دیدارِ الٰہی |Deedar e Elahi

دیدارِ الٰہی

فقر دیدارِ الٰہی کا علم ہے اور راہِ فقر کے راہی کا سب سے بڑا انعام دیدارِ حق تعالیٰ ہے۔ اس مقام تک پہنچنے والے کو عام اصطلاح میں عارف کہا جاتا ہے اور عارف اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی عبادت کرتا ہے یعنی وہ علم الیقین کا نہیں بلکہ حق الیقین کا حامل ہو تا ہے۔ 

دیدارِ الٰہی یا مشاہدۂ حق تعالیٰ کے لیے عربی میں دو الفاظ ’’لقائے الٰہی ‘‘ اور ’’روئیت حق تعالیٰ‘‘ استعمال ہوتے ہیں۔ لقاکے لغوی معنی دیدار، چہرہ، صورت، شکل اور ملاقات کے جبکہ روئیت کے لغوی معنی دیدار، نظارہ اور صورت کا نظر آنا کے ہیں۔ اب علما کرام اِن الفاظ کا ترجمہ کرتے وقت اپنی اپنی صوابدید کے مطابق معانی کا استعمال کرتے ہیں لیکن عارفین اور فقرا کے ہاں لقا سے مراد دیدار ہے۔

انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت ہے۔ پہچان اور معرفت دیدار کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا دیدارِ الٰہی ہی اصل میں اللہ کی پہچان اور معرفت کی بنیاد ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو عارفین یعنی فقرا کو عطا کی جاتی ہے۔ لذّتِ دیدارسے بہتر کوئی لذّت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا دیدارنور ِ بصارت سے نہیں نور ِ بصیرت سے حاصل ہوتا ہے۔
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں :
جو اللہ تعالیٰ کی پہچان کے بغیر اس کی عبادت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ریاکار ہے۔ (سرّ الاسرار)

اﷲ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق محض اس غرض سے کی ہے کہ اس کی پہچان ہو۔ اس کے حسنِ جلال و جمال کے جلوے آشکارہوں اور اس پر مر مٹنے والا کوئی عاشق ہو۔ روزِ الست عشق کی یہ بھاری امانت پوری کائنات میں صرف انسان نے ہی اٹھائی تھی۔ اﷲ تعالیٰ نے انسان پر اتنی مہربانی اور شفقت فرمائی کہ عالم ِخَلق میں جب بھی وہ اس ’’عہد‘‘ کو بھولنے لگا تو انبیا کرام کی صورت میں اُسے ہادی اور راہنما عطا فرما دیئے جو ناصرف اس عہد کو یاد کراتے رہے بلکہ ’’عشق کے امتحان‘‘ میں کامیابی کی تیاری بھی کرواتے رہے۔ جب خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ جن کے لئے یہ کائنات تخلیق کی گئی ہے، مبعوث ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لوگوں کو عشق کا بھولا ہوا سبق یاد کرایا اور قرآنِ مجید اور سنت مبارکہ کی صورت میں ایک ضابطۂ حیات نوعِ انسانی کو دیا۔
قرآنِ مجید میں بار بار اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے: 
یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ۔  (سورۃ الانشقاق ۔6)
 ترجمہ:  اے انسان! تو اﷲ کی طرف کوشش کرنے والا اور اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔
پھر اس کی ترغیب فرمائی:
فَفِرُّوْٓا اِلَی اِ (سورۃ الذّٰریٰت۔50)   
ترجمہ: پس دوڑو اﷲ کی طرف۔
پھر مزید مہربانی فرمائی کہ تمہارا ربّ بھی تمہارا منتظر ہے۔
اَتَصْبِرُوْنَ ج وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا۔ (سورۃ الفرقان۔20)
ترجمہ: آیا تم صبر کئے بیٹھے ہو؟ (اور ﷲ کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہو؟) حالانکہ تمہارا ربّ تمہاری طرف دیکھ رہا ہے (تمہارا منتظر ہے)۔ 
  اس کے بعد فرمایا کہ جو ہماری طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہماری طرف آنے کے راستے پالیتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا  (سورۃ العنکبوت۔69)
ترجمہ: اور جو لوگ ہماری طرف آنے کی جدوجہد کرتے ہیں ہم انہیں اپنی طرف آنے کے راستے دکھا دیتے ہیں۔ 

پھر لقائے الٰہی تک پہنچنے کا طریقہ بھی بتا دیا:
فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا (سورۃ الکہف۔110)
ترجمہ: جو شخص اپنے ربّ کا لقاچاہتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اعمالِ صالحہ اختیار کرے۔
اور جو لوگ دیدارِ الٰہی کی خواہش اورکوشش نہیں کرتے ان کے بارے میں وعید فرمائی:
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِہَا وَ الَّذِیْنَ  ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ۔ اُولٰٓئِکَ مَاْوٰھُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔  (سورۃ یونس۔7,8)
ترجمہ: بے شک جو لوگ لقائے الٰہی (دیدار) کی خواہش نہیں کرتے اور دنیا کی زندگی کو پسند کر کے اس پر مطمئن ہو گئے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو بیٹھے، انہیں ان کی کمائی سمیت جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔

دیدارِ الٰہی سے انکاری لوگوں کے انجام سے بھی آگاہی فرما دی:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا۔ (سورۃ الکہف۔105)
 ترجمہ: جن لوگوں نے اپنے ربّ کی نشانیوں اور اس کے لقا (دیدارِ الٰہی) کا انکار کیا ان کے اعمال ضائع ہو گئے۔ ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے ـ (یعنی بغیر حساب کے انہیں جہنم رسید کیا جائے گا)۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآئِ اِ (سورۃ الانعام۔ 31)
ترجمہ: بے شک وہ لوگ خسارے میں ہیں جنہوں نے لقائے  الٰہی (دیدار) کو جھٹلایا۔
اَلَآ اِنَّھُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآئِ رَبِّھِمْ ط اَلَآ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطٌ۔  (سورۃ حٰم السجدہ۔54)
ترجمہ: خوب یادرکھو وہ اپنے ربّ کے لقا (دیدار) پر شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور یاد رکھو بیشک وہ (اللہ تعالیٰ) ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
وَ مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی  (سورۃ بنی اسرائیل۔ 72)
 ترجمہ: اور جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) اندھا رہے گا۔ 

  اللہ نے اپنا ٹھکانہ بھی بتا دیا:
وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ (سورۃ الذّٰریٰت۔ 21)
ترجمہ :اور میں تمہارے اندر موجود ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔
وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ق فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اِ   (سورۃ البقرہ۔115)
ترجمہ:اور مشرق و مغرب اﷲ کے لئے ہے لہٰذا تم جدھر بھی دیکھو گے تمہیں اﷲ تعالیٰ کا چہرہ نظر آئے گا۔ 

تجلی تیری ذات کا سو بسو ہے
جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے

احادیثِ مبارکہ

حضرت جریر بن عبد اللہؓ فر ماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فر مایا ’’قریب ہے وہ وقت جب تم اپنے پروردِگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔‘‘ (بخاری7435)

حضرت جریر بن عبد اللہؓ سے ہی روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چودھویں تاریخ کے چاند کو دیکھ کر فرمایا ’’جس طرح تم اس چاند کودیکھ رہے ہو اسی طرح تم اپنے پروردِگار کودیکھو گے اور اللہ تعالیٰ کو دیکھنے میں تم کوئی اذیت اور تکلیف محسوس نہیں کر و گے۔‘‘ (بخاری4851)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اس علم کو جس سے اللہ کے چہرہ کا دیدار حاصل ہوتا ہے، اس لیے حاصل کرے کہ اس سے دنیا کا فائدہ ملے تو ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا۔‘‘ (مسند احمد 8438)

دیدارِ الٰہی کے تین طریقے

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

قرآن و حدیث کی رو سے دیدارِ الٰہی کے ان مراتب کو پانا تین طریقوں سے روا ہے۔ اوّل، خواب میں اللہ کا دیدار کرنا۔ ایسے خوابوں کو نوری خواب کہا جاتا ہے جو اللہ کے بے حجاب دیدار کے لیے خلوت خانہ کی مثل ہوتے ہیں اور ان میں طالب مشاہدۂ دیدار وحضوریٔ پروردگار میں غرق ہوتا ہے۔ دوم مراقبے میں دیدارِ الٰہی کرنا، یہ مراقبہ موت کی مثل ہوتا ہے جو حق تعالیٰ کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ تیسرا عین خدا کو اس طرح دیکھنا کہ طالب کا جسم اس جہان میں اور جان (روح) لاھوت لامکان میں ہوتی ہے۔یہ تینوں مراتبِ عظیم مرشد کامل کے فیض و فضل سے حاصل ہوتے ہیں۔  (نور الہدیٰ کلاں)

اسمِ اللہ رہبر است ہمراہ تو
جز لقا دیگر مبیں دیگر مجو

  ترجمہ:اسمِ  اللہ ذات تیرا رہبر ہے اور تیرے ہمراہ ہے اس لیے تو دیدارِ الٰہی کے علاوہ نہ کسی اور کی طلب کر نہ کسی جانب نگاہ کر۔ (نور الہدیٰ کلاں)

دیدارِ الٰہی کامنکر

دیدارِ الٰہی کے منکر کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہر کہ منکر از خدا دیدار شد
اُمتِ نبویؐ نباشد خوار شد

ترجمہ: جودیدارِ الٰہی کا انکار کرتا ہے وہ اُمت ِ محمدی میں سے نہیں بلکہ اہل ِ خوار میں سے ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

لقائے الٰہی کے حق میں دلائل

دیدارِ باری تعالیٰ کے متعلق قرآنِ کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو واقعات ملتے ہیں جن میں دیدارِ الٰہی کی تفصیل موجود ہے بلکہ واضح طورپر طالبانِ مولیٰ کو دیدارِ الٰہی کا درس ملتا ہے۔ لیکن منکرینِ دیدارِ الٰہی ان واقعات کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے انہی کو اپنے انکار کی بنیاد بناتے ہیں۔ 

پہلا واقعہ سورۃ القصص میں یوں بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی زو جہ محترمہ کے ساتھ سفر میں تھے اور آپ ؑکی زوجہ محترمہ حاملہ تھیں۔ دورانِ سفر ان کو تکلیف ہوئی تو آپؑ نے فرمایا تم یہاں ٹھہرو میں آگ لے کر آتا ہوں۔ جب آپ ؑآگ کی تلاش میں نکلے تو دور سے آپؑ کو آگ کی چمک نظر آئی۔ آپؑ اس کی طرف بڑھنے لگے، جب قریب پہنچے تو وہ مبارک عناب کا ایک روشن درخت تھا جس کی ٹہنیوں سے آگ نما روشنی نکل رہی تھی جو نہ جل رہی تھی نہ اس میں بھڑک موجود تھی۔ موسیٰ علیہ السلام چونکہ آگ کی تلاش میں نکلے تھے اِس لئے اُن کے ذہن میں آگ کا تصور موجود تھا حا لانکہ یہ درخت پر نورِ حق تعالیٰ کی تجلیّ تھی۔ آپؑ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے تو درخت سے آواز آئی ’’اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ‘‘ (بے شک میں ہی اللہ ہوں)۔ سورۃ القصص کی مذکورہ آیتِ مبارکہ یہ ہے:
فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَھْلِہٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا ج قَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْھَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ فَلَمَّآ اَتٰھَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِیِٔ الْوَادِ اْلاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ یّٰمُوْسٰٓی اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ اْلعٰلَمِینَ۔ (سورۃ القصص29-30)
ترجمہ: پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مقررہ مدت پوری کرلی اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے تو انہوں نے طور کی جانب سے ایک آگ دیکھی (وہ شعلہ حسنِ مطلق تھا جس کی طرف آپ کی طبیعت مانوس ہو گئی)۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا تم (یہیں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے لئے اس (آگ) سے کچھ (اسکی) خبر لاؤں ( جس کی تلاش میں مدت سے سرگرداں ہوں) یا آتش (سوزاں) کی کوئی چنگاری (لادوں) تاکہ تم بھی تاپ سکو۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں (واقع) ایک درخت سے آواز دی گئی ’’اے موسیٰ !ؑ بے شک میں ہی اللہ اور تمام جہانوں کا پروردِگار ہوں۔‘‘ (ترجمہ عرفان القران)

دوسرا واقعہ سورۃ اعراف میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے تکرار کی کہ ’’اے موسیٰؑ! ہم آپ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کو دیکھ نہ لیں‘‘ تو آپؑ کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ ارشادِ خداوندی ہے :
وَ لَمَّا جَآئَ  مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ لا قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط قَالَ لَنْ تَرَانِیْ وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ  مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرَانِیْ ج فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰی  صَعِقًا ج  فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَٔ تُبْتُ  اِلَیْکَٔ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ (سورۃ الاعراف۔143)
ترجمہ: اور جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے (مقرر کردہ) وقت پرحاضر ہوئے اور ان کے ربّ نے ان سے کلام فرمایا تو (کلامِ ربانی کی لذت پاکر دیدار کے آرزو مند ہوئے اور) عرض کرنے لگے اے میرے ربّ! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں۔ ارشاد ہوا تم مجھے (براہِ راست) نہ دیکھ سکو گے مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو، پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا دیدار کر لو گے۔ پھر جب ان کے ربّ نے پہاڑ پر تجلی ّفرمائی تو (شدتِ انوار سے) اِسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا ’’تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔‘‘

اقبالؒ اسی حوالہ سے فرماتے ہیں:

اَڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طُور پر کلیمؑ
طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی
(بانگ ِدرا)

عالمِ دیدارِ الٰہی

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب امیر الکونین میں فرماتے ہیں:
میں عالمِ علمِ دیدارِ ہوں اس لیے (ہر طرف) نور دیکھتا ہوں اور علمِ دیدار کے علاوہ دیگر علم، ذکر، فکر اورمراقبہ نہ جانتا ہوں اور نہ ہی پڑھتا ہوں کیونکہ تمام علوم اللہ کی جانب سے اس کے دیدار کی خاطر ہیں۔ جہاں دیدار ہوتا ہے وہاں نہ صبح و شام ہے نہ منزل و مقام۔ وہ لاھوت لامکان ہے جہاں اس بے مثل و بے مثال ذات کی معرفت اور وصال ہے کہ اسمِ اللہ ذات کے حروف سے انوارو تجلیات پیدا ہوتی ہیں اور ان انوار و تجلیات میں طالب کو لقا و دیدار عطا ہوتا ہے۔
میں دیدار کا علم جانتا ہوں اور پڑھتا ہوں۔ مجھے یہ مراتب جناب سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرامؓ اور پنجتن پاکؓ کی رفاقت میں نصیب ہوئے ہیں۔

دیدارِ الٰہی سے مشرف ہونے کا ذریعہ

دیدارِ الٰہی کے علم کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒکی کتب بھری پڑی ہیں۔ آپؒ کے نزدیک دیدارِ الٰہی کے علم کا راستہ اسمِ اللہ ذات سے کھلتا ہے۔ جو شخص ہر وقت ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات میں غرق رہتا ہے وہ دیدارِ الٰہی سے مشرف ہو ہی جاتا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:

 دیدارِ الٰہی حاصل کرنا اور واصل باللہ ہونا کون سے علم اور کس چیز کے ذریعہ ممکن ہے؟ وہ محض فنا فی اللہ، مشاہدۂ نور اور قربِ حضوری کا علم ہے جو عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ یہ علم اسی کو حاصل ہوتا ہے جو اسمِ اللہ ذات سے معرفت کا سبق پڑھ لیتا ہے، وہ ہمارا جان سے زیادہ پیارا بھائی ہے۔ 

نقش شد وسیلہ از برائی نقاش بین
نقش نقاشی یکی شد بالیقین

ترجمہ: نقشِ اسمِ  اللہ ذات نقاش یعنی اللہ کے دیدار کا وسیلہ ہے۔ جب نقش اور نقاش ایک ہو جاتے ہیں تو طالب بالیقین بن جاتا ہے۔ 

یقین کہاں سے حاصل ہوتا ہے؟ تصورِ اسمِ  اللہ ذات سے جو حضوری سے مشرف کر کے بارگاہِ الٰہی تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر جاننا چاہتا ہے تو جان لے کہ تیرے وجود میں وحدانیتِ الٰہی یوں موجود ہے جیسے مغز پستے میں۔ (نور الہد یٰ کلاں)   

ہر کہ جانِ خود را فروخت اسمِ اللہ را خرید
ہر کہ اسمِ اللہ خرید بعین العیان دید

ترجمہ: جو شخص اپنی جان بیچ کر (یعنی اپنا سب کچھ نثار کر کے) اسمِ اللہ ذات خرید لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کھلی آنکھوں سے کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ تو ہر وقت تمہارے ساتھ ہے مگر تم ہی اللہ کو اپنے (باطنی) اندھے پن اور گمراہی کی وجہ سے نہیں دیکھتے۔ (عین الفقر)

این مراتب عارفاں را ابتدا
روزِ اول شد مشرف با لقا
با تصور اسم اللہ یافتم
اسم اللہ پیشوا خود ساختم
ہر کہ جسم در اسم پنہاں می نمود
معرفت دیدار اللہ یافت زود
کی روا دارد کہ دیدن رو خدا
می بہ بینم چون نماید مصطفیؐ

 ترجمہ:عارفوں کا ابتدائی مرتبہ یہ ہے کہ وہ پہلے ہی روز دیدارِ الٰہی سے مشرف ہو جاتے ہیں۔ میں نے تمام مراتب تصور اسمِ اللہ ذات سے حاصل کیے ہیں کہ میں نے اسے اپنا پیشوا اور رہبر بنالیا ہے۔ جو طالب اپنے جسم کو اسمِ اللہ میں پنہاں کر لیتا ہے وہ بہت جلد معرفت اور دیدارِ الٰہی کو پا لیتا ہے۔ کیا خدا کو دیکھا جا سکتا ہے؟ ہاں !مجھے یہ شرف حاصل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود مجھے دیدار کی نعمت عطا فرمائی ہے۔  (نور الہدیٰ کلاں)

اسمِ اللہ رہبر است ہمراہ تو
جز لقا دیگر مبیں دیگر مجو

ترجمہ: اسمِ اللہ ذات تیرا رہبر ہے اور تیرے ہمراہ ہے اس لیے تو دیدارِ الٰہی کے علاوہ نہ کسی اور کی طلب کر نہ کسی جانب نگاہ کر۔(نور الہدیٰ کلاں)

پھر آپؒ دیدارِ الٰہی کیلئے ذکر کا طریقہ بتاتے ہیں:

ذاکران را شد ذکر با دیدہ ور
ذاکران را شد بہ دیدارش نظر
از ذکر ذاکر بہ بیند روئے خدا
بی حضوری ذکر و فکر کی روا

ترجمہ: ذاکروں کوایسا ذکر ِ الٰہی حاصل ہوتا ہے جو انہیں دیدہ ور بنا دیتا ہے اور ان کی نظر ہمیشہ دیدارِ الٰہی پر رہتی ہے۔ اس ذکر سے ذاکر روئے خدا کا نظارہ کرتے ہیں۔ جو ذکر و فکر بغیر حضوری کے ہو اس کا کیا فائدہ؟

     بقول بلھے شاہؒ :

علموں بس کریں او یار!
اک الف ترے درکار

ترجمہ: جتنے علوم توُ نے حاصل کر لئے ہیں اگر اُن سے دیدارِ الٰہی حاصل نہیں ہواتو اُن کو چھوڑ دے اور ایک اسمِ اللہ  ذات پڑھ، یہ تجھے لذتِ دیدار سے ہمکنا ر کر دے گا۔

دیدارِ الٰہی میں حائل رکاوٹ

        دیدارِ الٰہی کی راہ میں حائل رکاوٹ اور اس رکاوٹ کو دور کرنے کے بارے میں آپؒ فرماتے ہیں:
جان لے کہ طالبِ دیدار اور دیدارِ الٰہی کے درمیان کوئی دیوار یا پہاڑ موجود نہیں بلکہ دیو نفس کا حجاب حائل ہے جو پتھر اور دیوار سے زیادہ سخت ہوتاہے ،اسے قتل کرنا انتہائی مشکل کام ہے ۔ مرشد کامل اسم  اللہ ذات کی تیز تلوار سے سب سے پہلے ابلیس کے مصاحب دیو خبیث نفس کو قتل کرتا ہے جس سے بندے اور ربّ کے درمیان نفس کا حجاب ختم ہو جاتا ہے اور طالب بے حجاب دائمی دیدارِ الٰہی سے مشرف ہو جاتا ہے ۔ مرشد کامل صاحبِ نظر پہلے ہی روز اپنی توجہ سے نفس کا بھاری پردہ اٹھا کر دیدارِ الٰہی سے نواز دیتا ہے۔ جو مرشد طالب کوپہلے ہی روز دیدارِ الٰہی سے نہیں نوازتا وہ تلقین و ارشاد کے لائق نہیں۔  (نورالہدیٰ کلاں)

  بندے اور اللہ کے درمیان کوئی پہاڑ، دیوار یا میلوں کی مسافت نہیں ہے بلکہ بندے اور خدا کے درمیان پیاز کے پردے جیسا حجاب ہے۔ اس پیاز کے پردے کو تصور اسمِ اللہ ذات اور صاحب ِ راز مرشد کامل کی نگاہ سے توڑنا بالکل مشکل نہیں۔ تو آئے تو دروازہ کھلا ہے اور اگر نہ آئے تو خدا بے نیاز ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں)

دیدارِ الٰہی کہاں سے نصیب ہوتا ہے

اس سلسلہ میں آپؒ فرماتے ہیں:
  دیدارِ الٰہی کے منصب و مراتب کی تحقیق اور قوتِ دیدار کی توفیق صرف قادری (سروری قادری) طالب کو حاصل ہوتی ہے، دیگر کوئی سلسلہ اگر اس کا دعویٰ کرتاہے تو وہ لاف زن،جھوٹا اور اہلِ حجاب ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)

سلطان باھوؒ اور دیدارِ الٰہی

        سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں دیدارِ الٰہی کے علم کو کھول کر بیان فرمایا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:

طالبی دیدار با دیدار بر
جز خدا دیگر نہ بیند با نظر
ہر طرف بینم بیابم حق ز حق
با مطالعہ دائمی دل دم غرق

ترجمہ: طالبِ دیدارِ الٰہی صرف دیدار چاہتا ہے۔ بجز خدا وہ کسی کی طرف ایک نظر بھی نہیں ڈالتا۔ میں جس طرف بھی دیکھتا ہوں حق ہی حق پاتا ہوں اور دل کے دائمی مطالعہ میں ہر وقت غرق رہتا ہوں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

باھُوؒ کشتگانِ دیدار دائم باوصال
باجمال و باوصال و لازوال

ترجمہ: اے باھوؒ! دیدارِ حق سے قتل ہونے والے ہمیشہ باوصال رہتے ہیں اور انہیں لازوال جمالِ حق کا دیدار حاصل ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

بہ ز ہر لذت بود لذتِ لقا
لذتی دنیا چہ باشد بی بقا

ترجمہ:تمام لذات سے بہتر لذتِ دیدار ہے۔ اس کے مقابلہ میں لذتِ دنیا کی کیا وقعت کہ وہ بے بقا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

واضح رہے کہ عارف باللہ صاحبِ کل کو لذّت بھی ’’ذاتِ کل‘‘ (دیدارِ الٰہی) سے ہے۔ چار لذّتیں ایسی ہیں جو لذّتِ کل سے باز رکھتی ہیں۔ اوّل طرح طرح کے لذیذ چرب اورشیریں کھانوں کی لذّت۔ دوسری عورت سے مجامعت کرنے کی لذّت۔ تیسری حکومتِ شاہانہ (شہرت، حکمرانی) کی لذّت جو سر سے پاؤں تک محض دنیا ہے۔ چوتھی مطالعہ کی لذّت۔ یہ چاروں لذّتیں برابر ہیں۔ جس کے وجود میں معرفت ِ الٰہی کی لذّت ہوتی ہے اس سے چاروں لذّتیں نکل جاتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ معرفتِ الٰہی (دیدار) کی لذّت ایسی لذّت ہے جس سے روح کو فرحت حاصل ہوتی ہے اور نفس مردہ ہو جاتا ہے۔ (اسرارِ قادری)

    دیدارِ الٰہی کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں: 

بجز دیدارِ حق مردار باشد
کہ عاشق طالبِ دیدار باشد

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے دیدار کے سوا ہر چیز مردہ ہے۔ عاشق صرف اور صرف دیدارِ الٰہی کی طلب کرتا ہے۔

آن نور تجلی کہ بموسیٰؑ کوہِ طور
عین عنایت است مرا حق ظہور

ترجمہ:  جس نورِ تجلی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ ِطور پر دیکھا تھا عنایت ِحق تعالیٰ سے وہ تجلی میری اپنی ہی ذات میں ظاہر ہے۔

دیدارش کی روا باشد کہ دل بیدار نیست
سجدہ با دیدار سنگ دیوار نیست

ترجمہ: جب تک دِل بیدار نہ ہو اللہ کا دیدار کیسے ہو سکتا ہے۔ سجدئہ دیوار سجدئہ دیدار نہیں ہوتا۔ 

آپؒ نور الہدیٰ کلاں میں فرماتے ہیں:

ہر کہ می بیند نمیگوید منم
نیست آنجا جسم اسم و نی تنم

ترجمہ:جو اللہ کو دیکھ لیتا ہے وہ اپنے وجود کی بات نہیں کرتا۔ اس مقام پر پہنچ کر نہ میرا جسم و اسم رہا اور نہ ہی تن۔ 

گر نبودی این مراتب اولیا
کس نیاوردہ برو دیدن لقا

ترجمہ: اگر اولیا اللہ کو (دیدار کے) یہ مراتب حاصل نہ ہوتے تو کوئی بھی دیدارِ الٰہی کی راہ اختیار نہ کرتا۔
اگر توُ عاقل ہوشیار ہے تو سن! اگر عارف لائقِ دیدار ہے تو سن!اگر طالبِ دنیا مردار ہے تو سن! اگر عامل فضیلت آثار ہے توسن !اگر جاہل بد کردار ہے تو سن ! ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْھَا (سورۃ حٰمٓ السجدہ۔46)
ترجمہ:جو کوئی اعمالِ صالحہ اختیار کرتا ہے اس میں اس کا اپنا ہی فائدہ ہے اور اگر کوئی برائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس میں اس کا اپنا ہی خسارہ ہے۔
پس دنیا کفر و شرک، لعنت و بیماری، زحمت و زوال کا باعث ہے، اس سے نجات حاصل کرنا ہی راہِ رحمت ہے کیونکہ دنیاوی خواہشات ہی انسان کو معرفت اوروصالِ الٰہی سے باز رکھتی ہیں۔ جس طالب کا دل آغاز میں ہی دنیا سے سیر نہیں ہو جاتا اور تمام دنیا کا تصرف اس کے قبضہ میں نہیں آجاتا وہ احمق ہے کہ راہِ فقر و معرفت میں قدم رکھتا ہے ۔ طالب پر فرضِ عین ہے کہ وہ سب سے پہلے دنیا و ملک ِسلیمانی پر اختیار و تصرف حاصل کرے اور جیسے ہی اسے یہ تصرف حاصل ہو اسی لمحے اس سے دست بردار ہو کر اپنا رُخ تصورِ دیدار کی جانب موڑ لے اور مرتبۂ دیدار پر پہنچ جائے۔ یہ راہ قیل و قال، گفت و شنید اور مطالعۂ علمِ قال کی نہیں بلکہ مشاہدئہ عین جمال کی راہ ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

اے طالبِ سیم وزر ! تجھے کون سی کیمیا حاصل ہے اور کس کیمیا پر اعتبار ہے؟ پس معلوم ہو کہ کیمیا کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جس سے مردار دنیا کا مال و دولت حاصل ہوتا ہے اور دوسری وہ جس سے معرفت و دیدار کا مرتبہ نصیب ہوتا ہے۔ دیدار کس علم کی راہ سے حاصل ہوتاہے، کونسا علم دیدار کا گواہ ہے، اس کی آگاہی کس دلیل سے ہوتی ہے اور دیدار کے لیے کونسی نظر و نگاہ درکار ہوتی ہے؟سن اے عا لم جاہل ، اے جاہل عالم، اے عارف، اے واصل عامل! دیدارِ الٰہی ان آیاتِ کریمہ سے ثابت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا    (سورۃ الکہف۔110)
ترجمہ:جو شخص دیدارِالٰہی کا خواہشمند ہے اسے چاہیے کہ وہ اعمال صالحہ اختیار کریں۔
عملِ صالح فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہ  (یعنی دوڑو اللہ کی طرف) ہے جبکہ شرک و کفر اور عمل طالح فَفِرُّوْٓا مِنَ اللّٰہ   (یعنی بھاگو اللہ سے دور) ہے۔ تو کونسی راہ اپنانا چاہتا ہے؟  (نور الہدیٰ کلاں)

دراصل مراتب دوہیں ،ایک مرتبۂ انسان اور دوسرا صورتِ انسان وسیرتِ حیوان جو ہمیشہ بے جمعیت اور پریشان رہتے ہیں۔ پس حیوان انسان اور اشرف الانسان کن مراتب سے پہچانا جاتا ہے؟انسان وہ ہے جو ہمیشہ مشرف بہ دیدارِ سبحان رہتا ہے۔ دنیا مردار کی طلب انسان کے لیے خطرات کا باعث ہے۔ مشاہدۂ دیدار میں جمعیت ہے اور دنیا مردار کی طلب میں پریشانی و بے جمعیتی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
جو عارف ہمیشہ دیدارِ الٰہی سے مشرف رہے اسے مطالعہ ٔ علم، الہام، پیغام وآواز کی کیا حاجت؟(نور الہدیٰ کلاں)
نور الہدیٰ کلاں میں ہی آپؒ دیدارِ الٰہی کے متعلق مزید فرماتے ہیں:

عارف آن باشد بود لائقِ لقا
غرق فی التوحید بیند روئے خدا

ترجمہ: لائقِ لقا عارف وہ ہوتا ہے جو غرق فی التوحید ہو کر دیدارِالٰہی سے مشرف ہو جاتا ہے۔ 
 اللہ تعالیٰ مختارِ کل ہے، اسی کے اختیار میں مرتبہ ٔ دیدار ہے۔ جسے چاہتا ہے دنیا اور آخرت میں اس فیض و فضل سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی  (سورۃ بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ: جو شخص اس دنیا میں (دیدارِ الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔ 

خوش ببین دیدار را گر دیدہ ای
معرفت بردار گر برسیدہ ای

ترجمہ: اگر تجھے باطن کی آنکھ نصیب ہے تو جی بھر کر دیدار کر اور اگر تو اس مقام تک پہنچ گیا ہے تو معرفتِ الٰہی حاصل کر۔ 

اہلِ دیدار کے ہر عمل، ہر اطاعت، ہر مطالعہ اور ہر بندگی کا مقصد دیدارِ الٰہی ہوتا ہے۔ انہیں کیا ضرورت ہے کہ کسی اور جانب رجوع کریں؟

با نظر دیدار بر صاحبِ نظر
بی لقا دیدار کاذب سر بسر

ترجمہ: صاحبِ نظر کی نگاہ دیدارِ الٰہی پر رہتی ہے۔ بغیر دیدار کے اللہ سے محبت کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے۔

بی ذکر ذکر است بی فکر از فکر
گر ترا چشم است دیدارش نگر

ترجمہ:اگر تیری باطنی آنکھ روشن ہو گئی ہے تو دیدارِ الٰہی میں محو ہو جا۔ ایسے میں تو ذکر و فکر کئے بغیر ہی حالتِ ذکر و فکر میں رہے گا۔

از دیدہ دیدار رحمت می نگر
گر ترا چشم است ای صاحبِ نظر

ترجمہ: اے صاحبِ نظر اگر تیرے پاس باطنی آنکھیں ہیں تو رحمتِ حق کا دیدار کر۔

اے طالب! گلہ و اعتراض کے کمتر مراتب سے گزر جا اور دائمی دیدارِ الٰہی کے مرتبہ کو پالے۔ 

نفس را بگذار ای طالب بیا
گر ترا طلب است دیدن رو خدا

ترجمہ:اے طالب ! اگر تودیدارِ خداوندی کی طلب رکھتا ہے تو نفس کی پیروی چھوڑ دے اور میری جانب آ۔ 

ہر کہ داند طی طاقت او تمام
میشود دیدار آنرا ہر دوام

ترجمہ: جو طی اسمِ اللہ ذات کی طاقت کو جان لیتا ہے وہ کامل ہو جاتا ہے اور دائمی دیدار سے مشرف رہتا ہے۔ 

پیشوائی شد محمدؐ ہر کرا
در نظر نبویؐ بہ بیند حق لقا
ہر کہ می بیند نمیگوید خدا
از میان خود رفت حاضر مصطفیؐ

ترجمہ: جس کے پیشوا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہوں وہ نظرِ نبویؐ سے دیدارِحق تعالیٰ کرتا ہے۔ جو اللہ کا دیدار کر لیتا ہے وہ اس کا ذکر کسی سے نہیں کرتا۔ اپنی ذات کو درمیان سے نکال کر وہ ہمیشہ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہتا ہے۔

دیدار و از دیدار من گردد یقین
ہر کرا باور نشد اہل از لعین

ترجمہ: دیدارِ الٰہی ہی ہے جس نے مجھے مرتبۂ یقین پر پہنچایا ہے۔ جسے اس پر یقین نہیں وہ لعین ہے۔  

ہر کہ می بیند بود روحی کرم
عارف باللہ بود آنرا چہ غم

ترجمہ: اللہ کا دیدار کرنے والا عارف باللہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور اس کی روح مکرم ہو جاتی ہے۔ پس اسے کیا غم!

ہر کہ می بیند نمیگوید منم
آن ناظر و حاضر بود با فقر تم
ہر کہ می بیند بآن گوید چرا
دیدہ با دیدار می بیند خدا
ہر کہ می بیند بود دائم خموش
غرق فی التوحید خون از جگر نوش

 ترجمہ: جواللہ کو دیکھ لیتا ہے وہ پھر نہیں کہہ سکتا کہ ’میں ہوں‘ بلکہ انتہائے فقر پر پہنچ کر حاضر و ناظر رہتا ہے۔ جو اللہ کو دیکھ لیتا ہے وہ کہے تو کیا کہے کہ اس کی آنکھیں توہر دم دیدارِ الٰہی میں محو رہتی ہیں۔ اللہ کا دیدار کرنے والا دائمی خاموشی اختیار کر لیتا ہے اور غرق فی التوحید ہو کر خونِ جگر پیتا رہتا ہے۔

پنجابی ابیات میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

باجھ فنا ربّ حاصل ناہیں باھوؒ، ناں تاثیر جماعتاں ھوُ

ترجمہ: اپنی ذات کو فنا کیے بغیر وصالِ حق تعالیٰ اور دیدارِ الٰہی حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی عبادات میں حضوریٔ قلب حاصل ہوتی ہے۔

ہر جا جانی دِسے باھوؒ، جت وَل نظر کچیوے ھوُ

ترجمہ: اب حالت یہ ہے کہ جہاں نظر جاتی ہے ہر طرف ذاتِ حق تعالیٰ ہی نظر آتی ہے۔

ظاہر ویکھاں جانی تائیں، نالے دِسّے اندر سینے ھوُ

ترجمہ: مجھے ظاہر اور باطن میں ہر طرف اپنا محبوب (ذاتِ حق تعالیٰ) ہی نظر آتا ہے۔

جاں اندر وڑ جھاتی پائی، ڈِٹھا یار اکلا ھو

ترجمہ: جب ہم نے اپنے من کے اندر جھانک کر دیکھا تو وہاں واحد، احد محبوبِ حقیقی کو ہی پایا۔

جس جا جانی نظر نہ آوے، اُوتھے سجدا مول نہ دَئیے ھوُ
جاں جاں جانی نظر نہ آوے، باھوؒ کلمہ مول نہ کہیے ھوُ

ترجمہ: جس جگہ ذاتِ حق تعالیٰ نظر نہ آئے وہاں سجدہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے اور جہاں محبوب نظر نہ آئے وہاں کلمہ ہرگز نہیں پڑھنا چاہیے۔

دَم دَم دے وِچ ویکھن مولیٰ، جنہاں قضا نہ کیتی ھوُ

ترجمہ: عاشق تو ہر لمحہ دیدارِ الٰہی میں محو رہتے ہیں اور دائمی نماز ادا کرتے رہتے ہیں، ان کی نماز کہاں قضا ہوتی ہے!

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ہم نے اللہ تعالیٰ سے اس کے دیدار اور اس کی رضا کے سوا کبھی کچھ نہیں مانگا۔
دیدارِ الٰہی سے بڑی کوئی نعمت نہیں جو صرف عارفین کو عطا کی جاتی ہے۔
دیدارِ الٰہی نورِ بصارت سے نہیں نورِ بصیرت سے حاصل ہوتا ہے اور نور ِبصیرت اسمِ اللہ  ذات اور مرشد کامل اکمل کی نگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔
 جو دیدار کا انکار کرتا ہے وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی نہیں ہے۔ اس کے نصیب میں خواری ہے اور اس خواری سے وہ خود بے خبرہے۔
اللہ تعالیٰ کو اسمِ اللہ ذات کے نور سے دیکھا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کا فرمان ہے ’’میں نے اپنے ربّ کو نورِ ربیّ کے ذریعے دیکھا‘‘ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بیان ہے ’’اگر میرا ربّ خود میری تربیت نہ کرتا تو میں اسے پہچان نہ پاتا۔‘‘

جس طرح اس دنیا میں کسی چیز کو دیکھنے کیلئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک آنکھ (نورِ بصارت) دوسری روشنی (سورج یا مصنوعی روشنی)، اگر ایک چیز کی بھی کمی ہو تو کچھ دیکھا نہیں جا سکتا۔ اسی طرح باطن میں دیکھنے کے لئے بھی دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک باطنی یا قلبی آنکھ (نورِبصیرت) اور دوسرا اسمِ اللہ ذات کا نور۔اللہ تعالیٰ کو اسمِ اللہ ذات کے نور ہی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر72میں اسی باطنی اندھے پن کا ذکر ہے، فرمانِ الٰہی ہے ’’جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا‘‘ یعنی جو یہاں دیدار یا نورِ بصیرت سے محروم ہے وہ آخرت میں بھی دیدار یا نورِ بصیرت سے محروم رہے گا۔
اسمِ  اللہ ذات سے انوار وتجلیات نازل ہوتی ہیں اور اس نور میں دیدارولقا نظر آتا ہے۔

یاد رکھ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان پہاڑوں اور فولاد سے سخت حجاب ہے اور وہ ہے نفس۔ جب تک نفس نہیں مرتا اللہ کا دیدار حاصل نہیں ہوتا اور نفس کو کوئی عبادت قتل نہیں کرسکتی سوائے تصور ِاسمِ  اللہ ذات اور مرشد کامل سروری قادری کے۔
جسے دیدارِ الٰہی حاصل ہو جاتا ہے وہ لوگوں میں اپنی بڑائی بیان نہیں کرتا پھرتا۔ وہ ہر چیز دیکھتا ہے لیکن خاموش رہتا ہے۔
یہ بات یاد رکھ اور اپنے دل پر لکھ لے کہ دیدارِ الٰہی کا راستہ اسمِ اللہ ذات سے کھلتا ہے بشرطیکہ یہ مرشد کامل اکمل سروری قادری سے حاصل ہوا ہو۔ اس کے علاوہ اگر کوئی اور طریقہ تجھے کسی نے بتایا ہے یا تو خود جانتا ہے تو وہ باطل ہے۔

اقبالؒ اور دیدارِ الٰہی

دوسرے عارفین کی طرح علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ بھی دیدارِ الٰہی کے قائل ہیں اور اُن کے کلام میں جگہ جگہ دیدارِ الٰہی کے متعلق اشارات ملتے ہیں۔ آپ ایک طالب کی طرح دیدار کی التجا کرتے نظر آتے ہیں۔

کبھی اے حقیقتِ منتظر! نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں
(بانگ ِدرا)

اللہ تعالیٰ کے دیدار ہی سے تو اصل زندگی اور حیاتِ جاودانی حاصل ہوتی ہے۔

بر مقامِ خود رسیدن زندگی است
ذات را بے پردہ دیدن زندگی است
(جاوید نامہ)

ترجمہ: اپنی پہچان کے مقام پر پہنچنا ہی حقیقی زندگی ہے اور اپنی پہچان سے اللہ کی پہچان حاصل کر کے ذاتِ حق کو بے پردہ دیکھنا ہی حیاتِ جاودانی ہے۔

دیدنش افزودنِ بے کاستن
دیدنش از قبرِ تن برخواستن
(جاوید نامہ)

ترجمہ: اس کے دیدار سے وہ افزودنی ملتی ہے جس میں کمی کا احتمال ہی نہیں ہے۔ اللہ کے دیدار سے روح تن کی قبر سے دائمی طور پر زندہ ہو کر اٹھتی ہے۔

اس دنیا کی زندگی کے بارے میں آپؒ فرماتے ہیں:

زندگی اینجا ز دیدار است و بس
ذوقِ دیدار است و گفتار است و بس
(جاوید نامہ)

ترجمہ: دنیا کی زندگی صرف دیدارِ الٰہی کی خاطر ہے۔ حقیقی زندگی صرف ذوقِ دیدار اور ذوقِ گفتار ہے یعنی اللہ کے دیدار اور اس سے کلام کا ذوق ہے۔

دیدارِ الٰہی کے لیے اقبال رحمتہ اللہ علیہ ایک شرط بیان فرما رہے ہیں کہ علم و عقل کی حد سے گزر کر کسی صاحبِ نظر (مرشد کامل) کی بارگاہ کے عاشق بنو گے تو دیدارِ الٰہی نصیب ہوگا۔

علم کی حد سے پرے، بندۂ مومن کے لیے
لذتِ شوق بھی ہے، نعمتِ دیدار بھی ہے
(بالِ جبریل)

اللہ تعالیٰ نے اپنے دیدار کی اعلیٰ ترین نعمت نہ صرف اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کی امت کے لیے مخصوص فرمائی بلکہ پھر نظارہ بھی کرایا۔

کھلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی
گیا دور حدیثِ  لن  ترانی
(بالِ جبریل)

عاشق کی تسکین کا سامان صرف محبوب کے وصل و دیدار ہی سے ممکن ہے، وعظ و نصیحت اور علم و حکمت سے نہیں۔ بقول سعدیؔ شیرازی وہ دل کہ عاشق بھی ہے اور صابر بھی وہ دل نہیں پتھر ہے کیونکہ عشق اور صبر میں ہزاروں کوس کا فاصلہ ہے۔

کمالِ زندگی دیدارِ ذات است
طریقش رستن از بندِ جہات است
(زبورِ عجم)

ترجمہ:زندگی کا حاصل ذاتِ حق کا دیدار ہے اور اس دیدار کا طریقہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہونا ہے۔

گرچہ جنت از تجلیّ ہائے اوست
جاں نیاساید بجز دیدارِ دوست
(جاوید نامہ)

ترجمہ: اگرچہ جنت اس (خدا) کی تجلیوں میں سے ہے لیکن جان اس محبوب کے دیدار کے بغیر سکون ہی نہیں پاتی یعنی عاشقوں کو سکون جنت میں نہیں دیدار سے ملتا ہے۔

عشق جاں را لذّتِ دیدار داد
با زبانم جرأتِ گفتار داد
(جاوید نامہ)

ترجمہ : عشق نے روح کو دیدار کی لذّت عطا کی اور میری زبان کو بات کرنے کی جرأت بھی عطا کی۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیماتِ فقر کے مطابق دیدارِالٰہی باطن میں بڑا اعلیٰ مقام ہے۔ یہ تصور اسمِ اللہ   ذات اور مرشدِ کامل اکمل کی راہبری سے حاصل ہو تا ہے۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں