ماروں ھوُ

مفہوم: اے طالب تو ذکر (اسمِ اللہ ذات) اور تفکر کیا کر کیونکہ جب ذکر اور فکر آپس میں مل جاتے ہیں تو اِن کی تاثیر تلوار سے بھی تیز ہوتی ہے۔ تفکر سے ہی اﷲ تعالیٰ کے اسرار اور بھید سے آشنائی ہوتی ہے۔ اہلِ تفکر جب اسرارِ الٰہیہ سے واقف ہوتے ہیں تو ان کے دِل سے پرُدرد اور پرُسوز آہیں نکلتی ہیں جو وساوس، خناس اور خواہشاتِ دنیا کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اصل ذاکر تو وہ ہیں جو اسمِ اللہ ذات کے ذکر کے ساتھ ساتھ تفکر میں محو رہتے ہیں اور ایک لمحہ بھی فارغ نہیں ہوتے۔ تفکّر سے وہ اسرار اور بھید القا ہوتے ہیں جو کسی اور ذریعہ سے ہو ہی نہیں سکتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ کلمۂ حق کہتے رہنا چاہیے اور گمراہ کرنے والے تفکر سے اﷲ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ محفوظ رکھے۔ 

    گمراہ کرنے والے تفکر کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اے درویش! غور کر، تیرا فکر و غم حق سبحانہٗ کی خاطر ہونا چاہیے نہ کہ اولاداور رزق کی خاطر کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا (سورۃ ھود۔ 6)
ترجمہ: زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی روزی کا ذمہ خود اللہ نے اُٹھا نہ رکھا ہو۔
نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ (سورۃ الزخرف۔ 32)
ترجمہ: ہم نے دنیا میں اُن کی روزی تقسیم کر دی ہے اور بعض کو بعض پرفوقیت دے دی ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔ (سورۃ الذٰرِیٰت۔ 58) 
ترجمہ: بے شک اللہ روزی دینے والا اور زبردست قوت والاہے۔
وَ فِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ۔  (سورۃ الذٰرِیٰت۔ 22)
ترجمہ: اور تمہاری روزی کا بندوبست آسمانوں میں ہے جس کا وعدہ تم سے کیا گیا ہے۔

وَ کَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَھَا گ ژ اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَ اِیَّاکُمْ گ چ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔(سورۃ العنکبوت۔ 60)
ترجمہ: اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی اپنے ساتھ اُٹھا کر نہیں چلتے کہ اللہ اُنہیں روزی دیتا ہے اور تمہیں بھی روزی دینے والا اللہ ہی ہے،  وہی ہے جو (سب کی) سنتا ہے اور (سب کے حالات کو) جانتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

انسان دن رات دنیا بنانے کی فکر اور اس کے لیے سوچ و بچار (تفکر) میں مصروف رہتا ہے۔ غفلت انسان کو عباداتِ شریعت کی طرف آنے نہیں دیتی اور جو عباداتِ شریعت (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تلاوتِ قرآن) تک پہنچ چکے ہیں وہ اسی میں مگن ہیں، اس سے آگے بڑھنے کے بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ ظاہری عبادات اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ ضرور ہیں لیکن منزل نہیں ہیں۔ جو جہاں پر ہے اسی مقام میں مگن اور غفلت کا شکار ہے۔ ہم اپنے بارے میں، اپنے بیوی بچوں، گھر بار، کاروبار، عزیز رشتہ داروں اور دوستوں کے بارے میں ہر لمحہ سوچتے اور غوروفکر کرتے رہتے ہیں، کیا ہم نے کبھی مقصد ِحیات کے بارے میں غور و فکر کیا ہے؟ چونکہ بندے کی زندگی کا مقصد اللہ کو پانا ہے اس لیے جو اس مقصد سے غافل رہے گا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

فرزند بندہ ایست خدا را غمش مخور
تو کیستی کہ بہ ز خدا بندہ پروری

ترجمہ: تیرا بیٹا اللہ کا بندہ ہے، تو اس کا غم نہ کر۔ تیری کیا حیثیت کہ خدا سے بہتر بندہ پروری کر سکے!(نور الہدیٰ کلاں)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ ﷲ علیہ کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ مراقبہ اور تفکر صرف ان طالبانِ مولیٰ کو فائدہ دیتا ہے جو تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، تجلیہ روح اورتجلیہ سرّکی راہ پر چل پڑے ہوں اوردیدارِ حق تعالیٰ بھی مراقبہ اور تفکر میں انہی کو حاصل ہوتا ہے۔ ورنہ اہلِ دنیا کے لئے تو مراقبہ ایک نفسانی کھیل ہے اور اہلِ حجاب کا مراقبہ یا تفکر بے فائدہ اور گمراہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے تفکر سے محفوظ رکھے۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں