عشقِ حقیقی | Ishq e Haqeeqi

عشقِ حقیقی

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ (سورۃ البقرہ۔165) 
ترجمہ: اور جو ایمان لائے اللہ کے لئے ان کی محبت بہت شدید ہے۔
انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیا سے محبت ہوتی ہے مثلاً اللہ تعالیٰ سے محبت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت، ماں، باپ، بیوی، بچے، بہن، بھائی، رشتہ دار، دوست، گھر، زمین، جائیداد، شہر، قبیلہ، برادری، خاندان، ملک اور کاروبار وغیرہ سے محبت۔ جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اوروہ باقی تمام محبتوں پر غالب آجائے اسے عشق کہتے ہیں۔ عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے ا ور ہر محبت پر حاوی ہو جاتا ہے۔ جیسے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اِرشادِ مبارک ہے:
لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری15)
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔
لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَھْلِہٖ وَ مَالِہٖ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ  (صحیح مسلم۔ کتاب الایمان44)
ترجمہ: کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے اہل و عیال، مال اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
اللہ اور اس کے محبوب رسول خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شدید محبت کو اللہ نے مومنین کی صفت قرار دیا ہے اورعشق کا خمیر انسان کی روح میں شامل ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پاک مخفی و پوشیدہ تھی۔ پھر ذات کے اندر ایک جذبہ پیدا ہوا کہ میں پہچانا جاؤں، یہ چاہت اور جذبہ اس شدت سے ظہور پذیر ہوا کہ صوفیا کرام نے اسے عشق سے تعبیر کیا۔ اسی جذبۂ عشق میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نورسے ’’نورِ احمدی‘‘ کو جدا کیا اور پھر نورِ احمدی سے تمام مخلوقات کی ارواح تخلیق ہوئیں جیسا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:
اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللّٰہِ وَ کُلُّ خَلَائِقٍ مِنْ  نُّوْرِیْ 
ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جان لے کہ جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشہ ٔتنہائی سے نکل کر کائنات (کثرت) میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلی کی گرم بازاری سے (تمام عالموں کو) رونق بخشی، اس کے حسن ِ بے مثال اور شمعٔ جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اُٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدی (صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم) اختیار کی۔ (رسالہ روحی شریف)

حاصل بحث یہ ہے کہ جب عشق (اللہ تعالیٰ) نے اپنا دربار سجایا تو سب سے پہلے اپنی ذات سے نورِ محمدی کو ظاہر کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام مخلوق کی ارواح کو پیدا کیا گیا اور یہی حقیقتِ محمدیہ ہے جس کے ظہور کیلئے یہ کائنات پیدا کی گئی۔

اے کہ تیرےؐ وجود پر خالق ِدو جہاں کو ناز
اے کہ تیرؐا وجود ہے وجۂ وجودِ کائنات

کئی احادیث و روایات اِس امر کی موُید ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا:
لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ 
ترجمہ: اگرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں یہ افلاک پیدا نہ کرتا۔
خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
کُنْتُ نَبِیًّا وَ اٰدَمُ بَیْنَ الْمَائِ وَ الطِّیْن 
ترجمہ: میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدمؑ ابھی مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔
مطلب یہ ہے کہ تب تک آدم علیہ السلام کا ظہور بھی نہ ہوا تھا۔ یعنی تخلیق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوّل ہیں اور ظہور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آخر ہیں اس لئے اوّل بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور آخر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔ شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوّل و آخر ہونے کو اپنی تصنیف ’شجرۃ الکون‘ میں ایک خوبصورت مثال سے سمجھایا ہے کہ اگر ایک تاجر  اپنے خزانے کے اوپر غالیچے کو لپیٹ کر رکھے مگر اسکے اندر ایک کے اوپر ایک کئی کپڑے بھر دے تو اس صورت میں جب وہ اس غالیچے کو کھولے گا تو جو کپڑا اس نے سب سے پہلے رکھا ہوگا وہ سب سے آخر میں نکلے گا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظہور کا بھی یہی معاملہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک سب سے پہلے وجود میں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظہور سب سے آخر میں ہوا۔ اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اوّل و آخر کہا گیا ہے:

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یس، وہی طٰہٰ
(بالِ جبریل)

یہ وہی مرتبہ ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ـــ کل ہیں اور جس کے متعلق فرمایا گیا:
اَلْکُلُّ فِیْہٖ وَ مِنْہٗ وَ کَانَ عِنْدَہٗ 
ترجمہ: سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ مصنف عبدالکریم الجیلیؒ)

لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبد ِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
(بالِ جبریل)

نورِ محمدی کا ظہور حالتِ بشریت میں دنیا کی تاریخ اور ماہ و سال میں اپنے وقت پر ہوا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بشری وجود تھا جس کے متعلق فرمایا گیا:
اَصْطَفٰی وَاحِدًا مِّنْ خَلْقِہٖ ھُوَ مِنْھُمْ وَ لَیْسَ مِنْھُمْ 
ترجمہ: اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ایک کو چُن لیا، (بظاہر) وہ ان میں سے ہے مگر (حقیقتاً) اِن میں سے نہیں۔
  آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اس دنیائے آب وگِل میں ظہور بھی کامل طور پر ہوا۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بشریت کا اطلاق ہوا۔
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ (سورۃ الکہف۔ 110)
ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کہہ دیجیۓ، میں بھی تمہاری مثل ایک بشر ہوں۔

 نور کی حقیقت اپنے مقام پر رہی لیکن بعض دیکھنے والوں کی نظر کے لئے یہ بشریت حجاب بن گئی اور وہ اس بشریت کے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کو نہ دیکھ سکے۔ انہی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَتَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَ ھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ۔(سورۃ الا عراف۔198)
ترجمہ: اورآپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) دیکھیں، آپ کی  طرف تکتے ہیں اور کچھ نہیں دیکھتے۔
ظہورِ نور کا سارا حسن و جمال پیکرِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ڈھل گیا۔ غالب نے کہا ہے:

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
قسمت کھلیِ ترے قد و رُخ سے ظہور کی

مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مصطفیؐ آئینہ رُوئے خُداست
منعکس دَر وے ہمہ خوئے خداست

ترجمہ: مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے چہرے کا آئینہ ہیں اور اُن میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہر صفت منعکس ہے۔         

کائنات کی ابتدا عشق ہے اور انسان کی تخلیق بھی عشق کے لیے ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ مبارک سے جب ارواح کو پیدا کیا گیا تو عشقِ الٰہی کا جوہرِ خاص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے ارواحِ انسانی کے حصے میں آیا۔ 

دیدارِ حق تعالیٰ کے لیے طالب کے دل میں جذبہ ٔعشق کا پیدا ہونا لازم ہے۔ دراصل روح اور اﷲ کا رشتہ ہی عشق کا ہے۔ بغیر عشق نہ تو روح بیدار ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کا دیدار پا سکتی ہے۔ عشق ایک بیج کی صورت میں انسان کے اندر موجود ہے مگر سویا ہوا ہے۔ جیسے جیسے ذکر وتصور اسمِ اللہ   ذات، مشق مرقومِ وجودیہ اور مرشد کی توجہ سے یہ روح کے اندر بیدار ہونا شروع ہوتا ہے ویسے ویسے روح کی اﷲ کے لیے تڑپ اور کشش میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

فقرائے کاملین نے عشق کو دیدارِ حق کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ عشقِ حقیقی ہی بارگاہِ ربّ العالمین میں باریابی دلاتا ہے۔ عشق ہی انسان کو ’’شہ رگ‘‘ کی روحانی راہ پر گامزن کرکے آگے لے جانے والا ہے۔ یہی اس راہ سے شناسا کراتا ہے۔ یہی روح کے اندر وصالِ محبوب کی تڑپ کا شعلہ بھڑکاتا ہے۔ یہی اسے دن رات بے چین و بے قرار رکھتا ہے، آتش ِ ہجر تیز کرتا ہے اور یہی دیدارِ حق کا ذریعہ بنتا ہے۔

جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عشاق کے متعلق فرماتے ہیں:
لَوْ کَانَتِ الْجَنَّۃُ نَصِیْبَ الْمُشْتَاقِیْنَ بِدُوْنِ جَمَالِہٖ وَ وَایْلَاہُ وَ لَوْ کَانَتِ النَّارُ نَصِیْبَ الْعاشِقِیْنَ مَعَ وِصَالِ جَمَالِہٖ وَ شَوْقَاہُ 
ترجمہ: اگر مشتاقوں کو جنت اس کے جمال کے بغیرنصیب ہو تو سخت بدقسمتی ہے اور اگر عاشقوں کو اس کے وصالِ جمال کے ساتھ دوزخ بھی نصیب ہو جائے تو نہایت ہی خوش قسمتی ہے۔ (اسرار قادری)

عشق والوں سے معاملہ بھی جدا ہوتا ہے۔ علمائے محض سے اور طرح بات ہوتی ہے اور عشاق کے ساتھ دوسرے طریقے سے گفتگو کی جاتی ہے۔ عشق مشاہدہ کا وارث ہے اور حقیقت کی تہہ یا اس کی کنہ تک کی خبر رکھتا ہے مگر علم کی نظر سطح تک رہتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف ’محبت الاسرار‘ میں اس کی وضاحت یوں کی ہے:
واضح رہے کہ عشق کی یہ راہ مذہب وملت اور کتابوں میں نہیں لکھی ہوئی، اس سے مراد ربّ الارباب ہے۔ چنانچہ جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج سے مشرف ہوکر واپس تشریف لائے تو پہلے عاشقوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا کہ یارسول  ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ نے اﷲ کو دیکھا؟ فرمایا:
مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَاَی الْحَقْ 
ترجمہ: جس نے مجھے دیکھا اس نے گویا  ﷲ تعالیٰ ہی کو دیکھا۔
 بعد ازاں علما نے پوچھا ’’یارسول  ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ نے اللہ کو دیکھا؟‘‘ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں قرآن میں وارد ہوا ہے:
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی (سورۃ النجم۔3)
 ترجمہ: اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے۔
لہٰذا فرمایا: 
تَفَکَّرُوْا فِیْ اٰیٰتِہٖ وَ لاَ تَفَکَّرُوْا فِیْ ذَاتِہٖ 
ترجمہ: اس کی آیات میں تفکر کرو لیکن اس کی ذات میں تفکر نہ کرو۔  (محبت الاسرار)

محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی سیدّنا غوث اعظمؓ اپنے رسالہ ’الرسالۃ الغوثیہ‘میں بیان فرماتے ہیں:
میں نے ربّ تعالیٰ کو دیکھا پس میں نے سوال کیا ’’اے ربّ! عشق کے کیا معنی ہیں؟‘‘ فرمایا! ’’اے غوث الاعظمؓ ! عشق میرے لیے کر، عشق مجھ سے کر اور میں خود عشق ہوں۔ اور اپنے دل کو اور اپنی حرکات کو میرے غیر سے فارغ کردے۔ اے غوث الاعظمؓ! جب تم نے ظاہری عشق کو جان لیا پس تم پر لازم ہے کہ عشق سے فنا حاصل کر لو کیونکہ عشق عاشق اور معشوق کے درمیان حجاب ہے۔ پس تم پر لازم ہے کہ غیر سے فنا حاصل کر لو کیونکہ ہر غیر عاشق اور معشوق کے درمیان حجاب ہے۔

حضرت رابعہ بصریؒ کا قول ہے:

سجدہ مستانہ ام باشد نماز
دردِ دل با او بود قرآنِ من

ترجمہ: مستانہ وار محبوب کو سجدہ کرنا میری حقیقی نماز ہے اور اس کے لیے درد بھرے دل کاسوز وگداز میرا قرآن پڑھنا ہے۔

مولانا رومؒ فرماتے ہیں: 

عشق آں شعلہ است کہ چوں بر افروخت
 ہر چہ جز معشوق باشد جملہ سوخت

 ترجمہ: عشق ایسا شعلہ ہے کہ جب بھڑک اُٹھتا ہے تو معشوق (حقیقی) کے سوا تمام چیزوں کو جلادیتا ہے۔

  خواجہ حافظ فرماتے ہیں:
جو شخص دل میں اﷲ کا عشق نہیں رکھتا یقینا اس کی عبادت بے سود، مکروریا ہے۔ (دیوانِ حافظ)
بلھے شاہؒ اپنی کافی ’’نی میں ہن سنیا‘‘ میں فرماتے ہیں: 

نی میں ہن سنیا، عشق شرع کیہہ ناطہ
محبت دا اک پی پیالہ، بھل جاون سبھ پاتا

ترجمہ: عشق کرنے کے بعد ہی مجھے حقیقت سمجھ آئی کہ عشق اور شریعت کا کیا ناطہ ہے۔ عشق کے بغیر شریعت کی عبادات بے سود ہیں۔ شریعت پر زور دینے والے علما اگر اللہ کے عشق کا ایک پیالہ پی لیں تو اپنا حاصل کردہ ہر علم بھول جائیں۔

میاں محمد بخش رحمتہ ﷲ علیہ فرماتے ہیں:

جنہاں عشق خرید نہ کیتا عیویں آ بھگتے
عشقے باہجھ محمد بخشا کیا آدم کیا کتے

ترجمہ: جنہوں نے اس دنیا میں عشق کا سودا نہ کیا اُن کی زندگی فضو ل اور بے کار گزری۔ عشق کے بغیر آدم اورکتے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

جس دِل اندر عشق نہ رچیا کتے اس تھیں چنگے
خاوند دے گھر راکھی کردے صابر بھکے ننگے

ترجمہ: جو دِل عشقِ الٰہی میں مبتلا نہ ہوا اُس سے تو کتے بہتر ہیں کہ اپنے مالک کے گھر کی نگہبانی تب بھی صبر سے کرتے ہیں جب مالک انہیں کھانے کو بھی نہ دے اور اگر دھکے مار کر نکالنے کی کوشش کرے تو بھی نہیں جاتے۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں بھی اپنے مرشد مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی طرح عشق ہی راہِ فقر کی کلید ہے اور عشق ہی منزل تک پہنچاتا ہے۔ راہِ فقر راہِ عشق ہی ہے۔ عشق کے بغیر فقر کی انتہا دیدارِ الٰہی تک پہنچا ہی نہیں جاسکتا۔ علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ بھی تمام عارفین کی طرح عشق کے بغیر ایمان کو نامکمل قرار دیتے ہیں:

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
(بالِ جبریل)

عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دین بت کدہِ تصورات
(بالِ جبریل)

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی
کیا ہے اس نے فقیروں کو وارثِ پرویز
(بالِ جبریل)

اصل ’’توحید‘‘ عشق ہے اور عشق کے بغیرتوحید ایسے ہے کہ جیسے تلوار کے بغیر ایک خالی نیام ۔

عاشقی؟ توحید را بر دل زدن
وانگہے خود را بہر مشکل زدن
(زبورِ عجم)

ترجمہ:عاشقی کیا ہے؟ عاشقی توحیدِ  ایزدی (اللہ تعالیٰ) کو دِل میں بسانا ہے اور پھر ہر مشکل سے ٹکرانا ہے یا ہر مشکل کا سامنا کرنا ہے تاکہ توحید صحیح معنوں میں پختہ ہو جائے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اور عشق

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے فلسفۂ فقر میں عشق ہی کامیابی کی کلید ہے اور عشق ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچاتا ہے۔ آپؒ فر ماتے ہیں:

باھُوؒ بیچارہ را با جاناں جان است
کہ ہر دم بشوق خوش ترانہ آمد

ترجمہ: باھوؒ بے چارے کی جان معشوق میں اٹکی رہتی ہے اور وہ ہر دم اس کے شوق میں خوبصورت نغمے گاتا رہتا ہے۔ (عین الفقر)

عشق دانی چیست؟ کشتن نفس خویش
روز و شب سوزش بود دِل را ریش

ترجمہ: تو جانتا ہے کہ عشق کیا چیز ہے؟ اپنے نفس کو مار دینے کا نام عشق ہے۔ عشق وہ چیز ہے کہ جس کی کاٹ سے دِل ہر وقت سوزش میں مبتلا رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

تا تو در عشق ز خود باخبری
ہمہ در معرضِ خوف و خطری

چوں ز خویشت نہ بود ہیچ خبر
ز آب و آتش نہ بود ہیچ ضرر

چوں کہ از ہستی خود وارستی
روکہ بہ دلبر خود پیوستی

ترجمہ: (۱)تو جب تک عشق میں خود سے باخبر رہے گا تیرا معاملہ معرضِ خوف و خطر میں رہے گا۔ 

(۲)جب تو خود سے بے خبر ہوجائے گا تو آب و آتش سے تجھے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔ 

(۳) جب تو اپنی ہستی سے آزاد ہوجائے گا تو تجھے دلبر (اللہ تعالیٰ) کا وصال نصیب ہوجائے گا۔

عاشقانِ الٰہی ہر گز نہیں ڈرتے اور نہ ہی وہ کسی کی ملامت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ (محک الفقر کلاں)
 مومن کا سرمایۂ حیات ایمان ہے لیکن عاشق کے لیے یہ ادنیٰ منزل ہے۔ عاشق کی اصل منزل ’’وصالِ حق‘‘ ہے جو صرف عشقِ حقیقی سے حاصل ہوتی ہے۔ عشق کی تپش جب انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو ہجر و فراق کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ محبوب کے لیے طلب اور تڑپ میں متواتر اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ہجر کی یہ آگ عاشق کو دن رات بے چین اور بے قرار رکھتی ہے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عشق ایک ایسا لطیفہ ہے جو غیب سے دل میں پیدا ہوتا ہے او رمعشوق (کے دیدار) کے سوا کسی بھی چیز سے قرار نہیں پاتا۔ (محکم الفقرا)
جان لے کہ عشق کا ذکر بلندیٔ پرواز ہے۔ مکھی اگرچہ ہاتھ ملے، سر مارے، ہزار دفعہ اڑانیں بھرے، پروازِ شہباز کے مقام اور مراتب تک نہیں پہنچ سکتی۔ زاہد خواہ جتنی بھی ریاضت کرلے صاحبِ راز نہیں بن سکتا۔ جان لے کہ عشق کے متعلق کسی مدرسے کا امام نہیں بتا سکتاکیوںکہ عشق بارِگراں ہے۔ عشق کی روایت تمام جہانوں سے بیگانگی ہے۔ جان لے کہ عاشق موت کا طالب ہوتا ہے کیونکہ موت اسے اس کے مقامِ لامکان تک پہنچا دیتی ہے۔ عاشق کی موت کا مطلب وصل ہے۔(عین الفقر)

جان لوکہ فقیر دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک سالک دوسرے عاشق۔ سالک صاحب ِریاضت و مجاہدہ ہوتا ہے اور عاشق صاحبِ راز و مشاہدہ۔ سالک کی انتہا عاشق کی ابتدا ہے کیونکہ عاشق کا کھانا مجاہدہ اور خواب مشاہدہ ہوتا ہے۔ (محکم الفقرا)
عشق سنار کی طرح ہے جو کھوٹے کو کھوٹا اور کھرے کو کھرا ظاہر کر دیتا ہے۔ (عین الفقر)
اے زاہد! بہشت کے مزدور سن! عاشقوں کا کھانا سراسر نور،ان کا پیٹ مثلِ آتشِ تنور اور ان کی نیند وصالِ حضور ہے۔  (محکم الفقرا)
حقیقی عاشق کی پہچان آپؒ نے یہ بیان فرمائی ہے:

باھوؒ عاشقانرا راز این است ذکر ھو گوید دوام
دم بدم ذکر ھُو گوید کارِ آں گردد تمام

ترجمہ: اے بَاھوؒ! عاشقوں کا یہی راز ہے کہ وہ ہمیشہ ذکرِ ھوُ کرتے رہتے ہیں۔ ہر سانس کے ساتھ ھوُ کا ذکر کرنے سے ہی ان کا ہر کام مکمل ہو جاتا ہے۔ (عین الفقر)

حضرت سخی سلطان باھوؒ عاشق کے بارے میں اپنی کتاب ’نور الہد یٰ کلاں ‘ میں فرماتے ہیں: 
کامل مکمل عاشق اور اکمل جامع معشوق اولیا اللہ فقیر کے سخنِ کن کے مراتب کی شرح یہ ہے کہ عاشق فقیر کا ابتدائی مرتبہ دیدارِ الٰہی ہے، متوسط مرتبہ بھی دیدارِ الٰہی ہے اور انتہائی مرتبہ بھی دیدارِ الٰہی ہی ہے۔
جو فقیرعاشقِ خدا ہے وہ معشوقِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہوتا ہے۔ فقیر کا یہ کہنا اس آیت کے مطابق ہے نہ کہ خواہشاتِ نفس کی بنا پر، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ  وَجْھَہٗ وَلَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْھُمْ ج تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۔ (سورۃ الکہف۔28)
ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) آپ ان لوگوں کی معیت میں رہا کریں جو رات دن اپنے ربّ کو پکارتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں دیدارِ الٰہی کی خاطر ملتجی رہتے ہیں، ان کو چھوڑ کر آپ کی آنکھیں زینتِ دنیا کی تلاش میں نہ پھرا کریں اور اس کا کہانہ مانیں جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے ، وہ تو خواہشِ نفس کا غلام ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے۔

 عاشق، معشوق، محبوبِ ربانی و عاشق جانی کا قلب مراتب ِ قرب و دیدارِ الٰہی کی بدولت زندہ ہوتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
جان لے کہ فقیر کے دو مراتب ہیں، ابتدا میں عاشق ہوتا ہے اور انتہا پر معشوق۔ پس عاشق کی ریاضت دیدارِ الٰہی ہے، ورد و وظائف ذکر فکر اس کے لیے مردار ہیں۔ عاشق کو نیک وبد اور طلب و مطالب سے کیا سروکار؟ (نور الہدیٰ کلاں)
یہ حدیثِ قدسی بھی عاشق فقیر کے بارے میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَنْ طَلَبَنِیْ فَقَدْ وَ جَدَنِیْ ط وَمَنْ وَ جَدَنِیْ عَرَفَنِیْ ط وَ مَنْ عَرَفَنِیْ اَحَبَّنِیْ ط  وَمَنْ اَحَبَّنِیْ  عَشَقَنِیْ ط وَ مَنْ عَشَقَنِیْ قَتَلْتُہٗ ط  وَ مَنْ قَتَلْتُہٗ فَعَلَیَّ دِ یَّتَہٗ ط  وَ اَنَا دِیَّتَہٗ۔
ترجمہ: جومیراطالب بنتا ہے، بے شک وہ مجھے پا لیتا ہے، جو مجھے پالیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے، جو مجھے پہچان لیتا ہے وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے ، جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ میرا عاشق بن جاتا ہے ، جو مجھ سے عشق کرتا ہے میں اُسے مار ڈالتا ہوں، جسے میں مار ڈالتا ہوں اُس کی دِیَت میرے ذمے ہوجاتی ہے اور اُس کی دِیت میں خود ہوں۔

زین مراتب عاشقان مذکور شد
ابتدا ہم نور آخر نور شد

ترجمہ: عاشقوں کے مراتب یہ بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی ابتدا بھی نور ہوتی ہے اور انتہا بھی نور ہوتی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
جیسا کہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:
نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ  (سورۃ النور۔35)
ترجمہ: نور پر نور ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور سے بہرہ ور کر دیتا ہے۔
راہِ حق کے طالب اچھی طرح جانتے ہیں کہ راہِ حق میں جان قربان کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اصل کام زندہ رہ کر اپنے اندر سے اپنی انا اور خودی کو ختم کرکے  ﷲ کی رضا پر راضی رہناہے یعنی مرنے سے پہلے مر جانا ہے۔ اور یہ بے حد مشکل کام ہے۔ لیکن آپؒ عشق کی اس منزل تک پہنچنے کے بارے میں فرماتے ہیں:

باھوؒ عشق را بامِ بلند است اسم اللہ  نردبان
ہر مکانی بی نشانی می برد در لامکان

ترجمہ: اے باھوؒ! عشق کی چھت بہت اونچی ہے، اس تک پہنچانے والی سیڑھی اسم اللہ ذات ہے جو تجھے ہر مقام اور منزل سے گزار کر لامکان تک پہنچا دے گا۔ (عین الفقر)   

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر عشق کا پوشیدہ جذبہ بیدار کیسے ہو؟ ہمارا عشق تو ان چیزوں، شکلوں اور لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہیں ہم نے دیکھا ہے جبکہ ﷲ تعالیٰ تو غیر مجسم ہے۔ اسکے ساتھ ہم عشق کیسے کریں؟ فقرا کاملین کے طریقہ کے مطابق عشقِ مجازی (عشقِ مرشد)کے زینہ کے ذریعہ ہی ہم عشقِ حقیقی (اللہ تعالیٰ کے عشق) تک پہنچ سکتے ہیں۔ عام طور پر عشقِ مجازی کسی عورت کے مرد سے اور کسی مرد کے عورت سے عشق کو سمجھا جاتا ہے جو بالکل لغو اور شیطانی کھیل ہے۔ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ راہِ فقر میں عشقِ مجازی سے مراد عشقِ مرشد ہے۔

عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) کا طریقہ کیا ہے؟

عشقِ مجازی کے لئے تمام سلاسل میں یہ طریقہ اختیارکیا جاتا ہے کہ طالب (مرید) کو تصورِ مرشد کے لئے کہا جاتا ہے بلکہ آجکل تو کچھ سلسلوں نے اس کے لئے مرشد کی با قاعدہ تصاویر بھی دینی شروع کردی ہیں۔ طالب ہر وقت اپنے مرشد کے تصور اور خیالوں میں مگن رہتا ہے اور یوں اس کے دل میں مرشد کی محبت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اِس طریقہ میں استدراج اور دھوکہ ہے اور آج کے دور میں سو فیصد ہوتا بھی دھوکہ ہی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ شرک اوربت پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ انسانی جبلت ہے کہ وہ جس کے تصور میں ہر وقت محو اور جس کے خیالوں میں ہر وقت مگن رہتا ہے اُسے اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے اور پھر یہ محبت عشق میں بھی بدل جاتی ہے۔ سلسلہ سروری قادری میں یہ طریقہ نہیں ہے۔ اِس میں عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) تصور اسم اللہ ذات سے پیدا ہوتا ہے۔ یعنی طالب جب اسمِ  اللہ ذات کا تصور شروع کرتاہے تو سب سے پہلے اُسے تصورِ مرشد حاصل ہوتا ہے اور اِس طرح مرشد سے عشق کا آغاز ہوتا ہے۔ اس طریقہ کے دو فوائد ہیں، ایک تو یہ کہ اِس میں استدراج اور دھوکہ نہیں ہے کیونکہ تصور اسمِ اللہ ذات سے یہ تصورِ مرشد حاصل ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ جب تصورِ اسمِ اللہ ذات سے تصورِ مرشد حاصل ہوتا ہے تو طالب کو یقین ہو جاتا ہے کہ میرا مرشد کامل ہے اور میں صراطِ مستقیم پر ہوں۔ پھر یہ عشق مرشد سے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق کی طرف اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے عشق یعنی عشقِ حقیقی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور طالب فنا فی اللہ بقا باللہ کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔

دوسرے سلاسل میں پہلے فنا فی الشیخ کا مراقبہ کرایا جاتا ہے پھر فنا فی الرسول کا مراقبہ کرایا جاتا ہے اور پھر آخر میں اسمِ اللہ ذات کے ذریعہ (ہر سلسلہ کا طریقہ مختلف ہے) فنا فی اللہ کا مراقبہ کرایا جاتا ہے۔ یہ عمل ایک لمبے عرصہ کا متقاضی ہے۔ لیکن سلسلہ سروری قادری میں پہلے دِن ہی مرشد تصورِ اسمِ اللہ ذات عطا کر دیتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جہاں دوسرے طریقوں کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے سلسلہ سروری قادری کی ابتدا ہوتی ہے۔

شاہ شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ عشقِ مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں:

عشق معراج است سوئے بام سلطانِ ازل
از رخِ عاشق فرو خواں قصۂ معراج را

ترجمہ: عشقِ حقیقی معراج ہے اور عشق ہی بارگاہِ ایزدی میں باریابی دلاتا ہے۔ اگر معراج کی داستانِ حقیقی پڑھنی ہے تو کسی عاشق صادق (مرشد کامل) کے چہرہ پر نظر جماؤ۔

مولانا جامیؒ فرماتے ہیں:

غنیمت داں اگر عشق مجازیست
کہ از بہر حقیقت کار سازیست

ترجمہ: اگر تجھے ذاتِ مرشد کا عشق نصیب ہوجائے تو اسے اپنی خوش نصیبی جان کیونکہ یہ ذاتِ حق کے عشق تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔

بلھے شاہؒ کے نزدیک بھی عشقِ مجازی عشقِ حقیقی کا سرچشمہ ہے۔ عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی پیدا ہوتا ہے۔

جے چر نہ عشق مجازی لاگے
سوئی سیوے نہ بن دھاگے
عشق  مجازی  داتا  ہے
جس پچھے مست ہو جاتا ہے

ترجمہ: اگر مرشد سے عشق نہ ہو تو انسان خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس طرح دھاگے کے بغیر سوئی سلائی نہیں کر سکتی اِسی طرح عشقِ مجازی کے بغیر عشقِ حقیقی تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ عشقِ مجازی داتا ہے، جسے نصیب ہو جائے وہ مست ہو جاتا ہے۔

حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ﷲ علیہ فرماتے ہیں:

میں نیواں میرا مرشد اُچا، اسی اُچیاں دے سنگ لائی
صدقے جاواں انہاں اُچیاں توں جنہاں نیویاں دے نال نبھائی

ترجمہ: میں بہت عاجز اور عام آدمی تھا لیکن مجھے اس بات کا فخر ہے کہ میرا مرشد کامل اور اکمل ہے۔ میں ان کے قربان جاؤں کہ انہوں نے مجھ عاصی پر اپنی شان کے مطابق مہربانی فرمائی اور مجھے آخر تک اپنی غلامی میں رکھ کر میری منزل (عشقِ حقیقی) تک پہنچایا۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

گرد مستاں گرد، گر مے کم رسد بوئے رسد
بوئے او گر کم رسد، رویتِ ایشاں بس است

ترجمہ: مستوں (عشقِ حقیقی کے مے کشوں) کے گرد گھومتا رہ۔ اگر عشق کی شراب نہ ملے تو کم از کم اس کی خوشبو تو حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ بھی نہ ملے تو اُن کا دیدار ہی کافی ہے۔

مولانارومؒ فرماتے ہیں:

عاشقاں را شُد مدرس حسنِ دوست
دفتر و درس و سبق شان رُوئے اوست

ترجمہ: محبوب (مرشد) کا حسن ہی عاشقوں کا مدرس بن گیا۔ اس کا چہرہ ہی اُن کی کتاب، درس اور سبق ہوتا ہے۔

صد کتاب و صد ورق در نار کن
روئے دِل را جانب دِلدار کن

ترجمہ: سو کتابوں اور اوراق کو آگ میں ڈال اور اپنے دِل کا رُخ دِلدار (مرشد) کی جانب کردے۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ بھی مرشد کے عشق کو عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ کے پنجابی ابیات میں سب سے زیادہ ابیات عشق کے موضوع پر ہیں۔

الف اللہ صحی کیتوسے جداں، چمکیا عشق اگوہاں ھوُ
رات دیہاں دیوے تاہ تکھیرے، نت کرے اگوہاں سوہاں ھوُ
اندر بھائیں اندر بالن، اندر دے وِچ دُھوہاں ھوُ
باھوؒ شوہ تداں لدھیوسے، جداں عشق کیتوسے سوہاں ھوُ

جب ہم نے اسمِ   ذات کی حقیقت کو پہچان لیا اور اُس کا راز ہم پر منکشف ہو گیا تو عشق کی آگ ہمارے اندر بھڑک اٹھی اور اس کی تپش سے محبوبِ حقیقی سے ملنے کے لئے ہماری بے چینی و بے قراری بڑھتی جا رہی ہے۔ اس عشق کی تپش ہمیں راہِ فقر میں اگلی منزل کی طرف قدم بڑھانے پر مجبور کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ سے قرب و وصال کی بے قراری کے درد اور تڑپ نے من میں طوفان برپا کر رکھا ہے۔ جب عشق نے راہِ فقر کی رسومات سے ہمیں واقف کرا دیا تو ہم نے محبوبِ حقیقی (اللہ تعالیٰ) کو پا لیا۔

ایمان سلامت ہر کوئی منگے، عشق سلامت کوئی ھوُ
منگن اِیمان شرماون عشقوں، دِل نوں غیرت ہوئی ھوُ
جس منزل نوں عشق پچاوے، اِیمان نوں خبر نہ کوئی ھوُ
میرا عشق سلامت رکھیں باھوؒ، اِیمانوں دیاں دھروئی ھوُ

ایمان کی سلامتی تو ہر کوئی طلب کرتا ہے لیکن عشق کی نعمت اور سلامتی تو کوئی کوئی ہی طلب کرتا ہے۔ طالبانِ عقبیٰ تو صرف ایمان کی سلامتی کے طلب گار ہیںاور عشقِ الٰہی سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر میرے دِل کے اندر غیرتِ فقر و عشقِ الٰہی اجاگر ہو رہی ہے کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جن منازل و مقامات تک عشق کی رسائی ہے ایمان کو تو اُس کی خبر تک نہیں۔ آخری مصرعہ میں آپؒ دعاگو ہیں کہ میرے عشق کو سلامت رکھنااور مجھے استقامت عطا کرنا کیونکہ یہ عشق مجھے ایمان سے زیادہ عزیز اور محبوب ہے۔

جیں دِل عشق خرید نہ کیتا، سو دل درد نہ پھٹی ھوُ
اُس دِل تھیں سنگ پتھر چنگیرے، جو دل غفلت اَٹی ھوُ
جیں دِل عشق حضور نہ منگیا، سو درگاہوں سٹی ھوُ
ملیا دوست نہ اُنہاں باھوؒ، جنہاں چوڑ نہ کیتی ترٹی ھوُ

جس دل نے عشق کا سودا نہ کیا اور عشق ِحق تعالیٰ سے گھائل نہ ہوا وہ دل درد اور سوز سے محروم ہے، اس غافل دل سے تو پتھر اچھے ہیں۔ اور جس دل نے حق تعالیٰ کی حضوری طلب نہ کی وہ راندئہ درگاہ ہو گیا۔ وصالِ الٰہی اُن کو نصیب نہیں ہوتا جو راہ ِ حق میں گھر بار قربان نہیں کرتے۔ 

جنہاں عشق حقیقی پایا، مونہوں نہ کجھ اَلاوَن ھوُ
ذِکر فکر وِچ رہن ہمیشاں، دَم نوں قید لگاون ھوُ
نفسی، قلبی، روحی، سِرّی، خفی، اخفی ذِکر کماون ھوُ
میں قربان تنہاں توں باھو،ؒ جیہڑے اِکس نگاہ جواوَن ھوُ

جن طالبانِ مولیٰ نے عشقِ حقیقی پا لیا ہے وہ زبان سے ذکر نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ دِل میں ذکر فکر میں محو رہتے ہیں۔ ان کا ہر سانس ذکرِ یاھو کے ساتھ آتا جاتا ہے اور ان کا وجود نفسی، قلبی، رُوحی، سرّی، خفی اور اخفی ذکر میں مستغرق اور محو ہوتا ہے۔ میں ایسے مرشد کامل اکمل کے قربان جاؤں جو ایک ہی نگاہ سے مردہ دلوں کو زندہ کر دیتا ہے۔ 

غوث قطب سب اُورے اُوریرے، عاشق جان اگیرے ھوُ
جس منزل تے عاشق پہنچن، اُوتھے غوث نہ پاون پھیرے ھوُ
عاشق وِچ وصال دے رہندے، جنہاں لامکانی ڈیرے ھوُ
میں قربان تنہاں توں باھوؒ، جنہاں ذاتوں ذات بسیرے ھوُ

جو منزل اور مقام حق تعالیٰ کی بارگاہ میں عاشقِ ذات کا ہے اس مقام اور منزل تک غوث و قطب کا گزر تک نہیں ہے۔ عاشقانِ ذات نے ’’لامکان‘‘ میں ڈیرے لگائے ہوئے ہیں اور ہمیشہ وصالِ ذات میں رہتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اِن عاشقوں کے قربان جاؤں جو اپنی ہستی کو ختم کر کے ذاتِ حق میں فنا ہو چکے ہیں۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق عشق وہ روحانی جذبہ ہے جو مخلوق کو خالق سے ملا دیتا ہے۔ یہ عشق ہی ہے جسکی بنا پر انسان اپنی نفسانی کدورتوں، شیطانی وہمات اور کبیرہ وصغیرہ گناہوں سے کنارہ کش ہوکر ﷲ کی ذات میں فنا ہو جاتا ہے۔ عشقِ حقیقی (ﷲ تعالیٰ سے عشق) کی ابتدا عشقِ مجازی (مرشد سے عشق) سے ہوتی ہے۔

عاشق کی انتہا ’’مرتبۂ معشوق‘‘

عاشق کی انتہا مرتبۂ معشوق (محبوب) ہے۔
عشق کی انتہا یہ ہے کہ عاشق عشق کرتے کرتے معشوق بن جاتا ہے اور معشوق عاشق بن جاتاہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ’نور الہدیٰ کلاں‘ میں فرماتے ہیں:
مرتبۂ فقر مرتبۂ معشوق ہے۔ معشوق جو بھی چاہتا ہے عاشق اسے عطا کر دیتا ہے بلکہ معشوق کے دل سے جو بھی خیال گزرتا ہے عاشق اس سے آگاہ ہو جاتا ہے اور اپنی نگاہ سے ہی اسے تمام مطالب سے بہرہ ور کر دیتا ہے۔
اسی کے متعلق اقبالؒ فرماتے ہیں:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
(بالِ جبریل)

چوں تمام افتد سراپا ناز می گردد نیاز
قیس را لیلیٰ ہمی نامند در صحرائے من
(پیامِ مشرق)

ترجمہ: جب عشق کمال کو پہنچ جاتا ہے تو وہ سراپا ناز (محبوب) کی صورت اختیار کر لیتا ہے، چنانچہ میرے صحرائے عشق میں قیس کو لیلیٰ کہا جاتا ہے۔ یعنی عاشق کا عشق جب کمال کو پہنچ جاتا ہے تو عاشق گویا خود معشوق بن جاتا ہے۔ بقول بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ:

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
آکھو نی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھے کوئی

علم، عقل اور عشق

عقل کا منبع دماغ اور عشق کا مرکز دِل ہے اور دِل میں ہی اللہ تعالیٰ کی جلوہ گری ہے۔ تمام دنیا وی علوم کی بنیاد عقل و خرد پر ہے۔ سب علوم عقل ہی کی بدولت حاصل کیے جاتے ہیں اور بدلے میں عقل و خرد میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ انسانی عقل اور اس کا علم محدود ہے۔ عقل اور اس کی بِنا پر حاصل کردہ علم ہمیں زمان ومکان کی حدودسے باہر نہیں لے جا سکتے لہٰذا عقل اور علم کی بِنا پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل نہیں ہوسکتی۔ جب ہم علم اور عقل کی حدود پار کرکے عشق کی حدود میں داخل ہوتے ہیں توعشق تمام حدود پار کرواکے ہمیں ’’لامکان‘‘ تک پہنچا دیتا ہے۔
مولانا رومؒ کا قول ہے ’’ ہم عشقِ ﷲ کو علم وعقل سے بیان نہیں کرسکتے۔‘‘
آپؒ فرماتے ہیں:

عشق آمد عقل خود آوارہ شد
شمس آمد شمع خود بیچارہ شد

ترجمہ: عشق آ گیا تو عقل بے چاری بے کار ہوگئی جیسے سورج نکلا تو شمع کی ضرورت نہ رہی۔

رہِ عقل جز پیچ در پیچ نیست
رہ عاشقاں جز خدا ہیچ نیست

ترجمہ: عقل کا راستہ بہت پیچیدہ اور مشکل ہے اور عاشقوں کا راستہ خدا کے سواکچھ نہیں۔

خواجہ حافظ فرماتے ہیں ’’حکایتِ عشق حرف وآواز سے بَری وبالا ہے۔‘‘
عشقِ ﷲ سے سرشار اور مست انسان اپنی دید کے نظارہ سے بڑے سے بڑے عالم وفاضل کو بھی دیوانہ بنادیتا ہے۔ دیوانِ شمس تبریزؒ میں ہے: 

گر توُ افلاطون و لقمان بہ علم
من بہ یک دیدار نادانت کنم

ترجمہ: اگرچہ تو علمیت میں افلاطون ولقمان کے برابر بھی ہو، میں تجھے اپنی دید کے ایک ہی جلوہ سے نادان بنادوں گا۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 
 علم اور عقل عشقِ الٰہی کی راہ کی بڑی کمزوری ہے۔ عشقِ الٰہی میں وہ لطف وسرور ہے کہ اگر کسی جید عالم کو اس کا ذرا سا مزہ مل جائے تو وہ تمام علمیت بھول کر عشقِ الٰہی میں گم ہو جائے۔ 

آپؒ ایک پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

عشق سمندر چڑھ گیا فلک تے، کتول جہاز کچیوے ھوُ
عقل فکر دِی ڈونڈی نوں، چا پہلے پور بوڑیوے ھوُ
کڑکن کَپڑ پوون لہراں، جد وحدت وِچ وڑیوے ھوُ
جس مرنے تھیں خلقت ڈردی باھوؒ، عاشق مرے تاں جیوے ھوُ

عشق کا دریا چڑھ کر وحدت کے بحر ِبیکراں تک پہنچ گیا ہے۔ فقر تو محض عشق کی راہ ہے، اس میں عقل کا کیا کام! اس لئے عقل و فکر کی ناکارہ کشتی کو پہلے دن ہی ڈبو کر اس سے نجات حاصل کر لینی چاہیے۔ طالب جب دریائے وحدت میں داخل ہوتا ہے تو تکالیف، مشکلات اور مصائب کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ جس موت سے خلقت ڈرتی ہے عاشق کو اِسی موت کے بعد حیاتِ ابدی نصیب ہوتی ہے۔ 

عشق کا کھیل ایسا ہی نرالا ہے جسے ﷲ کے عشق میں بے چین وبے قرار، صادق دل طالب عقل اور خرد کی حدود سے نکل کراپنی زندگی اور مال ومتاع داؤ پر لگاکر کھیلتے ہیں۔ اگر جذبے صادق ہوں تو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور دیدارِ حق نصیب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ یہ عشق ہی ہے جو دیدارِ حق تعالیٰ کا راستہ وا کرتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے عقل کے ہزار ہا ہزار قافلے سنگسار ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ کو نہ پاسکے۔ فقرانے عشق ہی کے راستے سے دیدارِحق تعالیٰ کی نعمت حاصل کی۔ 

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں