تصور اسمِ محمد | Tasawur Ism e Mohammad

تصور اسمِ محمد

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں اسمِ اللہ ذات کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ محمد  کے اسرار و رموز کوبھی کھول کر بیان فرمایا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ مرشد ِ کامل اکمل وہی ہے جو اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد  کی راہ جانتا ہے۔ آپ اسمِ  اللہ ذات کے ساتھ ساتھ اسمِ محمد کے تصور کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں۔

خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں صحابہ کرامؓ نے معرفتِ الٰہی کی تمام منازل اور مراتب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ مبارک کے دیدار اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب و نگاہِ کامل کی توجہ سے حاصل کیے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد آنے والے طالبانِ مولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسمِ مبارک کے توسط اور برکت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس تک باطنی رسائی حاصل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کرم و تاثیر سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مہربانی اور ساتھ کے بغیر آج تک نہ کوئی اللہ تک پہنچ پایا ہے نہ پہنچ پائے گا۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ کی توجہ حاصل نہ ہو، روح نہ زندگی پاتی ہے اور نہ وصال و معرفت ِ الٰہی۔ موجودہ زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہِ کامل سے فیض یاب ہونے کا ذریعہ ذکر و تصور اسمِ  اللہ اور اسمِ محمد ہے جو طالب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں لے جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اصحابؓ کا ساتھ نصیب کرتا ہے۔ اس مجلس میں صبر و استقامت، ادب و حیا اور مکمل اطاعت و پیروی کے ساتھ دنیاوی تعلقات کو باطنی طور پر قطع کر کے مستقل حاضری کے بعد ہی ایک طالب اس لائق بنتا ہے کہ اسے محبوبیت کے مراتب حاصل ہوں اور اللہ کی معرفت و وصال نصیب ہو۔ 

اللہ کے بے شمار صفاتی نام ہیں لیکن اسم  اللہ اس کا ذاتی نام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے بھی بے شمار صفاتی نام ہیں لیکن اسم محمد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذاتی نام ہے۔ جس طرح اسم ’’ اللہ‘‘ اللہ کے تمام ناموں میں سب سے زیادہ قوت والا اسم ہے اسی طرح اسم محمد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام ناموں میں سب سے زیادہ اثر اور قوت رکھنے والا اسم ہے۔

اسم محمد کا ظہور اس وقت ہوا جس وقت انوارِ الٰہیہ اور تجلیاتِ نورِ محمدی کے سوا کسی شے کا ظہور نہ ہوا تھااس لیے اسمِ محمد خود بھی منبع انوار و تجلیات ہے اور معجزانہ شان کا حامل ہے۔ ظہورِ ذات حق تعالیٰ کی ترتیب کو مدِنظر رکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نورِ الٰہی، صورت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ظاہر ہوا۔ جب اولیا کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ازل میں خود کو ’’اسم  اللہ ذات‘‘ کی صورت میں ظاہر فرمایا تو اس میں ’’ذات‘‘ سے مراد نورِ محمدی یا ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے جو اللہ کا ظہورِ اوّل اور ’’نور‘‘ سے ’’ذات‘‘ کا پہلا اظہار ہے۔ چنانچہ اسمِ محمد ، اسم  اللہ ذات سے جدا یا علیحدہ نہیں بلکہ اسم  اللہ ذات اسم محمد میں اور اسم محمد اسم  اللہ ذات میں گم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کلام کو اپنا کلام قرار دیا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ (سورۃ الفتح۔10)
ترجمہ: (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) جو لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ دراصل اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (سورۃ النجم۔3-4)
ترجمہ: اور یہ (نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتے۔ وہ تو وہی فرماتے ہیں جو ان کو (اللہ کی طرف سے) وحی کی جاتی ہے۔ 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اسم  اللہ ذات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اسم محمد کو اسم  اللہ ذات کا ہی حصہ قرار دیتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ محک الفقر کلاں میں فرماتے ہیں:
اَلْفَقْرُ فَخْرِی  کی شرح یوں بھی ہے کہ فقر کی ابتدا اسم  اللہ سے ہے یعنی فقرا اسم  اللہ سے فقیر بنتے ہیں ا ور اسم  اللہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فخر ہے کہ اسم  اللہ اسم محمد میں تبدیل ہوجاتا ہے چنانچہ حدیثِ قدسی میں فرمان حق تعالیٰ ہے:
اَنْتَ اَنَا وَ اَنَا اَنْتَ 
ترجمہ: (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!)  تو میں ہے اور میں تو ہوں۔
 یعنی یہ دو نام ایک ہی صنف سے ہیں اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ الْفَقْرُ مِنِّیْ
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔ (محک الفقر کلاں)
چنانچہ اسم محمد درحقیقت اسی قوت اور اثر کا حامل ہے جو اسمِ اللہ کو حاصل ہے۔ لیکن اسمِ اللہ میں جلال بھی ہے جمال بھی، قہر بھی ہے لطف بھی جبکہ اسمِ محمد  میں جمال ہی جمال اور رحمت ہی رحمت ہے لہٰذا انسانی باطن پر اس کے اثرات زیادہ خوش کن ہیں۔ اسمِ محمد کے تصور سے انسانی روح شریعتِ محمدیؐ کے تابع ہوکر اللہ کی زیادہ تابع دار ہو جاتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں جہاں اسمِ اللہ ذات کی مکمل تشریح و تفصیل بیان کی وہاں اسمِ محمد کے معارف، اثرات و کمالات بھی بیان فرمائے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ اسمِ محمد کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اسم  اللہ میں اسمِ اعظم ہے اور اسمِ  محمد میں صراطِ مستقیم ہے۔ (محک الفقر کلاں)

اپنی تصنیف ’’عقلِ بیدار‘‘ میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اسم محمد  کے تصور کے دوران اس کے حروف کی تجلیات سے حاصل ہونے والے مراتب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اسمِ محمد  کے چار حروف ہیں: م، ح، م، د۔ حرف ’م‘ کے تصرف سے مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رسائی، حرف ’ح‘ کے  تصرف سے حضوری محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حرف ’م‘ کے تصرف سے محو فنا فی نورِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حرف ’د‘ کے تصرف سے دوام بادم ہر نفس با سخنِ محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ (عقل ِبیدار)

اسم محمد   کا ہر حرف ایک خاص تاثیر اور قوت رکھتا ہے۔ جب سالک مرشد کی اجازت سے اسمِ محمد کا تصور کرتا ہے تو ان حروف کی تجلیات کے زیر اثر اپنے نفس و باطن میں واضح تبدیلیاں محسوس کرتا ہے اور ان صفات کا حامل ہوتا جاتا ہے جن کی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام محبوبِ الٰہی ہیں۔ اس کا نفس مردہ اور قلب زندہ ہوتا ہے۔ وہ جسم و مکان کی قید سے آزاد ہو کر روحانی طور پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس تک رسائی حاصل کرتا ہے جہاں اُن کی زیر تربیت وہ تمام صفاتِ محمدی  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمسے متصف ہو کر اللہ کے ہاں محبوبیت کا مرتبہ پالیتا ہے۔ سالک کی شخصیت پر اسمِ محمد  کے تصور کے اثرات بیان کرتے ہوئے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جب طالبِ مولیٰ اسم اللہ ذات، اسم محمد اور کلمہ طیبہ کے تصور میں محو ہوتا ہے تو اس کے گناہ نورِ اسمِ اللہ ذات کے لباس میں چھپ جاتے ہیں۔ (محبت الاسرار) 

جب طالب اسم محمد   کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو بے شک جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک مع ارواحِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نہایت لطف و کرم سے تشریف فرما ہوتی ہیں۔ صاحبِ تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں: ’’میرا ہاتھ پکڑ۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہاتھ پکڑتے ہی طالب کا دل معرفتِ الٰہی کے نور سے روشن ہو جاتا ہے جس سے وہ ارشاد کے لائق ہو جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صاحبِ تصور کو اپنی زبان مبارک سے فرماتے ہیں کہ خلقِ خدا کی امداد کرو۔ پس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم سے صاحبِ تصور خلقِ خدا کو تعلیم و تلقین دیتا ہے۔ (کلید ِ جنت)
اسمِ محمد    کے تصور سے علم کی سچی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ (کلید ِجنت)

جس کسی کے وجود میں اسمِ محمد   کا نور (تصور اسم محمد سے) داخل ہو جائے اس شخص کا ہر کام نور ِمحمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   سے ہوتا ہے۔ (عقلِ بیدار)

جان لے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دونوں جہان کے ہادی ہیں۔ اس شفیع ا لامت کی زیارت ایمان کی خوشی و شادمانی ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ہدایت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ شیطان کی یہ مجال کہاں کہ خود کو ہادی کہلائے۔ شیطان ہادی برحق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   کی صورت اختیار نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی مسلمان کو شیطان سے ہدایت مل سکتی ہے کہ شیطان ہدایت اور اسم  اللہ و اسم محمد     سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح کافر قاتل الکفار کلمہ طیب سے ڈرتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

جان لو کہ آدمی کے وجود میں ایک لاکھ تہتر ہزار کفر و شرک کے زنار ہیں (جو تصور اسم اللہ ذات اختیار کرنے سے ٹوٹ جاتے ہیں)۔ اس (اسم اللہ ذات کی) راہ سے ابتدا میں ہی اللہ تعالیٰ کی حضوری سے مشرف اور اسمِ محمد سے حضوری مجلسِ محمدیؐ میں داخل ہو جاتے ہیں اور لاھوت لامکان میں بعیان دیکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ نور میں نور (گم ہوجا تا) ہے۔ وہاں پر نہ جسم ہوتا ہے نہ جان۔ ان مراتب کو احمق حیوان کیسے جان سکتا ہے؟ اگر تو صدق سے فدا ہو کر اسم محمد   پر اپنی جان نثار کر دے تو ایک ہی دم میں ہزار بار محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرئہ انور کے دیدار سے مشرف ہو جائے گا۔ تجھے اعتبار ہونا چاہیے کہ یہ راہ متقیوں کے لیے فیض فضل بخش ہے۔ (عقل ِبیدار)

مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں داخل ہو کر حضوری پانا آسان کام ہے لیکن ولایت و ہدایتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، خوئے محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، خلقِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، ملکِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، ترک و توکلِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، تسلیم و رضائے محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مجموعہ فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنانا بہت دشوار ہے۔ (کلید التوحید خورد)

مندرجہ بالا دشوار منازل سے گزرنا بھی توجۂ محمدی سے ہی ممکن ہے جس کے لیے تصورِ اسمِ محمد ضروری ہے۔ سلطان العارفین حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

چوں بہ بینم حق قیوم آں خدا
می بینم من از رفاقتِ مصطفیٰؐ

ترجمہ:جب میں اس خدا کو حق و قیوم دیکھتا ہوں تو یہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رفاقت (ساتھ اور توجہ) کی وجہ سے دیکھتا ہوں۔

ہر جا کہ خواہد می رساند خویش را
ہم جلیس دائم با مصطفیٰؐ

ترجمہ:جو آدمی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دائمی مصاحب ہو جائے (تصور اسمِ محمد   سے مجلس محمدی  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل کرلے) وہ خود کو جہاں چاہے پہنچا سکتا ہے۔

دل غنی او با نبیؐ ہر دوام
احتیاحبش کس ندارد خاص و عام

ترجمہ: اس کا دل غنی ہو جاتا ہے اور وہ ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ہوتا ہے (مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہوتا ہے)۔ پھر وہ کسی خاص و عام کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ 

گرچہ پرہیز کند لقمۂ گدا
عارفاں باللہ حاضر مصطفیٰؐ

ترجمہ: عارف باللہ بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ بھیک کے نوالے سے پرہیز کرتے ہیں۔ 

بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری سے ہی فنا فی الرّسول کے مراتب حاصل ہوتے ہیں جن کے بعد فنا فی اللہ بقا باللہ کی منازل تک رسائی نصیب ہوتی ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جان لے! قرب کے مراتب تین قسم کے ہیں جو تین قسم کے تصور سے حاصل ہوتے ہیں یعنی تصور فنا فی الشیخ، تصور فنا فی اسم محمد   اور تصور فنا فی اسم اللہ ذات۔ (شمس العارفین)

جو عالم باللہ اسم محمد میں فنا ہوتا ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   اور اولیا اللہ کا منظورِ نظر ہوتا ہے۔ ایسا شخص عالم بھی ہوتا ہے، عامل بھی اور فقیرِکامل بھی اور حضور غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا منظورِ نظر مرید لایرید بھی۔ (فضل اللقا)

تاہم تصورِ اسمِ محمد کی یہ تمام برکات مرشد ِکامل اکمل کی توجہ اور تلقین کے بغیر حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اسمِ محمد کی تمام تر تاثیر قلب پر اسی وقت اثر انداز ہوتی ہے جب اس اسم کا تصور مرشد کی اجازت سے اُس کی زیرنگرانی کیا جائے۔ جب تک مرشد قلب کا قفل نہیں کھولے گا، اسم محمد  اُس پر تاثیر نہ کرے گا۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جب مرشد اسمِ محمد کی تلقین طالب کو کرتا ہے تو وہ پہلے ہی روز مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حاضری سے مشرف ہو جاتا ہے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت میں نفس امارہ اور شیطان لعین داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ حاضرات اسم اللہ ذات کی راہ ہے جس میں ازل ابد کا تماشا نظر آتا ہے۔ دنیا کے خزانوں، حشرگاہِ قیامت، قربِ اللہ حضوری، حور و قصور اور جنت و دوزخ کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ کامل مرشد وہی ہے جو تصور اسم اللہ اور تصور اسم محمد سے طالب کو ہر مقام دکھا کر اس پر غیب کھول دے۔ بعد ازاں اس کو تلقین کرے تاکہ طالب کو اعتبار اور یقین آ جائے۔ (عقل ِبیدار)

تصورِ اسم محمد سے ان فیوض و برکات کو حاصل کرنے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے طالب کو صادق دل، صبر و استقامت اختیار کرنے والا اور اس راہِ حضوری پر اعتبار کرنے والا ہونا چاہیے۔ جس طالب کے دل میں مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق پہلے ہی شکوک و شبہات موجود ہوں وہ اوّل تو اس مجلس تک پہنچ ہی نہیں پاتا اور اگر مرشد کی مہربانی سے پہنچ جائے تو اپنے دل کے میل کی وجہ سے ٹک نہیں سکتا۔ 

یہ مرشد کامل اکمل سروری قادری صاحبِ مسمیّ کی صوابدید پر ہے کہ وہ طالب کو ابتدا میں اسمِ اللہ ذات عطا کرتا ہے اور کچھ عرصے بعد اسم محمد عطا کرتا ہے یا دونوں بیک وقت عطا کرتا ہے۔ طالب کو اس راہ میں اپنی مرضی نہیں کرنی چاہیے بلکہ مرشد کی رضا پر چلنا چاہیے کیونکہ وہ طبیب ہے اور جانتا ہے کہ طالب کے وجود میں کون کون سے روحانی و قلبی امراض ہیں اور اُن کا علاج کس طرح ممکن ہے۔ جو طالب اپنی مرضی کرتا ہے ناکامی اس کا مقدر ہوتی ہے کیونکہ فقر تو راہ ہی تسلیم و رضا کی ہے۔

اسمِ  اللہ  ذات اور اسم محمد کا منکر

اسمِ اللہ ذات اور اسم محمد  کے منکر کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
اسمِ  اللہ ذات اور اس کے ذکر سے منع کرنے والا دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا، وہ منافق و کافر ہوتا ہے یا حاسد و متکبر۔ (عین الفقر)
جو اسم  اللہ ذات اور اسمِ محمد کا منکر ہے وہ ابوجہل ثانی ہے یا فرعون۔ (عقلِ بیدار)
جسے اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد   پر یقین نہیں وہ منافق ہے۔ (محک الفقر کلاں)
اگر کوئی تمام عمر روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، تلاوتِ قرآنِ پاک اور دیگر عبادات میں مصروف رہے یا عالم و معلم بن کر اہل ِ فضیلت میں سے ہو جائے مگر اسمِ اللہ اور اسمِ محمد سے بے خبر رہے اور ان اسما مبارک کا ذکر نہ کرے تو اس کی زندگی بھر کی عبادت ضائع اور برباد ہو گئی اور اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ (عین الفقر) 

قرآنِ پاک، احادیث شریف اور اولیا کاملین ؒ کے ارشادات اور تعلیمات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جب تک سالک ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات اور تصور اسمِ محمد نہ کرے اس وقت تک دل پاک نہیں ہوتا، نہ ہی نفس اور شیطان سے خلاصی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی ظاہر اور باطن کے درمیان منافقت کا پردہ ہٹتا ہے خواہ سالک ساری عمرظاہری عبادات میں مصروف رہے، قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا رہے، مسائلِ فقہ پڑھتا رہے یا زہد و ریاضت کی کثرت سے اس کی پیٹھ کبڑی ہو جائے اور وہ سوکھ کر بال کی طرح باریک ہو جائے۔ آج کل مادیت پرستی کے دَور میں صدق المقال اور اکل الحلال نہیں رہا۔ لوگوں میں سلف صالحین کی طرح نیک اعمال، سخت محنتوں اور مجاہدوں کی توفیق اور ہمت نہیں رہی۔ پابندیٔ صوم و صلوٰۃ، ادائیگی حج اور زکوٰۃ جیسے فرائض بھی روح سے خالی ہو چکے ہیں اورمحض ایک نمائشی اور رسمی مظاہرے کی صورت میں ادا ہو رہے ہیں۔ بقول اقبالؒ:

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دِل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں توُ باقی نہیں ہے
(بالِ جبریل)

اس صورتحال میں اللہ کا قرب و وصال پانے اور اس کے لیے تزکیۂ نفس کا آسان ترین ذریعہ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات ہے۔ ذکر، تصور اور مشقِ مرقومِ وجودیہ اسمِ اللہ ذات اور تصور اسم محمد سے نفس مردہ ہو جاتا ہے اور قلب زندہ ہو جاتا ہے یعنی روح بیدار ہو جاتی ہے اور طالب مشاہدۂ حق تعالیٰ کھلی آنکھوں سے کرتا ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ذکر و تصور اسمِ  اللہ ذات اور تصور اسمِ محمد صاحبِ مسمیّ مرشد کامل اکمل سروری قادری سے حاصل ہوا ہو۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں