مرشد کامل اکمل | Murshid Kamil

مرشد کامل اکمل

 وسیلہ کا مفہوم اور شرعی حیثیت

قرآنِ مجید میں ارشادِباری تعالیٰ ہے:
یٰٓاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ (سورۃ الما ئدہ۔ 35)
ترجمہ: اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔

اس آیت مبارکہ میں دو باتوں کا حکم ہوا ہے: اوّل تقویٰ اختیار کرنا، دوم اللہ کی پہچان کے لیے وسیلہ پکڑنا، ڈھونڈنا یا تلاش کرنا۔
تقویٰ کے لغوی معنی تو پر ہیز گاری اور پارسائی کے ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں قلب کا اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کانام تقویٰ ہے اور جس انسان کا قلب جتنا زیادہ قربِ الٰہی میں ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ متقی یا صاحبِ تقویٰ ہوگا۔ تقویٰ انسان کی باطنی کیفیت ہے اور اس کی انتہا دیدارِ الٰہی ہے۔ اس کی تصدیق اس حدیث ِمبارکہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک بار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دِل کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔‘‘
و سیلہ کالغو ی معنی ـ ــ واضح راستہ اور ایسا ذریعہ ہے جو منزلِ مقصود تک پہنچادے اور اس حد تک معاون و مددگار ہو کہ حاجت مند کی حاجت باقی نہ رہے
 اور اس وسیلہ کی بدولت وہ مقصودِ زندگی حاصل کر کے مطمئن ہو جائے۔ لسان العرب میں وسیلہ کی تعریف یوں کی گئی ہے:
جس کے ذریعے کسی دوسری چیز کا قرب حاصل کیا جائے اسے وسیلہ کہتے ہیں۔ (جلد 11 صفحہ 725) 
شرعی اصطلاح میں وسیلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کسی ایسی ہستی کو وسیلہ بنایا جائے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب اور پسند یدہ ہو، جس نے راہ ِسلوک طے کیا ہو اور اس راستہ کے نشیب وفراز سے واقف ہو۔ تصوف میں وسیلہ سے مراد مرشد، ہادی، شیخ یا پیر ہے جو خود شناسائے راہ ہو اور راہِ فقر کی منزلیں طے کرتا ہوا حریمِ قدس تک پہنچ چکا ہو اور اب اس قابل ہو کہ اُمت کے ناقص و خام عوام کی راہنمائی کرکے اپنی روحانی قیادت میں انہیں شیطانی وساوس و خطرات اور نفس کی تباہ کاریوں اور رکاوٹوں سے بچا کر اللہ کے قرب میں لے جاسکے۔ اِس صورت میں مذکورہ آیتِ کریمہ کا مطلب یہ ہوگا ’’اے لوگو! کسی ہادی کامل (مرشد ِ کامل اکمل) کی تلاش کرو تاکہ ربّ تک پہنچ سکو۔‘‘ 

بعض لوگ لفظ وسیلہ سے مراد ایمان لیتے ہیں لیکن یٰٓاَِیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا  کا خطاب ہی ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو ایمان لا چکے ہیں۔ اس لیے یہاں ایمان تلاش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہٰذا یہ رائے کہ وسیلہ سے مراد ایمان ہے، درست نہیں ہے۔ کچھ لوگ وسیلہ سے مراد عملِ صالح لیتے ہیں لیکن اس رائے کے خلاف یہ دلیل ہی کافی ہے کہ آیتِ کر یمہ میں وسیلہ ڈھونڈنے یا تلاش کرنے کاحکم ملا ہے۔ اعمال چونکہ غیر مرئی (جو نظر نہ آتے ہوں) ہوتے ہیں اس لیے انہیں تو ڈھونڈا نہیں جاسکتا لہٰذا وسیلہ سے مرشد ِ کا مل مراد لیناہی مناسب ہے کیونکہ مرئی اور محسوس ہونے کی وجہ سے اسے ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ اس رائے کو تر جیح دینے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ تمام اعمالِ صالحہ اس قابل نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب وحضور اور مشاہدۂ حق تعالیٰ کا وسیلہ بن سکیں بلکہ وہی اعمال یہ مقام ومرتبہ حاصل کرتے ہیں جو غرور و تکبر، حسد و کدورت، خودپسندی وریا کار ی اور نمو دونمائش کی آلائشوں سے پاک ہوں۔ اِن آلائشوں اور غلاظتوں سے وہی اعمال پاک رہ سکتے ہیں جو مرشد ِکامل کی زیر ِتربیت اور اس کی (ظاہری وباطنی) نگرانی میں تزکیہ نفس کے بعد انجام دئیے گئے ہوں۔ اس لیے یہ زیادہ مناسب ہے کہ وسیلہ سے مراد ہادیِ صادق  یعنی مرشد ِکامل اکمل لیا جائے اور اس آیتِ کریمہ کا مطلب یہ ہوا کہ مرشد ِکامل کی تلاش میں سُستی نہ کرو تاکہ و ہ تمہیں اپنی نگاہِ کیمیا اثر، نورانی صحبت و قرب اور روحانی اثرات وفیوضات سے منزلِ مقصود تک پہنچا دے اور تمہارا تزکیہ نفس اس طرح کرے کہ تمہارے سب اعمال پاکیزہ ہو کر بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کے لائق ہو جائیں۔بقول شاعر: 

اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں  ملتا
یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

اقبالؒ فرماتے ہیں:

اگر کوئی شعیب آئے میسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
(بال جبریل)

اِن احادیث مبارکہ میں بھی مرشد کی تلاش کا حکم ہے:
اَلرَّفِیْقُ ثُمَّ الطَّرِیْقُ 
ترجمہ:  پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔
لَا دِیْنَ لِمَنْ لَا شَیْخَ لَہٗ
ترجمہ: اس شخص کا دین ہی نہیں جس کا شیخ (مرشد) نہیں۔
مَنْ لَا شَیْخَ  یَتَّخِذُہُ الشَّیْطٰن   
ترجمہ:  جس کامرشد نہیں شیطان اسے گھیر لیتا ہے۔
مَنْ مَاتَ وَ لَیْسَ فِیْ عُنُقِہٖ بَیْعَۃٌ مَاتَ مَیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً (مسلم۔4793)
ترجمہ: جو شخص اس حالت میں مرا کہ اسکی گردن میں امامِ وقت (مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ) کی بیعت نہیں وہ جہالت کی موت مرا۔
مَنْ مَاتَ بِغَیْرِ اِمَامٍ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً (مسند احمد۔12144)
ترجمہ: جو شخص امام (مرشد) کے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔
اَلشَّیْخُ فِیْ قَوْمِہٖ کَنَبِیٍّ فِیْ اُمَّتِہٖ 
ترجمہ: شیخ (مرشد ِ کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسے کہ ایک نبی اپنی اُمت میں۔

آج تک کسی ولیٔ کامل کو ولایت، معرفتِ الٰہی اورمشاہدۂ حق تعالیٰ بغیر کامل اکمل مرشد کی تر بیت کے حاصل نہیں ہوا۔ امام غزالیؒ درس و تدریس کا سلسلہ چھوڑ کر حضرت فضل بن محمد فارمدی رحمتہ اللہ علیہ کی قربت اور غلامی میں نہ آتے تو آج ان کا شہر ہ نہ ہوتا، مولانا رومؒ اگر شاہ شمس تبریزؒ کی غلامی اختیار نہ کرتے تو انہیں ہرگز یہ مقام نہ ملتا، علامہ اقبالؒ کو اگر مولانا رومؒ سے روحانی فیض نہ ملتا تو وہ گل وبلبل کی شاعری میں ہی اُلجھ کررہ جاتے۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ قصہ مختصر کہ فقر وطریقت کی تاریخ میں آ ج تک کوئی بھی مرشد کی رہنمائی اور بیعت کے بغیر اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکا۔ 

قرآن و سنت میں بیعت کا ثبوت

مرشد کامل اکمل کی بیعت لوازماتِ دین میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے اور اس کی گواہ خود قرآن اور حدیث کی تمام کتب ہیں۔ ہر مسلمان کے لیے قبل اس کے کہ وہ دین کے باقی لوازمات یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ، توحید وغیرہ کو سمجھے اور مدارجِ ایمان میں ترقی کرے، نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمسے بیعت کرنا لازم تھا۔ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے اور کلمۂ توحید زبان سے پڑھ لینے کے باوجود کوئی مسلمان مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا جب تک کہ وہ بیعت نہ کر لے۔ پس بیعت اقرارِ توحید و رسالت کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دی گئی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کوئی عمل بے حکمت اور بے سبب نہیں ہے اور ہر عمل میں اُمت کے لیے کوئی نہ کوئی رہنمائی کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ چنانچہ ایمان کے زبانی اقرار کے ساتھ ہی بیعت کو لازم و ملزوم قرار دینا اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورانی فیض کا حصول اور ان کی رہنمائی میں مدارجِ ایمان کی تکمیل بیعت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس بات میں بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کو اقرارِ توحید کے ساتھ لازم قرار دیا تو صرف اللہ کے حکم کے عین مطابق کیونکہ جن کے متعلق قرآن گواہی دے رہا ہے کہ: 
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔  اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (سورۃ النجم3-4)
ترجمہ:اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ ان کا کلام تو صرف وحیٔ الٰہی ہوتاہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔

ان کا کوئی بھی عمل اپنی مرضی سے کیسے ہو سکتا ہے! یقینا ان کا ہر عمل بھی وحی ٔ الٰہی کے مطابق ہی ہوگا اور یوں ہی بیعت بھی حکمِ الٰہی کے مطابق ہی ہوگی اور یقینا توحید و رسالت کے اقرار کی طرح انتہائی اہم اور دین کی تکمیل میں لازم ہوگی ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر مسلمان مرد و عورت کے اقرارِ ایمان کے ساتھ ہی اس سے بیعت نہ لیتے۔ مزید برآں بیعت کا تعلق سنتِ ھدیٰ سے ہے جن کا تارک منکرینِ اسلام میں شامل ہوتا ہے کیونکہ بیعت ان سنتوں میں شامل ہے جو دین کے احکام سے وابستہ ہیں اور جس کا ذکر قرآن میں بھی بڑے واضح الفاظ اور حکمت کے ساتھ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ ج فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (سورۃ الفتح۔10)
ترجمہ: بے شک جو لوگ آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی ذات پر ہوگا اور جس نے پورا کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا تو وہ اس کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔

اس آیتِ مبارکہ سے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظیم ذات کا اعلیٰ ترین رُتبہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا عمل اللہ کا عمل ہے، ان سے تعلق اللہ سے تعلق ہے، ان سے بیعت اللہ سے بیعت ہے وہیں بیعت کے عمل کی عظمت اور فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ اپنی ذات سے بھی منسوب کیا کہ جو لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت ان کے وسیلے سے اللہ کے ساتھ بیعت کرتے ہیں۔ یوں بیعت لینے کا عمل صرف سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی نہ ہوا بلکہ سنتِ الٰہی بھی ہوا۔ پورے قرآن میں دین کے کسی دوسرے جز اور عبادت کو اللہ نے اپنی ذات سے منسوب نہیں کیا سوائے درود پاک کے کہ ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجو‘‘۔ البتہ درود پاک اللہ کی سنت تو ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت نہیں کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر درود نہ بھیجا۔ اور دیگر تمام عبادات سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ہیں لیکن سنتِ الٰہی نہیں۔ پس بیعت دین کا وہ واحد جز ہے جو سنتِ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمبھی ثابت ہوا اور سنت ِ الٰہی بھی۔

مندرجہ بالا سورۃ فتح کی آیت10 کے مطابق بیعت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اللہ سے عہد اور وعدے کی ایک صورت قرار دیا ہے۔ چونکہ بیعت اللہ سے ایک عظیم عہد ہے اور اس سے رشتہ جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے اس لیے اللہ نے اس عہد کو نبھانے کی سخت تاکید کی ہے، اس کے توڑنے پر پُرسش کی تنبیہ بھی کی ہے اور نبھانے پر اجر ِعظیم کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَ اَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰھَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًا (سورۃ النحل۔91)
 ترجمہ:اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم نے اس سے عہد کر لیا ہے اور اپنی قسموں کو انہیں پختہ کرنے کے بعدنہ توڑو، اور تحقیق تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بنا لیا ہے۔
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :
وَ اَوْفُوْا بِالْعَھْدِج اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلاً۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔34)
ترجمہ:اور پورا کیا کرو اپنے وعدہ کو، بے شک ان وعدوں کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔ 

قرآن کے ساتھ ساتھ کثیر متفقہ علیہ احادیثِ مبارکہ جو تقریباً تمام معتبر کتبِ احادیث میں روایت کی گئی ہیں، بھی بیعت کے عظیم سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہونے کا ثبوت ہیں۔ آغازِ اسلام میں جب مدینہ سے کچھ وفود مکہ آئے اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو جن افراد نے پہلے سال دعوتِ حق کو لبیک کہا ان کی بیعت ’’بیعت عقبہ اولیٰ‘‘ کے نام سے اور دوسرے سال بیعت کرنے والوں کی بیعت ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ 

لہٰذا انسانِ کامل (مرشد کامل) کے ہاتھ پر بیعت کرنا قرآن و سنت سے ثابت ہوا۔ جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سا تھ بیعت ضروری ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلفا کے ساتھ بھی بیعت کی وہی اہمیت ہے بلکہ پہلے سے زیادہ ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی ظاہری غیر موجود گی میں بیعت اور وسیلہ کی زیادہ ضرورت ہے۔

سورۃ الفتح کی آیت نمبر 10 میں اللہ کر یم نے صحابہ کرامؓ کو بتایا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے بلکہ یہ سمجھیں کہ ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کے ہا تھ میں اپنا ہا تھ دیا ہے اور اللہ سے بیعت کی ہے۔ بعد والوں نے صحابہ کرامؓ سے بیعت کی اور دو واسطوں سے خداتک پہنچے۔ پھر یہ واسطے اور وسیلے بڑھتے گئے یہاں تک کہ چودہ صدیوں سے زائد عرصہ بیت گیا۔ اب اگر کوئی ایسے مرشد کامل اکمل کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے تو بے شما ر واسطوں اور وسیلو ں سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچتا ہے۔

 آج کا مسلمان جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے مسلمان کہلاتا ہے، اسے اگرچہ بیعتِ اسلام کی ضرورت نہیں ہے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے راشدین کے فیض کے حصول کے لیے بیعتِ توبہ و تقویٰ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے جس کے حوالے بھی کثرت سے سنتِ مبارکہ میں ملتے ہیں۔ 

پس بیعتِ توبہ و تقویٰ ایسی عظیم سنتِ مبارکہ ہے جو ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں جاری و ساری رہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلفا اور وارثین صوفیا کرام ہی اس سنتِ مبارکہ کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھنے والے ہیں۔ بیعت ِ توبہ و تقویٰ کو واپس اس کی اصل صورت میں جاری کرنے کا سہرا بھی دین کو دوبارہ زندہ کرنے والے محی الدین حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے سر ہے۔حضرت شیخ سیدّ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کو اپنے مرشد حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ سے خرقہ ہی عنایت ہوا تھا جسے عنایت کرتے وقت حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’اے عبدالقادر! یہ خرقہ جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطا فرمایا، انہوں نے خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو عطا فرمایا اور ان سے دست بدست مجھ تک پہنچا۔‘‘ (بہجتہ الاسرار)

خواتین کی بیعت

بیعت پر اعتراض کرنے والے لوگ خواتین کی بیعت پر مردوں کی بیعت سے بھی زیادہ کیچڑ اچھالتے ہیں حالانکہ قرآن و حدیث میں خواتین کی بیعت کا تذکرہ علیحدہ سے ملتا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ نے خواتین کی بیعت کے ذکر کا علیحدہ سے خصوصی اہتمام اسی لیے کیا تاکہ ان اعتراض کرنے والوں کو جواب دیا جاسکے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
 یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا  وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ  بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَ اَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ  فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْھُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَھُنَّ اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ  غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔(سورۃ الممتحنہ۔12)
ترجمہ: اے نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)!جس وقت آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری نہ کریں گی اور بدکاری نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی جھوٹا بہتان نہ باندھیں گی اور نہ ہی حکم ِ شرع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نافرمانی کریں گی، پس ان سے بیعت قبول کریں اور ان کے واسطے اللہ سے بخشش مانگیں، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

خواتین کی بیعت کے متعلق یہ آیت ایسی واضح دلیل ہے جس سے سوائے حاسد، متکبر اور منکرِقرآن کے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بیعت ِ اسلام نہ تھی بلکہ بیعتِ توبہ و تقویٰ تھی کیونکہ آیت کے آغا زمیں ’’مومنات ‘‘کا ذکر کیا گیا ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیعت کرنے کے لیے آئیں ۔ظاہر ہے یہ خواتین اسلام لاچکی تھیں اور مسلمان کی حیثیت سے بیعت ِ توبہ و تقویٰ کر رہی تھیں۔ مومنات کی بیعت کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں بھی کثرت سے ملتا ہے۔ 

حضرت امیمہ بنتِ رُقیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں کچھ انصاری عورتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۔ ہم آپ سے بیعت ہونا چاہتی تھیں۔ عرض کی ’’یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! ہم آپ سے بیعت کرتی ہیں کہ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں گی نہ چوری کریں گی نہ زنا، نہ ہی اولادوں کو قتل کریں گی اور نہ ہی کسی پر بہتان لگائیں گی اور نہ ہی نیکی کے کام میں نافرمانی کریں گی۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق (تم پابند ہوگی)‘‘۔ ہم نے عرض کی’’ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ہماری ذاتوں پر ہم سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔ اجازت دیجئے ہم آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کرتی ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ میرا زبانی طور پر سو عورتوں سے (بیعت کی) بات چیت کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہر عورت سے الگ الگ بات چیت کرنا۔‘‘ (نسائی 4186، ترمذی1597، ابن ِ ماجہ 2874)

مرشد کامل اکمل کی اہمیت

وصالِ حق تعالیٰ مرشد کامل اکمل کی راہنمائی کے بغیر ناممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے عظیم علمائے حق نے کثیر علم ہونے کے باوجود اللہ کی معرفت اور وصال کی طلب میں کامل مرشد کی تلاش اور پیروی کی۔  

حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ پہلے تصوف اور صوفیائے کرامؓ کی مخالفت میں مشہور تھے لیکن بعد میں جب حضرت بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت میں رہ کر حلاوتِ ایمان نصیب ہوئی تو جب کوئی شخص احکامِ شریعت اِن سے دریافت کرنے آتا تو خود بتا دیتے تھے لیکن جب کوئی شخص راہِ حقیقت دریافت کرنے آتا تو حضرت شیخ بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیتے تھے۔ یہ دیکھ کر اِن کے شاگرد وں کو غیرت آئی اور عرض کیا کہ آپؒ اتنے بڑے عالم ہو کر لو گوں کو ایک صوفی کے حوالہ کیوں کردیتے ہیں۔ آپؒ نے فرمایاکہ مجھے اللہ کے احکام کا علم ہے اور اُن کو اللہ کا علم ہے اِس لیے طالبانِ حق کو ان کے پاس بھیجتا ہوں۔

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ حضرت بشر حافیؒ کے پیچھے پیچھے بھاگتے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے عالم ہو کر ایک فقیر کے پیچھے بھاگتے ہو، بات سمجھ میں نہیں آئی۔ امام احمد بن حنبلؒ نے جواب دیا ــ’’احمد بن حنبل جس ربّ کو مانتا ہے بشر حافی اس ربّ کو جانتا ہے۔‘‘

حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ بظاہر ایک مجذوب تھے لیکن ان کا شمار حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مشائخ میں ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امامِ اعظم اِن سے کیا سیکھتے ہوں گے؟ کیا وہ ان سے فقہ، حدیث، صرف،نحو یا اصول و بلاغت کے اسباق پڑھتے ہوں گے؟ اِن علوم میں تو امام ابو حنیفہؒ خود یکتائے روزگار تھے۔ بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ کے مکتب میں وہ تزکیہ نفس اور اسباقِ عشق کے لیے جاتے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی کتبِ سوانح اٹھا کر دیکھ لیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مشائخ کی صف میں حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ کا نام سرِ فہرست ملے گا۔ آپؒ کا قول ہے ’’اگر میں دو سال حضرت بہلول داناؒ  کی صحبت میں نہ رہتا تو ضائع ہو گیا ہوتا۔‘‘
ان مثالوں سے مرشد کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے قرب کے لیے صرف عبادات اور علم کافی نہیں بلکہ اللہ کے مقرب بندوں کی صحبت اور راہنمائی اس کے لیے ناگزیر ہے۔

مرشد کامل اکمل کا اندازِ تربیت

مرشد کا مل اکمل طالبِ اللہ (مرید) کی تربیت با لکل اسی طریقہ سے کرتے ہیں جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحا بہ کرامؓ کی تر بیت فرمائی تھی۔ قرآنِ پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انداز ِ تربیت کو یو ں بیان کیا گیا ہے:
یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ (سورۃ الجمعہ۔2)
تر جمہ: (میرا محبوبؐ) اِن کو آیا ت پڑ ھ کر سنا تا ہے اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

سورۃ جمعہ کی آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ نے منصبِ نبوت میں اِن امو رکو شامل فرمایا ہے:
(1)آیات پڑھ کر سنانا یعنی دعوت دینا اوراللہ کے احکام پہنچانا
(2)تزکیہ نفس کرنا
(3) احکامِ الٰہی کی تعلیم دینا
(4) حکمت (علمِ لدنیّ) عطا کرنا۔

آج کل علمائے کرام بھی لوگوں کے سامنے آیات پڑ ھتے ہیں، لوگو ں کو دین کی دعوت دیتے ہیں، مطالبِ قرآن بھی سمجھاتے ہیں اور احکامِ قرآن کی تلقین بھی کرتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہدایت سے تو لوگ جوق در جوق آکر اسلام قبول کرتے تھے لیکن علمائے کرام کے سامنے کوئی آدمی بھی اسلام قبول نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اندر زبردست روحانی قوت موجود تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محض زیار ت، با ت چیت اور صحبت سے صحابہؓ کے مراتب بلند ہو جاتے تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اسلام لانے سے قبل کئی یہودی، نصاریٰ اور آتش پرست اربابِ روحانیت سے ملاقات کرچکے تھے لیکن کسی سے متاثر نہ ہوئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو چہرہ مبارک دیکھتے ہی کلمہ طیبہ پڑھ لیا۔

مرشد کی تلقین اور نگاہ ہی ایسی کیمیا ہے جو طالب کے وجود کی کثافت دور کر کے اسے روشن ضمیری کے قابل بناتی ہے۔ تعلیم اور تلقین میں کیا فرق ہے؟ تعلیم سے ظاہری علم واضح ہوتا ہے جبکہ تلقین سے دو جہان کی روشن ضمیری حاصل ہوتی ہے، تزکیہ نفس و تصفیہ قلب ہوتا ہے اور روحانی بلندی سے قربِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ 

قصہ مختصرکتاب وحکمت کی تعلیم و تلقین مرشد ِ کامل اکمل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مرشد ہی طالب کو اس کی استطاعت کے مطابق شیطان اور نفس کی چالبازیوں سے بچاتا ہوا دارالامن (قربِ الٰہی) میں لے جاتا ہے۔ عام لوگوں کو تو اس روحانی علم کے نا م سے بھی واقفیت نہیں چہ جائیکہ اِن کوا س پر دسترس حاصل ہو۔ 

تلاشِ مرشد

جب طالبِ مولیٰ (سالک) تلاشِ حق کے سفر پر نکلتا ہے تو سب سے پہلا مرحلہ مرشد کامل اکمل کی تلاش ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے قرب و وصال کی راہ چونکہ شریعت کے دروازہ سے ہو کر گزرتی ہے اس لیے شریعت کے دروازے کے دونوں طرف شیطان اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت طالبِ مولیٰ کی گھات لگا کر بیٹھا ہے۔ اوّل تو وہ کسی آدم زاد کو شریعت کے دروازے تک آنے ہی نہیں دیتا، اگر کوئی باہمت آدمی شریعت (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) کے دروازہ تک پہنچ جاتا ہے تو شیطانی گروہ اسے شریعت کی چوکھٹ پر روک رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے شریعت کی ظاہری زیب و زینت کے نظاروں میں محو رکھتا ہے۔ وہ شریعت کی روح تک کسی کو نہیں پہنچنے دیتا اور آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ جو لوگ شریعت پر کاربند ہیں وہ اس کی روح تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ اگر کوئی خوش قسمت طالب ِ مولیٰ ہمت کر کے آگے بڑھتا ہے تو شیطان پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ اسے روکنے یا گمراہ کرنے کے جتن کرتا ہے اور اس کی راہ مارنے کا ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔ طالبِ مولیٰ جب شریعت کے دروازہ سے گزر کر باطن کی نگری میں داخل ہوتا ہے تو اسے رجوعاتِ خلق (خلقت اپنی دنیاوی مشکلات کے خاتمہ کے لیے اس کی طرف رجوع کرتی ہے) کے نہایت ہی وسیع و دشوار گزار جنگل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر طالبِ مولیٰ کو اگر کسی مرشد کامل اکمل کی رفاقت اور راہبری حاصل نہ ہو تو وہ رجوعاتِ خلق کے جنگل میں بھٹک کر باطنی طور پر ہلاک ہو جاتا ہے۔ جس طرح شریعت کا علم استاد کے بغیر ہاتھ نہیں آتا اسی طرح باطنی علم کا حصول مرشد کامل اکمل کی رفاقت کے بغیر ناممکن ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ مرشدِ کامل کی پہچان کیسے ہو جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے:
اللہ تعالیٰ کی معرفت آسان ہے لیکن ولی اللہ (مرشدِ کامل) کی حقیقت کی معرفت مشکل ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کمال و جمال کی وجہ سے معروف ہے لیکن ولی اللہ ایک مخلوق ہے اور مخلوق کو مخلوق کی معرفت مشکل ہوتی ہے کیونکہ وہ انہی کی طرح احکامِ شرع کی پابندی کرتا ہے لیکن اس کا باطن اللہ کے ساتھ مشغول ہے اس لیے اس کی معرفت مشکل ہو جاتی ہے۔ (تفسیر روح البیان)

مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ

اگر مرشد کی تلاش کا مقصد حق تعالیٰ کی پہچان اور قرب ہے تو اس کے لیے آپ کو دوطرح کے مرشد ملیں گے۔ ایک مرشد وہ جو امانتِ الٰہیہ یا خلافتِ الٰہیہ کا حامل ہوتا ہے، یہی نائب اور خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے، یہی اپنے دور کا انسانِ کامل اور امام الوقت ہے اور یہی مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہوتا ہے جبکہ باقی اس کے خلفا ہوتے ہیں۔ دونوں کا ذکر ہم تفصیل سے کر رہے ہیں۔
امانتِ  الٰہیہ کے بارے میں قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ  عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْھَا وَ حَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلاً۔ (سورۃ الاحزاب۔ 72)
ترجمہ: ہم نے اپنی امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو سب نے اس بارِ امانت کو اٹھانے سے عاجزی ظاہر کر دی  لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بے شک وہ (اپنے نفس کے لیے) ظالم اور نادان ہے۔
حضرت سخی سلطان باھوؒفرماتے ہیں: 

اسم اللہ بس گرانست بس عظیم
ایں حقیقت یافتہ نبی کریمؐ

ترجمہ: اسمِ اللہ  ذات نہایت ہی بھاری و عظیم امانت ہے۔ اس کی حقیقت کو صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی جانتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)

عارفین کے نزدیک اس امانت سے مراد اسمِ اللہ ذات یعنی خزانۂ فقر ہے۔ جس انسان میں امانتِ الٰہیہ یا خزانۂ فقر منتقل ہونا ہوتا ہے وہ  اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہِ۔  ( ترجمہ: جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہی اللہ ہے) کے مرتبہ کا حامل ہوتا ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خزانۂ فقر کے مالک اور مختارِ کلُ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے در سے ہی فقر کے متعلق تمام فیصلے صادر ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم سے ہی امانتِ الٰہیہ (خزانۂ فقر) ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہوتی ہے یعنی ایک دور کے انسانِ کامل (مرشد کامل) سے اگلے دور کے انسانِ کامل کو منتقل کی جاتی ہے۔ جو شخص خود بخود اس امانت کا حامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ پکا مردود اور خبیث ہے اور اس کا انجام بڑا بھیانک ہوتا ہے۔

سروری قادری مرشد دو طرح کے ہوتے ہیں:
صاحبِ اسم:  صاحبِ اسم صاحبِ ذکر ہے اور صاحبِ اسم مقامِ خلق پرہوتا ہے۔ یہ خلفا ہوتے ہیں۔
صاحبِ مسمٰی: صاحبِ مسمیّ فقیر فنا فی اللہ بقاباللہ ہوتا ہے۔ امانتِ الٰہیہ، خلافتِ الٰہیہ کا حامل اور انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے اور یہی مرشدِ  کامل اکمل نور الہدیٰ ہے۔ اِن کے مریدین کو تصور اسمِ اللہ ذات سے تصورِ شیخ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے مرشد کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
فقیر  عارف باللہ اُسے کہتے ہیں جو فنا فی اللہ، فنا فی الرسول، فنا فی فقر اور فنا فی ’’ھوُ‘‘ ہو۔  (عین الفقر)

صاحبِ اسم اور صاحبِ مسمیّ کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
اسم اور مسمیّ میں کیا فرق ہے؟ صاحبِ اسم (محض) ذکر کرنے والا ہوتا ہے اور صاحبِ مسمیّ اللہ تعالیٰ کی ذات میں غرق ہوتا ہے۔ صاحبِ اسم مقامِ مخلوق پر ہوتا ہے اور صاحبِ مسمیّ مقامِ غیر مخلوق پر ہوتا ہے۔ صاحبِ مسمیّ پر ذکر حرام ہے کیونکہ صاحبِ مسمیّ ظاہر اور باطن میں ہر وقت حضوریٔ فنا فی اللہ میں مکمل طور پر غرق ہوتا ہے۔ (عین الفقر)

صاحبِ مسمیّ مرشد کی تعریف کرتے ہوئے حضرت سخی سلطان باھوؒ محک الفقر کلاں میں فرماتے ہیں:
اس راہ (فقر) کا تعلق عرف (شہرت ، نام و ناموس) سے نہیں عرفانِ حق سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے عطا کرتا ہے وہ مطلق مسمیّ فنا فی اللہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ راہِ معرفتِ مسمیّ کا تعلق گفتگو سے نہیں، عطائے الٰہی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے عطا کرتا ہے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے اور وہی اسے جانتا پہچانتا ہے ۔

مسمیّ آں کہ باشد لازوالی
نہ آں جا ذکر و فکر نہ وصالی
بود غرقش بہ وحدت عین دانی
فنا فی ،اللہ شود سِرِّ نہانی 

ترجمہ: مقامِ مسمیّ لازوال مقام ہے جہاں پر ذکر فکر اور وصال کی مزید گنجائش نہیں رہتی کیونکہ یہاں طالب عین وحدت میں غرق ہوتا ہے۔ اِس مقام پر پہنچ کر طالبِ اللہ فنا فی اللہ فقیر ہوجاتا ہے اور اس پر رازِ پنہاں ظاہر ہو جاتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں :

آپ نہ طالب ہین کہیں دے، لوکاں نوُں طالب کر دے ھوُ
چانون کھیپاں کر دے سیپاں، قہر اللہ توں ناہیں ڈر دے ھوُ
عشق مجازی تلکن بازی، پیر اولے دَھر دے ھوُ
اوہ شرمندے ہوسن باھوؒ، اندر روز حشر دے ھوُ

مرشد کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ خود کسی کامل مرشد سے تلقین و ارشاد حاصل کرے اور پھر خود کامل ہونے کے بعد تلقین و ارشاد کی مسند سنبھالے۔ اس بیت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشدانِ ناقص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ نہ خود طالبِ مولیٰ بن سکے، نہ راہِ فقر پر چل سکے نہ ہی کسی کامل مرشد سے بیعت ہوئے اور نہ ہی انہیں تلقین وارشاد کی اجازت حاصل ہے بلکہ بعض ناقص مرشد تو ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی خود فریبی میں مبتلا ہوتے ہیں اور تلقین و ارشاد کو اپنا ورثہ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ دیہاتی دکانداروں کی طرح دوسروں کو معاوضہ کے بدلے معرفت اور خلافت عطا کرنے کا ٹھیکہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں سے تلقین و ارشاد لینا حرام ہے۔ یہ لوگ عشقِ مجازی کے پھسل جانے والے خوفناک کھیل میں مبتلا ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ تنبیہہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دِن یہ لوگ شرمندہ وخوارہو ں گے۔

پیر ملیاں جے پیڑ ناں جاوے، اُس نوُں پیر کی دَھرناں ھوُ
مرشد ملیاں اِرشاد نہ من نوں، اوہ مرشد کی کرناں ھوُ
جس ہادی کولوں ہدایت ناہیں، اوہ ہادی کی پھڑناں ھوُ
جے سر دِتیاں حق حاصل ہووے باھوؒ، اُس موتوں کی ڈَرناں ھوُ 

اگر کسی مرشد کے دستِ بیعت ہونے کے بعد بھی طالبِ صادق کو اللہ تعالیٰ کا وصال نصیب نہ ہو اور ہجر کا درد تڑپاتا رہے تو ایسے ناقص مرشد کو مرشد تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دینا چاہیے۔ جس مرشد سے دِل کو رُشد و ہدایت حاصل نہ ہو اور من کو سکون نہ ملے تو ایسے مرشد کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے اور جس ہادی (مرشد) سے ہدایت اور صراطِ مستقیم حاصل نہ ہو اس کی بیعت اور پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں اگر ایسا مرشد کامل مل جائے جو مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا  کے مقام پر پہنچا دے جہاں سر قربان کرکے دیدارِ الٰہی حاصل ہو جاتا ہے تو ایسی موت سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
مرشد کا مل قلب (دل) کی مانند ہوتا ہے اور مرشد ناقص کلب (کتے) کی مانند ہوتا ہے۔ (مجالستہ النبیؐ خورد)

المختصر راہِ فقر میں مرشد ِ کامل اکمل کی راہبری لازمی ہے لیکن راہزن مرشد سے بچنا چاہیے۔ جو لوگ قلب میں خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طلب لے کر نکلتے ہیں وہ ان راہزنوں سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ جس کی طلب میں وہ نکلے ہیں وہی اُن کا حافظ و ناصر ہوتا ہے اور جس کا حافظ اللہ تعالیٰ خود ہو اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطا ن باھوُ رحمتہ اللہ علیہ

  حضرت سخی سلطان با ھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک صاحبِ نظر اور دوسرے صاحبِ زر۔ مرشد فصلی سالی (مرشد ناقص) اور مرشد وصلی لازوالی  (مرشد کامل اکمل)۔ (عین الفقر)
مرشد درخت کی طرح ہوتا ہے جو موسم کی سردی اور گرمی خود برداشت کرتا ہے مگر اپنے زیرِ سایہ بیٹھنے والے کو سکون اور آرام مہیا کرتا ہے۔ مرشد کودین کادوست اور دنیا کا دشمن ہونا چاہیے جبکہ طالبِ مولیٰ کو صاحب ِ یقین ہونا چاہیے جو مرشد پر مال اور جان قربان کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرے۔ مرشد کو نبی اللہ کی مثل ہونا چاہیے اور طالبِ مولیٰ کو ولی اللہ کی مثل ہونا چاہیے۔(عین الفقر)

مرشد طبیب کی طرح ہے اور طالب مریض کی مثل ہے۔ طبیب جب کسی مریض کا علاج کرتا ہے تو اُسے کڑوی اور میٹھی دوائیاں دیتا ہے۔مریض کو چاہیے کہ وہ انہیں کھائے تاکہ صحت یاب ہو جائے۔ (عین الفقر)
دانا بن اور جان لے! اللہ تعالیٰ صاحب ِ راز (مرشد کا مل اکمل) کے سینہ میں ہے۔ (عین الفقر) 

مرشد کامل اکمل کی نشانی کیاہے؟ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد کامل طالب کو خوشخط لکھا ہوا اسم اللہ عطا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے طالب! اس اسم  اللہ کو اپنے دل پر لکھ۔ جب اسم اللہ دل پر لکھنے سے طالب کے قلب میں قرار پکڑلیتا ہے تو مرشد کہتا ہے کہ اے طالب! دیکھ اسم  اللہ ذات میں سے تجلیات آفتاب کی روشنی کی مثل طلوع ہو رہی ہیں۔ ان تجلیات میں طالب کو دل کے ارد گرد ایک لازوال مملکت اور چودہ طبق سے وسیع تر میدان دکھائی دیتا ہے جس میں دونوں جہان اسپند کے دانے کی مانند نظر آتے ہیں۔  (نورالہدیٰ کلاں)
مرشد ِکامل پہلے دن ہی طالبِ مولیٰ کو اسمِ اللہ ذات تحریر کرکے دے دیتا ہے۔ (کلید ِ جنت)
جان لو کہ بندے اور اللہ کے درمیان کوئی پہاڑ، دیوار یا میلوں کی مسافت نہیں ہے بلکہ بندے اور خدا کے درمیان پیاز کے پردے جیسا باریک حجاب ہے۔ اس پیاز کے پردے کو تصور اسمِ اللہ ذات اور صاحبِ راز مرشد کامل کی نگاہ سے توڑنا بالکل مشکل نہیں۔ تو آئے تو دروازہ کھلا ہے اور اگر نہ آئے تو خدا بے نیاز ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
مرشد کامل وہ ہوتا ہے جو طالب کے ہر حال، ہر قول، ہر عمل، ہر فعل اور اس کی ہر حالت ِ معرفت و قرب و وِصال اور اس کے خطرات، دلیل اور وھم و خیال سے باخبر ہو۔ مرشد کو ایسا ہوشیار ہونا چاہیے گویا طالب کی گردن پر سوار ہو اور اس قدر ہوشیار ہو کہ طالب کی ہر بات اور ہر دم سے باخبر ہو۔ ایسے مرشد کا باطن آباد ہوتا ہے اور طالب اسمِ اللہ ذات کے حاضرات کے ذریعے اسے ظاہر و باطن میں حاضر سمجھتا اور اس پر اعتقاد رکھتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

سروری قادری مرشد کے بارے میں آپؒ فرماتے ہیں:
سروری قادری مرشد جامع و مجمل ہوتا ہے۔ وہ باطن اور ظاہر میں ایسی کتاب ہوتا ہے جو طالبوں کے لیے کتب الاکتاب کا درجہ رکھتی ہے، جس کے مطالعہ سے طالب فنا فی اللہ ہو جاتے ہیں اور اس ذات کو بے حجاب دیکھتے ہیں۔ 

طالبان را ہر مطالب خوش نما
اعتقاد صدق خواں و ز دل صفا

ترجمہ: طالبانِ مولیٰ اگر اعتقاد، صدق اور دل کی پاکیزگی سے اس کتاب کو پڑھیں تو وہ ہر مقصود باآسانی پا لیتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)

آپؒ پنجابی ابیات میں مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں:

کامل  مرشد  ایسا  ہووے، جیہڑا دھوبی وانگوں چھٹے  ھوُ
 نال  نگاہ  دے  پاک کریندا،  وِچ  سجی  صبون  نہ  گھتے ھوُ
میلیاں نوں کردیندا چِٹا، وِچ ذرّہ َمیل نہ رَکھے ھوُ
ایسا مرشد ہووے باھُوؒ، جیہڑا لوُں لوُں دے وچ وَسے ھوُ

مرشد کامل کو دھوبی کی طرح ہونا چاہیے۔ جس طرح دھوبی کپڑوں میں میل نہیں چھوڑتا اور میلے کپڑوں کو صاف کردیتا ہے اسی طرح مرشد کامل اکمل طالب کو ورد و وظائف، چلہ کشی اور رنج ِریاضت کی مشقت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اسمِ اللہ ذات کی راہ دکھا کر اور اپنی نگاہِ کامل سے تز کیۂ نفس کر کے اس کے اندر سے قلبی اور روحانی امراض کا خاتمہ کرتا ہے۔ اسے خواہشاتِ دنیا و نفس سے نجات دلاکر اور غیر اللہ کی محبت اس کے دل سے نکال کر صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں غرق کردیتا ہے۔ مرشد تو ایسا ہونا چاہیے جو طالب کے لُوں لُو ں میں بستا ہو۔ 

مرشد وانگ سنارے ہووے، جیہڑا گھت کٹھالی گالے ھوُ
پا کٹھالی باہر کڈھے، بُندے گھڑے یا والے ھوُ

جس طرح زرگر سونے کوکٹھا لی میں ڈال کر پگھلا کر اسے مائع کی شکل دیتا ہے اور پھر اس سے اپنی مرضی کا زیور تیار کرتا ہے مرشد ِ کامل بھی ایسا ہونا چاہیے کہ طالبِ مولیٰ کوعشق کی بھٹی میں ڈالے اور اسمِ اللہ ذات کی حرارت سے اس کے وجود کے اندر سے غیر اللہ نکال باہر کرے یعنی اس کی پہلی عادات وخواہشات کو ختم کردے اور پھر اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اس کی تربیت کرے۔ 

ایہہ تن میرا چشماں ہووے، تے میں مرشد ویکھ نہ رَجاں ھوُ
لوُں لوُں دے مڈ لکھ لکھ چشماں، ہک کھولاں تے ہک کجاں ھوُ
اِتنا ڈِٹھیاں صبر ناں آوے، میں ہور کتے وَل بھجاں ھوُ
مرشد دا دیدار ہے باھُوؒ، مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھوُ

کاش میرا سارا جسم آنکھ بن جائے تاکہ وہ یکسو ہو کر ہر لمحہ مرشد کا دیدار کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی کم ہے، میری طلب تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال میں لاکھ لاکھ آنکھیں ہوں تاکہ آنکھ جھپکتے وقت لمحہ بھر کے لئے کچھ آنکھیں اگر بند بھی ہو جائیں تو میں باقی کھلی آنکھوں سے مرشد کے دیدار میں محو رہوں۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ مرشد کے دیدار میں ہر لمحہ محو رہنا ہی طالب کے لئے کامیابی کی کلید ہے۔ اتنی آنکھوں سے دیدار کرنے کے باوجود بھی میری طلب اور خواہش کم نہیں ہورہی بلکہ دیدار کے لیے بے چینی اور بے قراری بڑھتی ہی جارہی ہے۔ یہی بے قراری اور بے چینی مجھے فقر کی اگلی منزل تک رسائی کی خبر دیتی ہے۔ مرشد کا دیدار تو میرے لئے کروڑہا حج کے برابر ہے۔ اللہ کرے یہ حالت مجھے ہمیشہ نصیب رہے۔

مرشد باجھوں فقر کماوے، وِچ کفر دے بڈے ھوُ
شیخ مشائخ ہو بہندے حجرے، غوث قطب بن اُڈے ھوُ
تسبیحاں نپ بہن مسیتی، جویں موش بہندا وڑ کھڈے ھوُ
رات اندھاری مشکل پینڈا باھوؒ سے سے آون ٹھڈے ھوُ

مرشد کامل کی راہنما ئی کے بغیر انسان نہ صرف وصالِ حق سے محروم رہتا ہے بلکہ بعض اوقات کفر میں مبتلا ہو کر گمراہ ہو جاتا ہے کیونکہ جب اسے اپنی عقلی جدوجہد سے خدا کا وصال نصیب نہیں ہوتا تب وہ سمجھ لیتا ہے کہ اسکا وجود ہی نہیں ہے۔ یوں وہ کفر کے اندھیر وں میں گم ہو جاتا ہے یا اَنا پرستی اور خود پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کوئی رجوعاتِ خلق کا شکار ہو کر کسی حجر ے میں نام نہاد پیر بن کر بیٹھ جا تا ہے اور غوث و قطب کہلانے لگتا ہے۔ کوئی تسبیح پکڑ کر مسجد یا حجرے میں یوں جا بیٹھتا ہے جس طرح کوئی چوہا  بِل میں دبک کر بیٹھ جا تا ہے اور اس طرح اپنی عبادت و ریاضت کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ مرشد ِکامل کے بغیر لاعلمی کی تاریکی میں رہتے ہوئے اس دشوار گزار راستے میں ٹھوکریں ہی ٹھوکریں ہیں۔

صاحبِ مسمیّ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کی راہبری اور راہنمائی کے بغیر وصالِ حق تعالیٰ کا تصور ناممکنات میں سے ہے۔ مرشد کامل وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں طالبِ مولیٰ دنیا و عقبیٰ کے ظلمات میں ہچکولے کھاتی اور ڈگمگاتی اپنی کشتی ٔحیات کو بحفاظت منزلِ مقصود تک لے جانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ مرشد کامل اکمل صاحبِ مسمیّ کی راہنمائی نہ ملنے کی صورت میں ’’فنا فی اللہ بقاباللہ‘‘ کی منزل تک رسائی فقط خیال آرائی اور محض تصور بن کے رہ جاتی ہے۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں