miracles

کرامات

حضرت سلطان باھوؒ کی کرامات

(Hazrat Sultan Bahoo ki Karamat)

اصطلاحِ شریعت میں کرامت وہ خلافِ عادت قوت ہے جس کا ظہور اولیا کرام سے ہو۔ دراصل کرامت ایک روحانی قوت ہے جو عطائے الٰہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کو یہ قوت عطا فرماتا ہے ۔ کرامت اور معجزہ میں فرق یہ ہے کہ معجزہ نبی سے صادر ہوتا ہے اور کرامت نبی کی اتباع کرنے والے اولیا اللہ سے صادر ہوتی ہے۔ 

کرامت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک مادی یا ظاہری دوسری روحانی یا باطنی ۔ مادی یا ظاہری کرامت عوام الناس کیلئے ہوتی ہے کیونکہ ظاہر بین  ظاہری کرامت کو مانتے ہیں۔ روحانی یا باطنی کرامت خواص کیلئے ہوتی ہے اور اس کرامت کو خواص ہی جانتے ہیں ۔ مادی یا ظاہری کرامت میں شیطانی استد راج بھی ہوسکتا ہے اور یہ کافر جوگیوں اور مشرکوں سے بھی ظاہر ہوسکتی ہے مثلاً پانی پر چلنا ، ہوامیں اڑنا، کسی بیمار کو اچھا کردینا، کسی تندرست کو بیمار کردینا، دیوانہ بنا دینا، غیب کی باتیں بتا دینا وغیرہ ۔ عارف اِن کرامتوں کو تسلیم نہیںکرتے اور انہیں راہِ فقر میں حیض ونفاس کا درجہ دیتے ہیں ۔ روحانی او رباطنی کرامت یہ ہے کہ کسی کے قلب کو بدل دینا، ذکرِاللہ سے قلب کو جاری کردینا، ایک ہی نگاہ سے واصل باللہ کردینا،  کسی جاہل کو عالم بنا دینا، کسی شخص کو ایسا علم عطا کردینا جو اسے پہلے حاصل نہ ہو، فنافی الشیخ، فنافی اللہ اور بقا باللہ کے مرتبہ پر پہنچا دینا، دنیا دار کو ایک ہی نگاہ سے عارف بنا دینا، بے رنج وریاضت اور بغیر چلہ کشی کے مشاہدہِ حق تعالیٰ اور دیدارِ الٰہی میں غرق کردینا ۔ یہ عارفین کی کرامتیں خواص کیلئے ہیں اور ان میں شیطانی استدراج نہیں ہوتا ۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ کی بے شمار ظاہری وباطنی کرامات ہیں جن کو مختصراً بیان کیا جارہا ہے : 

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک کرامت جس کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے، بہت مشہور ہے کہ آپ  رحمتہ اللہ علیہ بچپن سے ہی جس کا فر پر نگاہ ڈالتے وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاتا اور آپ  رحمتہ اللہ علیہ کی یہ کرامت آخر عمر تک جاری وساری رہی ۔

 کتب  کی کرامات

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی دوسری کرامت آپ  رحمتہ اللہ علیہ کی کتب ہیں ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ اُمی تھے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے کسی مدرسہ سے تعلیم حاصل نہیں کی اس کے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس وقت کی مروجہ زبان فارسی میں140کتب تصنیف فرمائیں ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کا اعجاز ہے اور میرا مشاہدہ بھی ہے کہ باوضو ہوکر صدق، اخلاص اور ادب سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو قلب منور ہونے لگتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب سراسر الفاظِ نوری اور کلماتِ حضوری پر مشتمل ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ اعلان آپ کی ہر کتاب میں موجود ہے ’’ اگر کسی کو تلاش کے باوجود مرشدِکامل نہ ملتا ہو وہ ہماری کسی بھی کتاب کو مرشداور وسیلہ بنائے تو ہمیں قسم ہے کہ اگر ہم اسے اس کی منزل تک نہ پہنچائیں۔ ‘‘ اس فقیر کا یہ مشاہدہ ہے کہ صدقِ دل سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کا مطالعہ کرنے والا اپنی طلب کے مطابق مرشدِکامل اکمل تک پہنچ جاتا ہے ۔ دِل کے اندھوں کیلئے آپ  رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان بھی ہے’’ ہماری کتاب معرفت سے ازلی محروم اور کور چشم شوم کو ہرگزپسند نہیں آئے گی۔ ‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کا یہ اعجاز بھی ہے کہ عارفین کیلئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب خواہ وہ عارف ابتدائی مقام پر ہو یا متوسط یا انتہائی مقام پر وحدت میںغرق ہو، ہر ایک کیلئے علیحدہ علیحدہ اسرار کا خزانہ رکھتی ہیں، وہ جس مقام پر ہوگا اسی مقام کے مطابق ان کتب سے راہنمائی پائے گا ۔ 

آپؒ نے  نظرِ کیمیا سےمٹی کو سونا بنا دیا

 

جب آپ رحمتہ اللہ علیہ شور کوٹ میںکاشتکاری کرتے تھے ان دنوں افلاس اور ناداری سے تنگ ایک سفید پوش عیال دار سیدّ صاحب بزرگوں اورفقیروں کی تلاش میں مارے مارے پھرا کرتے تھے کہ کہیں سے کوئی اللہ کا بندہ مل جائے او راس کی دعا سے میری غربت اورتنگدستی دور ہوجائے ۔اسی طلب میں وہ ایک فقیر کی خدمت میں رہنے لگے او را س کی جان توڑ خدمت کی۔ ایک دن فقیر کو ان کے حال پر رحم آیا اور پوچھا ’’تیری مراد اور حاجت کیا ہے؟‘‘ سیدّ صاحب نے عرض کی کہ میرا بڑا بھاری کنبہ ہے اور قرض بہت ہوگیا ہے، جوان لڑکیاں اور لڑکے ہیں افلاس اور تنگدستی کی وجہ سے ان کی شادی بھی نہیں کرسکتا ۔ ظاہری اسباب ختم ہوچکے ہیں اب تو غیبی مدد کے سوا میری تنگدستی کا علاج ناممکن ہے۔ تب اس فقیر نے کہا ’’میں تجھے ایک مردِ کامل کا پتہ بتا دیتا ہوں، سوائے اس کے تیرا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔ تو حضرت سخی سلطان باھوُ( رحمتہ اللہ علیہ) کے پاس شورکوٹ (جھنگ ) چلا جا اور ان کی بارگاہ میں عرض پیش کر۔‘‘ وہ پریشان حال سیدّ صاحب حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  کے پاس پہنچ گئے لیکن ان کی مایوسی کی کوئی حد نہیں رہی جب دیکھا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کھیتوں میں ہل چلا رہے ہیں اور پھر انہیں ارد گرد سے پتہ چل چکا تھا کہ وہاں کے لوگ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو فقیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ کسان کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر مایوس ہو کر واپس مڑنے ہی والے تھے کہ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے، جو ان کی قلبی کیفیت سے آگاہ ہوچکے تھے، ان کو آواز دی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی آواز سن کر ان سیّد صاحب کی کچھ ڈھارس بندھی اور دل میں کہنے لگے کہ اب خود بلایا ہے تو عرض پیش کرنے میں کیا حرج ہے! سیدّ صاحب نے قریب آکر سلام کیا، آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سلام کا جواب دے کر پوچھا کہ کس ارادے سے یہاں آئے ہو ۔ سیدّ صاحب نے اپنی ساری سرگزشت سنا دی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’شاہ صاحب! مجھے پیشاب کی حاجت ہے آپ میرا ہل پکڑ کر رکھیں میں پیشاب سے فارغ ہولوں ۔‘‘ غرض آپؒ نے پیشاب کیا اور مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد وہ ڈھیلا ہاتھ میں لیے سیدّ صاحب سے مخاطب ہوئے ’’ شاہ صاحب! آپ نے بلاوجہ تکلیف اٹھائی، میں تو ایک جٹ آدمی ہوں‘‘۔ سیدّ صاحب کا دل پہلے ہی سفر کی محنت اور مایوسی سے جلا ہوا تھا، طیش میں آکر بولے ’’ہاں یہ میری سزا ہے کہ سیدّہو کر آج ایک جٹ کے سامنے سائل کی حیثیت سے کھڑا ہوں۔‘‘ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کو جلال آیا اور اپنی زبانِ مبارک سے یہ شعر پڑھتے ہوئے وہ پیشاب والا ڈھیلا زمین پر دے مارا : 

نظر جنہاں دی کیمیا، سونا کردے وٹ
قوم اُتے موقوف نہیں کیا سیّد کیا جٹ 

آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پیشاب والا ڈھیلا اسی جتی ہوئی زمین پر دور تک لڑھکتا چلا گیا اور زمین کے جن جن مٹی کے ڈھیلوں سے لگتا گیا وہ سونے کے بنتے چلے گئے۔ سیدّ صاحب یہ حالت دیکھ کر دم بخود رہ گئے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں پر گر کر رونے لگے اور معافیاں مانگنے لگے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’ شاہ صاحب یہ وقت رونے کا نہیں، یہ ڈھیلے چپکے سے اُٹھا لو اور چلتے بنو ورنہ لوگوں کو پتہ لگ گیا تو نہ تیری خیر ہے اور نہ میری۔‘‘ چنانچہ اس سیدّ صاحب نے ان سونے کے ڈھیلوں کو جلدی سے اپنی چادر میں لپیٹ لیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پائوں چومتے ہوئے وہاں سے چل دئیے۔ (مناقبِ سلطانی) 

آپؒ کی اکسیر نظر  سے لکڑیاں اٹھانے والاآدمی اللہ کے دیدار میں غرق

ایک دفعہ آپ رحمتہ اللہ علیہ مشرقی ریگستان کے علاقہ تھل میں چند طالبوں اور درویشوں کے ساتھ محوِ سفر تھے۔ راستہ میں کسی نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ اکسیر ِنظر کسے کہتے ہیں؟ اس وقت پاس ہی ایک شخص لکڑیوں کا ایک گٹھا جمع کرکے اسے اٹھانے کو ہی تھا۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی طرف نگاہ ڈالی تو وہ شخص آنکھیں پھاڑ کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا ۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کرنے والے سے کہا ’’سفر سے واپسی پر جس وقت ہم اس جگہ آئیں گے جہاں یہ لکڑیاں اُٹھانے والا ہمیں ملا ہے تو تمہارے سوال کا جواب یہی شخص دے گا۔‘‘ چنانچہ آپ رحمتہ اللہ علیہ  سفر سے لوٹے اور آپ کا گزر اسی جگہ سے دوبارہ ہوا جہاں وہ لکڑیاں اٹھانے والا آدمی ملا تھا تو ایک طالب نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو اس سوال کے جواب کی یاد دلا کر عرض کی کہ جناب ہم واپس اسی جگہ پر آگئے ہیں آپ مہربانی فرما کر ہمیں اس سوال کا جواب دے دیں کہ اکسیرِنظر کیا ہے ؟آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام طالبوں، درویشوں اور مریدوں کو اس آدمی کے پاس لے گئے تو اس کو اسی حالت میں پایا جس حالت میں چھوڑ گئے تھے کہ لکڑیوں کا گٹھا اس کے سامنے پڑا ہوا ہے اور وہ آنکھیں پھاڑ کر آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ہمراہی طالبوں سے کہا کہ اس آدمی سے اپنے سوال کا جواب پوچھو۔ جب انہوں نے اس آدمی کو بلایا تو وہ بت کی طرح ساکت کھڑا رہا اور کوئی جواب نہ دیا ۔بار بار بلانے پر بھی جب اس نے کوئی توجہ نہ دی تو انہوں نے عرض کی’’ حضور آپ خود بلائیں۔‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس روز ہم یہاں سے گزرے تھے تم نے اس شخص کو کس حال میں دیکھا تھا؟ انہوں نے عرض کی’’ حضور یہ شخص لکڑیوں کا گٹھا اُٹھانے کو تھا اور جس وقت آپ نے نظر فرمائی تو یہ آسمان کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ شخص اس روز سے اسی حالت میں کھڑا ہے۔ پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دوسری دفعہ اس کی طرف توجہ کی تو وہ ہوش میں آگیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں پر گرکر زارو قطار رونے لگااور فریا د کرنے لگا کہ خدا کیلئے مجھے پھر اسی حالت میں پہنچا دیں ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنی حالت بتائو۔ اس نے عرض کی ’’ حضور جس روز آپ  یہاں سے گزررہے تھے میں یہ لکڑیوں کا گٹھا اُٹھانے کو ہی تھا کہ آپ نے میری طرف باطنی نگاہ ڈالی اور میں آپ  کی اسی ایک نگاہ سے اللہ تعالیٰ کے دیدار میں غرق ہوگیا اور آج تک میں اسی لذتِ دیدار میں محو اور مدہوش رہا کہ آپ نے ایک بار پھر مجھے اس حالت سے نکال لیا ہے۔ مجھے صبر اور قرار نہیں آرہا، مجھے پھر اسی حالت میں پہنچا دیں۔‘‘ آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے درویشوں اور طالبوں سے فرمایا یہ اکسیرِ نظر کی ادنیٰ سی مثال ہے جو تم نے دیکھی ہے۔ پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس شخص سے فرمایا ’’جا اپنے لکڑیوں کے گٹھے کو اٹھا لے، پہلے تو مجذوب ابن الوقت تھا اب تو سالک ابو الوقت ہوگا ۔ اب یہ تیرے اختیار میں ہے کہ جب چاہے اس حالت میں چلاجایا کر اور جب چاہے واپس آجا یا کر۔‘‘ (مناقبِ سلطانی) 

بیری کا درخت   ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگیا 

حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے محل پاک (مزار پاک) کے دروازے کے سامنے بیر کا ایک درخت ہوا کرتا تھا۔ یہ درخت دروازے کے وسط میں تھا اس لئے جو لوگ زیارت کرنے جاتے انہیں بڑی تکلیف ہوتی اور پھر دروازے کے سامنے ہونے کی وجہ سے درمیان میں پردہ سا حائل رہا کرتا۔ خلفا اور مجاور ادب کے سبب بیر کے اس درخت کا کاٹنا جائز خیال نہ کرتے تھے ۔ ایک روز ایک نابینا شخص زیارت کے لئے محل پاک کے اندر داخل ہونے لگا کہ اس کی پیشانی درخت کے ایک مضبوط تنے سے ٹکرا گئی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا اور پیشانی سے خون بہنے لگا۔ خلفااور مجاوروں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اگلے دن نمازِ فجر کے بعد اس درخت کو کاٹ دیا جائے۔ اسی زمانہ میں ایک فقیر حضرت محمد صدیق رحمتہ اللہ علیہ ڈیرہ اسماعیل خاں سے آکر دربار پاک پرمعتکف ہوئے تھے ،بڑے صاحبِ حال فقیر تھے، وہ بھی اس مشاورت میں شامل تھے۔ چنانچہ رات کو حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  نے خواب میں محمد صدیق رحمتہ اللہ علیہ کو فرمایا ’’ ہماری بیری کے درخت کو کیوں کاٹتے ہو، وہ خود بخود یہاں سے دور جاکھڑا ہو گا ۔‘‘ صبح دیکھا گیا کہ واقعی وہ درخت اپنے اصلی مقام سے دس قدم کے فاصلہ پر کھڑا ہے۔ یہ مبارک درخت محل پاک کے دروازے کی دہلیز کے وسط سے عین شمال کی طرف یعنی زیارت کرنیوالوں کے دائیں ہاتھ خود بخود جا کھڑا ہوا۔ اس روز سے اس درخت کا نام حضوری بیر ہے۔ اس کا میوہ زیارت کرنیوالے ہزار ہاکو س تک بطور تبرک لے جاتے ہیں۔ اسے بیماروں کی شفا، حصولِ اولاد اورتبرک کیلئے کھاتے ہیں، اگر پھل میسر نہ ہو تو اس کے پتے ہی تبرک کیلئے لے جاتے ہیں۔ اس کرامت سے خواب میں حضرت سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ نے محمد صدیق رحمتہ اللہ علیہ کو مطلع فرمایا تھا اس لیے ان خلیفہ موصوف کا لقب ’’بیر والا صاحب ‘‘ اور ’’مخدوم صاحب بیر والا ‘‘ پڑ گیا اور ان کے مرید اِن کو اسی نام سے پکارتے تھے۔ (مناقبِ سلطانی) 

آپؒ نے ایک نگاہ سے پنگھوڑے میں سوئی بچی کو ولیہ کاملہ بنادیا

ایک دفعہ حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  چند درویشوں کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان کے علاقہ میں سفر فرما رہے تھے۔ راستہ میں چبر ی نامی گائوں سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا گزر ہوا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہی درویشوں نے عرض کی کہ حضور اگر اجازت مرحمت فرمائیں تو دوپہر کا وقت قریب ہے یہیں روٹیاں پکا لیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے اجازت عطا فرما دی۔ اس گائوں میں ایک عورت درویشوں کی خدمت کیا کرتی تھی، آپ رحمتہ اللہ علیہ  اس کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  کے ہمراہی درویش اس عورت کے ساتھ مل کر کھانا پکانے میں مصروف ہوئے۔ اس عورت کی ایک شیرخواربچی جو پنگوڑے میں سوئی ہوئی تھی، جاگ کر رونے لگی ۔وہ عورت حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی ’’اے درویش! ذرا اس پنگوڑے کو ہلا دے تاکہ یہ چپ ہوجائے۔ ‘‘ حضرت سلطان باھو  رحمتہ اللہ علیہ پنگوڑے کو ہلانے لگے اور ساتھ ہی توجہ فرما کر بچی کا قلب اسمِ اللہ ذات سے روشن کردیا۔ پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا’’ اے عورت! اس بچی کے پنگوڑے کو ہم نے ایسی جنبش دی ہے کہ تا قیامت یہ جنبش ترقی پذیر ہوگی۔‘‘ اس بچی کا نام حضرت فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا ہے، یہ قوم بلوچ مستوئی سے تھیں اور ان کا مزار ڈیرہ غازی خان کے علاقہ ’’وھوآ‘‘ کے مقام پر فتح خان کے نام سے مشہور دیہات کے علاقہ ’’کاتکر‘‘ میں ہے۔ اس مزار پاک پر لاکھوں زائرین اور سینکڑوں طالبِ اللہ فیض حاصل کرنے کیلئے جاتے ہیں ۔

 ماہِ رمضان میں غیبی ہرن کا سینگوں پر کھانا لے کرآنا

سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ایک دفعہ وادی سون سکیسر کی سیاحت کونکلے، آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ سلطان نورنگ کھیتران آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہ تھے ۔ وہاں کلر کہار کی ایک خوبصورت پہاڑی کے پاس رکے (یہاں آج کل حکومت نے ایک تفریح گاہ بنا دی ہے اور لوگ پکنک منانے یہاںآتے ہیں)۔ اس پہاڑی کے غار میں رمضان شریف کی پہلی تاریخ کو حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مراقب ہوگئے اور دیدارِ الٰہی میں غر ق ہوگئے۔ جب شام کا وقت ہو گیا تو حضرت سلطان نور نگ صاحب کو فکر دامن گیر ہوئی کہ خدا جانے حضور کب تک حالت ِ استغراق میں رہیں گے اور یہاں اس جنگل میں ہمارے کھانے پینے کا بندوبست کیا ہوگا۔ شام کو جب افطارکا وقت ہوا تو ایک غیبی مو کل ہرن کی صورت میں پہاڑ سے اتر کر حضرت سلطان نورنگ  رحمتہ اللہ علیہ  کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس کے سینگوں پر کھانا اور پانی موجود تھا، اس نے اپنا سر جھکا دیا۔ حضرت سلطان نورنگ صاحب نے اس کھانے کے ساتھ روزہ افطار کیا اور برتن اور دستر خوان اس غیبی ہرن کے سینگوں کے ساتھ باندھ کر رخصت کردیا۔ اسی طرح تمام ماہِ رمضان حضرت سلطان نورنگ صاحب کو سحری اور افطاری کے وقت وہ رزق پہنچتا رہا۔ 

غرض حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  تمام ماہِ رمضان حالت ِ استغراق میں رہے ۔ عید کی رات جب چاند نظر آیا اور آس پاس کی آبادیوں میں عید کی خوشی میں ڈھول اور نقارے بجنے لگے توحضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مراقبہ سے باہر آئے اور سلطان نورنگ سے پوچھا کہ یہ کیسا شور ہے؟ عرض کی کہ حضور عید کا چاند نظر آگیا ہے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے فرمایا ’’نورنگ ! کیاسارارمضان گزر گیا ؟ اور ہمارے روزوں، نمازوں اور تراویح کا کیا بنا ؟‘‘ عرض کی کہ حضور بہتر جانتے ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے باوجود اس قدر استغراقِ اللہ کے تمام نمازوں، روزوں اور تراویح کو قضا کرکے ادا کیا۔ جب غیبی ہرن آپ  رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے حاضر ہوا تو اس کی التجا پر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے نگاہ فرمائی جس کو وہ برداشت نہ کرسکا اورواصل بحق ہوا ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس وقت وہاں ایک اور درویش بھی موجود تھا، اس نے عرض کی کہ میں ایک عرصہ سے خدمت میں موجود ہوں مگر مجھ پر ایسی توجہ نہ کی گئی۔ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر توجہ فرمائی تو وہ بھی جانبر نہ ہو سکا اور واصل بحق ہوا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دونوں کے مزارات ساتھ ساتھ بنادیئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سے نسبت کی وجہ سے وہ جگہ ’’آھو باھو ؒ‘‘کے نام سے مشہور ہوگئی اور بہت مشہور زیارت گاہ بن گئی ۔ اس فقیر نے کئی بار اس جگہ کی زیارت کی ہے اور حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی چلہ گاہ کی بھی زیارت کی ہے کیونکہ میرے مرشد پاک ہر سال گرمیوں میں وادی سون سکیسر( اوچھالی ) تشریف لے جایا کرتے تھے اور اس فقیر کو آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کیلئے براستہ موٹر وے کلر کہارسے گزر کر اوچھالی جانا پڑتا تھا اس لئے ہر سال بارہ پندرہ بار اس جگہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوتا رہا ہے۔ 2001ء تک تو یہ جگہ ’’آھو باھوؒ‘‘ کے نام سے ہی مشہور تھی لیکن2002ء میں جب میرا گزر وہاں سے ہوا تو معلوم ہوا کہ اس جگہ کا نام تبدیل ہوچکا ہے اور ’’آھو باھُوؒ‘‘ کو ’’ہو بہو‘‘ میں بدل دیا گیا ہے او رکسی نے ان مزارات کو حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے صاحبزادے سیدّ عبد الرزاق رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند وں شیخ سیدّ محمد یعقوب شہید اور شیخ سیدّ محمد اسحاق شہید کے نام سے موسوم کرکے اپنے حلقہ میں لے لیا ہے اور تاریخ کا رخ ہی بدل دیا ہے۔

آپؒ نے پتھر ماڑ کر پہاڑ سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری کردیا

اس جگہ سے منسوب حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک کرامت اور مشہور ہے کہ اس جگہ میٹھاپانی نہیں تھا اس لئے کلر کہار کے رہنے والوں کو بہت دور دراز سے پینے کیلئے میٹھا پانی لانا پڑتا تھا۔ ایک دفعہ کچھ عورتیں پانی بھر کر لا رہی تھیں کہ اللہ کے ایک ولی (حضرت شیخ فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ )کا قریب سے گزر ہوا اور انہوں نے ان سے پینے کیلئے پانی مانگا تو عورتوں نے جواب دیا کہ بابا جی پانی توکڑوا ہے تو اس اللہ کے بندے نے فرمایا’’ اچھا کڑوا ہے تو کڑوا ہی سہی!‘‘ ان عورتوں نے گھر جا کر جب گھڑوں کا پانی پیا تو وہ کڑوا نکلا۔ لوگ اس چشمے پر گئے جہاں سے پانی بھر کر لاتے تھے، وہ بھی کڑوا ہوچکا تھا ۔ تمام کلر کہار کے لوگ ان بزرگ کی تلاش میں نکلے اور ان کے پاس جا کر عرض کی کہ عورتوں سے غلطی ہوگئی وہ آپ کو پہچان نہ سکیں اس لئے معاف فرما دیں اور پانی کو پھر سے میٹھا کر دیں کہ یہ چھوٹا سا چشمہ ہی ہمارا پانی کا واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی تو کڑوا ہوچکا اب ہم اسے میٹھا نہیں کرسکتے لیکن ایک وقت یہاں سے عارفین کا سلطان گزرے گا اس سے عرض کرنا ،کڑوی چیزوں کو میٹھا اور ناکارہ کو کارآمد بنانا اسی کی صفت ہے۔ 

جب حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  ہرن کو دفن کرچکے تو آبادی کے لوگوں کو پتہ چلا کہ ایک مردِ حق یہاں پر ایک ماہ سے موجود ہے اور ویران پہاڑی پر مصروفِ عبادت ہے ۔ وہ لوگ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورپانی کے مسئلہ کے متعلق عرض کیا ،آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے چلہ گاہ میں بیٹھے بیٹھے ایک پتھر اُٹھا کر پہاڑی کے دامن میں زور سے دے مارا تو وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’یہ چشمہ قیامت تک جاری رہے گا ۔‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ  کا جاری کردہ یہی چشمہ کلر کہار کے لوگوں کیلئے زندگی کا سبب ہے اور پانی کی تمام ضروریات یہی اکیلا چشمہ پوری کرتا ہے۔ اس پانی کی وجہ سے ایک قدرتی جھیل کلر کہار میں بن چکی ہے اور اب تو یہ جگہ بہت بڑی تفریح گاہ بن گئی ہے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں