مجلسِ محمدی | Majlis e Mohammadi

مجلسِ محمدی

 حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ دائمی حیات النبیؐ کے سختی سے قائل ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:
پس ہر وہ شخص مومن، مسلمان یا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت میں سے کیسے ہو سکتا ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حیات ہی نہیں مانتا۔ وہ جو کوئی بھی ہے جھوٹا، بے دین، منافق اور کذاب ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلْکَذَّابُ لَا اُمَّتِیْ
 ترجمہ: کذاب میرا امتی نہیں ہو سکتا۔ (کلید التوحید کلاں)
جسے حیات النبیؐ پر اعتبار نہیں وہ دونوں جہان میں خوار ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر وہ شخص مردہ سمجھتا ہے جس کا دل مردہ ہو اور اس کا سرمایۂ ایمان و یقین شیطان نے لوٹ لیا ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
جو شخص اخلاص اور یقین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں فریاد کرے تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مع لشکرِ صحابہؓ،  امام حسن ؓ وامام حسینؓ  تشریف لا کر ظاہری آنکھوں سے زیارت کراتے اور مدد فرماتے ہیں۔ (عقلِ بیدار)
سن! اگر کوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہیحیات کو مردہ سمجھتا ہے تو اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔ (عین الفقر)

علامہ اقبالؒ حیات النبیؐ کے بارے میں فرماتے ہیں:
میرا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی ان کی صحبت سے اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوا کرتے تھے لیکن اس زمانے میں تو اس قسم کے عقائد کا اظہار بھی اکثر دماغوں پر ناگوار ہوگا اس واسطے خاموش رہتا ہوں۔ (خط بنام نیازالدین خاں۔فتراکِ رسولؐ۔ باب سوم، اقبال اور عشقِ رسولؐ۔ صفحہ 71)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ باطن میں دیدارِ الٰہی اور حضوریٔ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دو ایسے انتہائی مقام ہیں کہ ان سے بلند باطنی مقام او ر کوئی نہیں ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح صحابہ کرامؓ  کے دور میں تھی۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی شاید ہی کوئی تصنیف ایسی ہو جس میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ راہِ حق میں یہ ایک ایسا مقام ہے جس میں طالبِ مولیٰ باطن میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضور ی سے مشرف ہو جاتا ہے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی تربیت فرماتے ہیں اور باطن میں اسے معرفتِ الٰہیہ کے مراتب طے کراتے ہیں۔ 
حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اسمِ اللہ    ذات اور اسمِ  محمد کے تصور سے حاصل ہوتی ہے۔
اس عبارت کی شرح اس طرح ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے لئے اسم اللہ ذات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظاہری چہرہ مبارک تھا اور اسم محمد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک تھی۔ موجودہ زمانے میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ تک رسائی کا طریقہ صرف اسمِ اللہ  ذات اور اسمِ محمد کا تصور ہے بشرطیکہ یہ وہاں سے حاصل ہو اہو جہاں پر اسے عطا کرنے کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے باطنی طور پر اجازت ہو۔ یہ بات طالب کو اسمِ اللہ ذات یا اسمِ محمد کے تصور کے پہلے دن ہی معلوم ہو جاتی ہے کہ اس نے جہاں سے اسمِ اللہ ذات یا اسمِ محمد   حاصل کیا ہے وہ مرشدِ کامل ہی کی بارگاہ ہے۔
حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 

شد مطالب دیدن رو مصطفیؐ
شد حضوری غرق فی اللہ باخدا

ترجمہ: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرہ مبارک کے دیدار سے تمام مطالب حاصل ہوتے ہیں اور غرق فنا فی اللہ کی حضوری حاصل ہوتی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری کیلئے ذکر ِاحوال تک پہنچنا ضروری ہے:
جب تک طالب کا وجود چار اذکار، چار مراقبوں اور چار فکروں سے پک کر پختہ نہیں ہو جاتا تب تک وہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لائق نہیں ہوتا۔ اوّل ذکرِ زوال جسے شروع کرتے ہی اعلیٰ و ادنیٰ تمام مخلوقات ذاکر کی طرف رجوع کرتی ہیں۔ بے شمار طالب و مرید اس ذکر کو شروع کرتے ہیں۔ جب ذکر ِ زوال تکمیل کو پہنچتا ہے توتمام طالب و مرید رجعت کھا کر واپس پلٹ جاتے ہیں اور اس ذکر سے بیزار ہو کر کہتے ہیں کہ اس ذکر فکر سے ہزار بار استغفار۔ صرف وہی صادق طالب مرید اپنے حال پر قائم رہتا ہے جو معرفت و وِصالِ الٰہی کی انتہا پر پہنچ چکا ہو۔ اس کے بعد ذکر ِدوام یعنی ذکر ِکمال شروع ہوتا ہے۔ ذکر ِکمال شروع کرتے ہی تمام فرشتے ذاکر کی طرف رجوع کرتے ہیں اور فرشتوں کے لشکر ذاکر کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں۔ کراماً کاتبین ذاکر کو نیک و بد کے متعلق الہام دیتے اور گناہوں سے باز رکھتے ہیں۔ جب ذکر ِکمال مکمل ہو جاتا ہے تو تیسرا ذکر، ذکر ِ وصال شروع ہوتا ہے۔ ذکرِ وصال شروع کرتے ہی باطن میں انبیا و اولیا اللہ کی مجلس حاصل ہو جاتی ہے اور طالب واصل ہو جاتا ہے۔ واصل جونہی مجلسِ انبیا و اولیا اللہ میں ذکر ِ وصال ختم اور مکمل کرتا ہے اس کے بعد چوتھا ذکر، ذکر ِاحوال شروع ہوتا ہے۔ ذکر ِ احوال نورِ ذات کی تجلیات سے فنا فی اللہ بقا باللہ کے مراتب تک پہنچاتا ہے۔ جب طالب ان چاروں ذکروں سے گزر جاتا ہے تب اس کا وجود مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لائق بنتا ہے۔  (کلید التوحید کلاں)

آپؒ فرماتے ہیں: 

ہر کرا از دل کشاید چشم نور
شد حضوری مصطفیؐ رست از غرور

ترجمہ: جس کے دل کی نوری آنکھ کھل جاتی ہے وہ غرور سے نجات حاصل کر کے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچ جاتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے دیگر مراتب یہ ہیں کہ ظاہر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے ظاہری وجود کے ساتھ نفسانی لوگوں سے ہمکلام ہوتے ہیں اور باطن میں اپنے روحانی وجود کے ساتھ روحانیوں سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (گفتگو کے لیے) اپنے دونوں لب ہلاتے ہیں تو اہلِ تحقیق عبرت و حیرت میں غرق ہو جاتے ہیں، نفسانی لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان سے ہم کلام ہیں اور روحانی سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان سے ہمکلام ہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ رحمن سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے وجود میں نفس کو فنا کر رکھا ہے جس کی وجہ سے نفس کا دوست شیطان بہت پریشان ہے۔ اسی طرح بایزید بسطامیؒ نے فرمایا ’’میں تیس سال اللہ سے ہمکلام رہا اور نفسانی لوگ سمجھتے رہے کہ میں ان سے ہمکلام ہوں اور روحانی لوگ یہ سمجھتے رہے کہ میں ان سے ہمکلام ہوں۔‘‘  (کلید التوحید کلاں)

الغرض! ورد و وظائف او راعمالِ ظاہر سے طالب ِاللہ باطن میں کبھی بھی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری تک نہیں پہنچ سکتا خواہ عمر بھر ریاضت کرتا رہے کہ راہِ باطن صرف صاحب ِباطن مرشد ِکامل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
جان لو کہ امت پیروی کرنے والوں کو کہتے ہیں اور پیروی یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چل کر خود کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچایا جائے۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو راہِ حضوری کے متعلق نہیں جانتے اور بے حیائی، تکبر، خواہشاتِ نفس، خود پرستی اور نفس پرستی کے باعث عارفانِ باللہ سے طلب بھی نہیں کرتے اور جو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچ جاتے ہیں ان کو یہ حاسدین اپنے حسد کے باعث دیکھ نہیں سکتے۔ یہ لوگ سراسر احمق اور حیوان ہیں۔ جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر اور حضوری میں منظور نہیں وہ امت کے مومن و مسلمان، فقیر و درویش اور علما و فقہا کیسے ہو سکتے ہیں اور امت ان کی پیروی کیسے کر سکتی ہے؟ جان لو کہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سرِہدایت ہے اور یہ ہدایت ابتدا (کی طرف لوٹنے) میں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلنِّھَایَۃُ ھُوَ الرُّجُوْعُ اِلَی الْبِدَایَۃِ
ترجمہ: ابتدا کی طرف لوٹنا ہی انتہا ہے۔(کلید التوحید کلاں)
ظہورِحق کی ابتدا چونکہ نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظہور سے ہوئی اور تمام مخلوق نو رِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تخلیق ہوئی اس لئے ’’ابتدا‘‘ نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ہے لہٰذا باطن میں اپنی ابتدا یعنی نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک واپس پہنچنا ہی انتہا ہے۔یہی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری ہے اور یہی سِرِّ ہدایت ہے۔جو شخص اس کا قائل اور طالب نہیں وہ گویا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اُمتی اور پیروکار ہی نہیں۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
حدیثِ مبارکہ ہے:
مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَاَی الْحَقَّ فَاِنَّ الشَّیْطٰنَ لَا یَتَمَثَّلُ بِیْ
ترجمہ:جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق دیکھا کیونکہ یقینا شیطان میری مثل نہیں ہو سکتا۔

جان لے کہ باطن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور خدمت میں رہنے والا طالب اگرکسی دینی یا دنیوی کام کے لیے التماس کرتاہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کام کا حکمِ عالی فرمادیتے ہیں اور حکم دیتے وقت اپنے اصحابؓ کے ہمراہ اس کے لیے دعائے خیر بھی فرما دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر ظاہر میں وہ کام نہیں ہوتا تو اس میں کیا حکمت ہے؟ اس طالب ِمولیٰ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ابھی وہ کمال کے مرتبہ پر نہیں پہنچا اور ابھی تک ترقی کے مراتب طے کر رہا ہے۔ ابھی وہ طالب طلب کے مشکل مقام پر ہے۔ اس لئے باطن میں اس کی درخواست کے موافق اسے بہتر نعم البدل عطا کر دیا جاتا ہے جس سے وہ خوش ہو جاتا ہے۔ اس مرتبے اور ترقیٔ قرب پر اسے مبارکباد ہو۔ اگر وہ طالب جاہل ہے یا دنیا مردار کا طالب ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلسِ خاص میں دنیا کی طلب کرتا ہے تو ایسے نالائق طالب کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نکال دیا جاتا ہے یا اس کے اعلیٰ مراتب سلب کر لیے جاتے ہیں۔ اگر کسی طالب کا ظاہر اور باطن ایک ہو چکا ہو تو وہ اس مقام پر قدم رکھتا ہے جہاں اس کے مراتب ترقی سے بھی بالاتر ہو جاتے ہیں۔ جو طالب صاحبِ توحید ہو جاتا ہے توحید ِالٰہی اس پر مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ (شمس العارفین)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیدار سے مشرف ہونے والا اور آپؐ کی زیارت کرنے والا ایک ہی لمحہ میں ولی اللہ کے مراتب پر پہنچ کر محبوب اور صاحبِ عیاں عارف ہو جاتا ہے یا یکبارگی مراتبِ مجذوب پر پہنچ جاتا ہے یا یکبارگی مراتبِ محبوب پر پہنچ جاتا ہے یا یکبارگی مراتبِ محجوب اور مردود پر پہنچ جاتا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھنے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بہشت کی مثل ہے جہاں ذکرِ الٰہی کے ساتھ آیاتِ قرآن اور حدیث کا بیان ہوتا ہے۔ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں طالب کو دو مراتب حاصل ہو سکتے ہیں، یا مرتبہ محبوب یا مرتبہ مردود کیونکہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک کسوٹی ہے جہاں پہنچ کر ناقص طالب کے وجود کے اندر پوشیدہ کذب اور صادق طالب کے وجود کے اندر پوشیدہ صدق ظاہر ہو جاتا ہے۔ طالبِ صادق کا وجود نور ہو جاتا ہے اور اسے مجلسِ محمدیؐ کی لازوال دائمی حضوری نصیب ہو جاتی ہے۔ (امیر الکونین)

اگر کوئی حاسد،منافق، مردہ دل کاذب جو شیطان کے فرزندوں اور خناس کے وسوسہ کی طرح ہے اور جو پیر مرشد کا منکر، بے پیر بے مرشد اور بے معرفت ہے، یہ کہے کہ اس زمانہ میں کوئی پیر یا مرشد لائقِ ارشاد نہیں اس کی بجائے صرف مطالعہ کتب کافی ہے تو وہ اس حیلہ شیطانی اور مکر و فریبِ نفسانی کے سبب رہزن ہے جو معرفت و ہدایتِ خدا سے باز رکھتا ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے روکتا ہے۔ ایسے شخص کی بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایسا شخصُ مردہ دل ہے اور کتیّ کی طرح مُردار کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ (عقلِ بیدار)

روز و شب در طلبِ نبویؐ با حضور
مرد مرشد میرساند خاص نور
ہر کہ منکر میشود زیں خاص راہ
عاقبت کافر شود با رو سیاہ

ترجمہ: دِن رات مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی حضوری طلب کر لیکن یاد رکھ اس خاص نور تک مرد مرشد ہی پہنچا سکتا ہے۔ جو کوئی اس خاص راہ کا انکار کرتا ہے وہ بالآخر کافر ہو کر روسیاہ ہوجاتا ہے۔ (مجا لستہ النبیؐ خورد)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس مبارک میں نفسِ امارہ اور شیطان لعین داخل نہیں ہوسکتے۔ یہ اسمِ اللہ  ذات اور اسم محمد کے حاضرات کی راہ ہے۔ اس سے ازل، ابد، دنیا، حشر،قیامت گاہ، حضوری، قربِ الٰہی، دوزخ، بہشت اور حوروقصور کا تماشا دکھائی دیتا ہے۔ (عقلِ بیدار)

جان لے کہ خاص مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دیگر نو(9) مقامات پر قائم ہوتی ہے جو مراتب بمراتب اور مقام بمقام (بڑھتے ہوئے) کامل و مکمل ہو جاتی ہے۔ اوّل مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مقامِ ازل میں ہے، دوم مجلسِ محمدی  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مقامِ ابد میں ہے، سوم حرمِ مدینہ میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں، چہارم خانہ کعبہ کے داخلی مقام پر یا حرمِ خانہ کعبہ میں یا جبلِ عرفات پر جہاں لبیک کی دعائے حج قبول ہوتی ہے، پنجم عرش سے اوپر، ششم قابَ قوسین کے مقام پر، ہفتم بہشت میں کہ جہاں سے اگر کچھ کھا پی لیا جائے توتمام عمر بھوک اور پیاس نہیں لگتی اورنہ ہی نیند آتی ہے، ہشتم حوضِ کوثر کے مقام پرجہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ اقدس سے شراباً طہوراً پی لی جائے تو وجود پاک ہوکر مقامِ ترک و توکل اور مقامِ تجرید و تفرید سے گزر کر توحید تک پہنچ جاتا ہے اور توفیقِ الٰہی سے رفاقتِ حق حاصل ہو جاتی ہے۔ نہم مجلسِ محمدی  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ربوبیت کے انوار میں غرق ہو کر دیدار سے مشرف ہونے کے مرتبہ پر ہوتی ہے۔ جو خود کو فنا کر لے وہ فقر کی معرفت کی انتہا یعنی بقا تک پہنچ جاتا ہے۔ (شمس العارفین)

آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں: 

ب  بسم      اِسم  اللہ   دا،   ایہہ  وِی  گہناں  بھارا   ھوُ
نال شفاعت سرورِ عالمؐ، چھٹسی عالم سارا ھوُ
حدوں بے حد درود نبیؐ نوں، جیندا ایڈ پسارا ھوُ
میں قربان تنہاں توں باھوؒ، جنہاں ملیا نبیؐ سوہارا ھوُ

مفہوم: بسم    میں ’’اسمِ اللہ  ذات‘‘ پوشیدہ ہے اور یہ وہ بھاری امانت ہے جس کو اٹھانے سے روزِ ازل انسان کے سوا ہر شے اور مخلوق نے عاجزی ظاہر کردی تھی۔ یہ امانت ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے نصیب ہوئی ہے۔ روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت سے ہی تمام عالم کو نجات حاصل ہو گی اس لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر بے حد و حساب درود وسلام بھیجنا چاہیے کہ ہم ایسے صاحبِ عظمت، صاحب ِ برکت اور صاحبِ رحمت نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت سے ہیں۔ میں ان طالبانِ مولیٰ کے قربان جاؤں جو تمام باطنی مراتب طے کرتے ہوئے مجلسِ محمدیؐ تک پہنچ جاتے ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قرب حاصل کر لیتے ہیں۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں:

بہ مصطفیؐ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی، تمام بولہبی است
(ارمغانِ حجاز)

ترجمہ: تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں۔ اگر تو اُن (مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابو لہب کا دین ہے۔ 

مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری باطن کا اہم مقام ہے جس کو مکمل طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو حق الیقین کی منزل ہے اور اس کی حقیقت سے وہی واقف ہوتا ہے جو اسے پا لیتا ہے۔ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے بعد ہی طالب لقائے الٰہی سے مشرف ہوتا ہے۔ (جو سمجھ گیا سو سمجھ گیا)

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں