علمِ دعوت یا دعوتِ قبور| Ilm e Dawat

علمِ دعوت یا دعوتِ قبور

علمِ دعوت ایک اعلیٰ روحانی و باطنی علم ہے جس کا حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیمات میں نہایت تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اس کے اسرارو رموز کھول کر اپنی کتب میں بیان فرمائے ہیں۔ اس علم کو آپؒ کی کتب میں مختلف ناموں مثلاً علمِ تکسیر، کیمیا اکسیر، علمِ تکثیر اور تصرفِ تحقیق کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ علمِ دعوت کی بنیاد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ فرمان ہے:
اِذَا تَحَیَّرْتُمْ فِی الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِیْنُوْا مِنْ اَھْلِ الْقُبُورِ 
ترجمہ: جب تم اپنے معاملات میں پریشان ہو جایا کرو تو اہلِ قبور سے مدد مانگ لیا کرو۔

یہ ایک دینی و روحانی عمل ہے جس میں کسی عارف، فقیر یا ولی کے مزار پر ایک خاص ترتیب سے قرآنِ پاک پڑھا جاتا ہے جس سے اہلِ مزار کی روح حاضر ہوجاتی ہے اور صاحب ِدعوت کی مدد کرتی ہے۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ علم ِدعوت اور کشف القبور میں بڑا فرق ہے۔ کشف القبور میں عام مسلمانوں کی قبروں پر دعوت پڑھ کر اہلِ قبور کے حالات معلوم کیے جاتے ہیں کہ وہ برزخ میں کس حالت میں ہیں لیکن علمِ دعوت میں صرف فقرا یا اولیا کرام کے مزارات پر دعوت پڑھی جاتی ہے اور اس کا مقصد اوپر بیان ہو چکا ہے۔ علم ِدعوت پڑھنے کے لیے کچھ شرائط ہیں:
1۔ پڑھنے والا ولی اللہ ہو اور تصورِ اسمِ اللہ ذات میں کامل ہو اور اُسے بارگاہِ الٰہی کی حضوری حاصل ہو جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
سب سے پہلے باطن میں بارگاہِ حق کی حضوری اور قرب و وصال نصیب ہوتا ہے، اس کے بعد بندہ دعوت پڑھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جو آدمی اس طریق سے دعوت پڑھنا نہیں جانتا وہ دعوتِ قبور سے رجعت کھا کر بیمار و مجنون ہو جاتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
2۔ مرشد کی اجازت کے بغیر دعوت نہیں پڑھنی چاہیے۔مرشد کی اجازت کے بغیر دعوت پڑھنا خطرناک ہے۔
3۔ دعوت پڑھنے والا روحانی طور پر پاک اور کامل ہو۔ ناقص و خام شخص اگر دعوت پڑھے گا تو صرف نقصان اُٹھائے گا۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
دعوت خوان کو صاحبِ عمل عامل کامل، پاکباز، بااعتبار اور بایقین ہونا چاہیے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

علمِ دعوت پڑھنا اور اس دوران باشعور رہ کر تمام بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ رہنا صرف کاملوں کا کام ہے۔ اگر نا قص کی گردن تیز تلوار سے اڑا دی جائے تب بھی اس کے لیے بہتر ہے کہ دعوت پڑھنے کی جرأت نہ کرے۔ اگر کوئی ہزار دینار یا چمکتا ہوا سونا دے تو اسے چاہیے کہ اس مال و متاع کو ٹھکرا دے اور دعوت ہرگز نہ پڑھے۔ جان لے کہ شیطان نے تیس ہزار سال تک علم حاصل کیا اور تیس ہزار سال تک فرشتوں کو علمِ دعوت کا سبق پڑھایا لیکن اس کے وجود میں علم پر غرور و تکبر کی وجہ سے خود پسندی کی مستی، سکر اور عجب و ریا پیدا ہو گئی۔ اس کے علم نے اسے اللہ کا حکم ماننے اور آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے روک دیا۔  (نور الہدیٰ کلاں) 

4۔ دعوت خواں دعوت پڑھنے کے خاص طریق اور ترتیب سے واقف ہو۔ دعوت توجہ کے طریق اور زبانِ قلب سے پڑھی جاتی ہے۔ جو صاحبِ دعوت اس طریق کو جانتا ہے اسی کی دعوت کامل ہے اور اسے عمل ِدعوت کے لیے دیگر لوازمات کی ضرورت نہیں۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

ناقص لوگ با ترتیب علمِ دعوت پڑھنے کے طریق سے واقف نہیں ہوتے۔ جو نفس کی زبان سے دعوت پڑھتا ہے وہ اہلِ ناسوت میں سے ہے۔ جب وہ دعوت پڑھتا ہے تو عالمِ غیب سے جنوں کے بعض لشکر اس کے ساتھ دعوت پڑھتے ہیں۔ جو دعوت کو توجہ، تصور اور تصرفِ قلب و زبانِ قلب سے پڑھتا ہے اس کے ارد گرد کل و جز کے تمام فرشتے اورمؤکل جمع ہو جاتے ہیں اور حلقے باندھ کر اس کی مدد کے لیے وہ بھی دعوت پڑھتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

فقیرِکامل اہلِ دعوت جو دعوت میں عامل اور صاحبِ توجہ و حکم ہو اسے دعوت پڑھنے کے لیے نصابِ زکوٰۃ دینے، نحس و سعید وقت شمار کرنے، بروج و کواکب کا حساب رکھنے، ذکر کے دور بدور کرنے، بخشش و انعام دینے، قفل لگانے یا کھولنے، کھانے میں حیواناتِ جلالی، حیواناتِ جمالی، حیواناتِ کمالی کی احتیاط کرنے، نمازِ دوگانہ پڑھنے، احتیاطِ غسل، رجعت وسلب وآسیب سے حفاظت کرنے، روزے رکھنے، خلوت میں بیٹھ کرچلہ و مجاہدہ کرنے کی کیا ضرورت؟یہ تمام شیطانی وسوسے باعثِ خطرات و وہمات ہیں جو کہ خام و ناقص و ناتمام وجود میں پائے جاتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

کیا فقیر کامل علمِ دعوت کا محتاج ہے؟

حضرت سخی سلطان باھوؒ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
جان لے کہ فقیرِکامل صاحبِ قرب ہوتا ہے۔ اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ علمِ دعوت پڑھے۔ بلکہ شب و روز دعوت پڑھنے، خلوت میں بیٹھ کر چلے کاٹنے، پیادوں اور مست ہاتھیوںکی فوج جمع کرنے اور بے شمار سیم وزر نقد و جنس خرچ کرنے سے فقیر کامل کی ایک لمحے کی توجہ بہتر ہے۔ فقیر کامل قربِ الٰہی، کنۂ کن اور کنۂ کلمہ طیبات لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ سے توجہ کرنے کے طریق سے واقف ہوتا ہے اور اس کی توجہ کی تاثیر ہمیشہ ترقی پذیر رہتی ہے اور قیامت تک نہیں رکتی۔ (نور الہدیٰ کلاں)

دعوت پڑھنے کا طریقہ

1۔ رات کے وقت کسی ولی یا فقیر کی قبر پر حاضر ہو کر اس کی پائنتی یا اس کے سرہانے بیٹھ کر یا گھوڑے کی طرح قبر پر سوار ہو کر جس قدر ہو سکے قرآنِ مجید کی تلاوت کرے۔ (دعوت پڑھتے ہوئے قبر پر سوار ہونے کو حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ برُا نہیں سمجھتے۔ البتہ ناقص یا خام کو اس کے نتائج سے ضرور خبردار کر دیتے ہیں۔)
2۔ اگر صاحبِ حضور ہے تو منہ کی زبان سے دعوت نہ پڑھے کیونکہ زبان نیک و بد گفتگو سے عموماً آلودہ رہتی ہے اس لیے قرآن پڑھنے کے لائق نہیں۔ صاحبِ قلب، قلب کی زبان سے اور صاحبِ سرّ، سرّکی زبان سے دعوت پڑھے۔

دعوت کن مقاصد کے لیے پڑھی جاسکتی ہے
1۔    روحانی امداد کے لیے۔ 
2۔    بادشاہِ اسلام کے لیے جو کافروں سے جنگ کر رہا ہو۔
3۔   رافضیوں اور خارجیوں کے لیے کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔
4۔ علمائے منافقین کے لیے جو حق قبول نہیں کرتے۔
5۔ آبادی و جمعیتِ خلق اور بارانِ رحمت کے لیے۔
6۔ اس شخص کی مدد کے لیے جو دعوت پڑھتے وقت رجعت میں آکر دیوانہ ہوگیا ہو۔
7۔ کسی باعمل عالم کے لیے جسے کوئی دینی مدد درپیش ہو۔

علمِ دعوت کے لیے علمی دلیل

’استمدادعن القبور‘ کے مسئلہ پر علما کرام میں گہرے اختلافات رہے ہیں۔ ایک گروہ نے انکار کا راستہ اختیار کیا اور دوسرا استمدادعن القبور کے اقرار اور وجود کے بارے میں فتویٰ دیتا رہا ہے لیکن صوفیا کرام کے تمام گروہ اس معاملہ میں متفق رہے ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ کشف اور مشاہدہ سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا صوفیا کرام اپنے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہمیشہ اولیا اللہ کے وصال کے بعد ان کے مزارات سے فیوض و برکات اور دینی امور میں امداد و تصرف کے حصول کے قائل رہے ہیں۔

  حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر روحانی مسئلہ کے حل کے لیے مسلسل چالیس روز چلہ کاٹنا ’علمِ دعوت‘ کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ جب حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا مسئلہ حل ہو گیا تو آپؒ پکار اٹھے:

گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را راہنما

ابنِ تیمیہ پہلے عالم تھے جنہو ںنے استمدادعن القبور کے سلسلے میں انکار کی راہ اختیار کی۔ جب صوفیا کرام کے کشف، تجربات اور مشاہدات کی طرف ان کی توجہ دلائی گئی تو انہوں نے اس معاملے میں جنات کی تسخیر کا حوالہ دے کر اس قسم کی باتوں کو مسترد کر دیا اور علما کرام کے ایک بہت بڑے گروہ نے ان کی پیروی کی۔

دوسرے گروہ میں علما بھی ہیں اور صوفیا کرام بھی۔ علمی سطح پر سب سے پہلے علامہ ابنِ قیمؒ نے اس مسئلے کی طرف توجہ دی اور اپنی کتاب ’کتاب الرّوح ‘ میں اس مسئلے کے علمی پہلوئوں کو اجاگر کیا۔ آپ نے ثابت کیا کہ ارواح سنتی ہیںا ور کاملین سے عالمِ بیداری میں اور عوام سے عالمِ خواب میں ملاقات اور رابطہ کرتی ہیں۔ اس مسئلے پر بے شمار کتب تحریر ہو چکی ہیں۔ یہاں ہم صرف شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ’ہمعات‘ سے ایک اقتباس درج کر رہے ہیں۔ آپؒ لکھتے ہیں:
اس سلسلہ میں فقیر کو بتایا گیا کہ جب مشائخ، صوفیا اور فقرا کو انتقال فرمائے چار سو سال یا پانچ سو سال یا اس کے قریب گزر جاتے ہیں تو ان کے نفوس کی طبعی قوتیں جو زندگی میں ان کی ارواح کو خالص مجرد صورت میں ظاہر ہونے نہیں دیتی تھیں، اتنا عرصہ گزرنے کے بعد یہ طبعی قوتیں بے اثر ہو جاتی ہیں اور اس دوران میں ان نفوس کے نسمہ یعنی روحِ ہوائی کے اجزا منتشر ہو جاتے ہیں۔ اس حالت میں جب ان مشائخ کی قبور کی طرف توجہ کی جاتی ہے تو ان کی ارواح سے اس توجہ کرنے والے کی روح کو فیضان ہوتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اور علمِ دعوت

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے دعوت پڑھنے کے بے شمار فوائد بیان کیے ہیں۔ تمام ظاہری و باطنی قوتیں اس سے مسخر ہوتی ہیں، بڑے بڑے اسرار ظاہر ہوتے ہیں، دنیا کی ہر شے اپنے حقائق صاحبِ دعوت پر منکشف کر دیتی ہے، ماضی و حال و مستقبل کے حالات معلوم ہوجاتے ہیں اور ہر قسم کی مطلب برآری ممکن ہے۔ اگر یہ دعوت قبولیت کا درجہ پائے تو صاحب ِدعوت کو غیب سے آواز آتی ہے یا کوئی بزرگ خواب، مراقبے، خیال یا وَھم کے ذریعے کامیابی کی بشارت دیتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
علمِ دعوت کی شرح و خاصیت یہ ہے کہ علمِ دعوت اللہ تعالیٰ کے کلام قرآنِ مجید کی دعوت ہے۔ جو آدمی قرآنِ مجید کو اپنا ہادی و پیشوا اور راہبر بنا لیتا ہے وہ دونوں جہان میں معتبر ہوجاتا ہے۔ اب قرآن و علم ِدعوت کی شرح علیحدہ علیحدہ بیان کی جاتی ہے۔ دعوت کئی قسم کی ہوتی ہے مثلاً دعوتِ جز، دعوتِ کل، دعوتِ ذکر، دعوتِ فکر، دعوتِ تجلیاتِ نورِ اللہ، دعوتِ منتہی  فقیر ولی اللہ جس کے متعلق فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا یُخْرِجُھُمْ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (سورۃ البقرہ ۔257)
ترجمہ: اللہ (اسمِ اللہذات) مومنوں کا ایسا دوست ہے جو انہیں ظلمات سے نکال کر نور میں لے جاتا ہے۔
اور دعوتِ صاحبِ نظیر تمام عالمگیر اولیائے اللہ جن کے بارے میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اَ لَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔(سورۃ یونس۔ 62)
ترجمہ:بے شک! اولیا اللہ پر کوئی خوف ہے نہ کوئی غم۔

مرد مرشد اہلِ دعوت حق حضور
مرشد خود بین بود اہل از غرور

ترجمہ: مرد مرشد اہلِ دعوت و اہلِ حضور ہوتا ہے اور خود پرست مرشد اہلِ غرور ہوتا ہے۔

منتہی صاحبِ دعوت اگر کسی کی طرف جذبِ قہر و غضب سے دیکھ لے تو خدائے عزّوجل کے حکم سے وہ دم بھر میں فوراً بے جان ہو کر مرجاتا ہے کہ فقرا کا قہر، قہر ِخداوندی کا نمونہ ہوتا ہے اور اگر وہ کسی کو جذبِ اخلاص سے دیکھ لے تو وہ زندہ دِل ہو کر با اخلاص طالبِ مولیٰ بن جاتا ہے۔ اکثر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پیر میرا اخص ہے اور اعتقاد میرا بس ہے۔ وہ یہ بات کج فہمی، بے عقلی، جہالت اور نادانی کی وجہ سے کہتے ہیں۔ اُنہیں کہنا چاہیے کہ میرا پیر صاحبِ اسرارِ خاص الخاص اخص ہے اس لیے اعتقاد بھی میرا بس ہے۔ جان لے کہ دعوت یا تو جنات و مؤکلات کو قید و مسخر کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہے یا انبیا و اولیا و اصفیا و اتقیا و غوث و قطب و شہدا و خاکیانِ اہلِ اسلام کی مقدس ارواح کو حاضر کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دعوت پڑھنے والا دعوت پڑھنے میں عامل کامل شہسوار ہو اور وہ آدھی رات کے وقت قبر کے پاس جائے اور اس کے گرد دعوت پڑھے۔ اگر روحانی حاضر ہو جائے یا ’وَھم‘ یا ’خیال‘ یا کسی اور طریقے سے صاحبِ دعوت کا مطلوبہ کام کر دے تو ٹھیک ورنہ معلوم ہو جائے گا کہ صاحبِ قبر روحانی غالب ہے یا اُسے کلامِ الٰہی سے نورِ الٰہی کی دولت و نعمت مل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ تاخیر کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ قبر پر سوار ہو جائے جیسا کہ شہسوار گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔ اگرچہ قبر پر سوار ہونا گناہ ہے تاہم مہمِ اسلام کی خاطر یا مسلمانوں کی بھلائی کی خاطر ایسا کرنا عین ثواب کا کام ہے۔ جو آدمی قرآن پڑھتا ہے اور بحرِقرآن میں غواصی کرتا ہے وہ علم میں عامل اور دعوتِ تکسیر میں کامل مکمل ہو جاتا ہے۔ اُس کے لیے کسی شہید یا فنا فی اللہ فقیر کی قبر کے نزدیک علمِ دعوت پڑھنا ایسا عمل ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے حکم و عظمت و امر و قہر و جلالیت و حیرت سے نوازتا ہے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ صاحبِ دعوت کو ایسی توفیق بخشتا ہے کہ عرش سے تحت الثریٰ تک زمین و آسمان کی ہر چیز حتیٰ کہ کعبۃ اللہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مدینہ بھی گردش میں آکر زیر و زبر ہونے لگتا ہے۔ پس کسی اور چیز کا کیا تذکرہ؟ اگر کوئی صاحبِ دعوت ایسی دعوت پڑھے اور جذبِ توجہ سے کسی کی جان لینا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مشرق سے مغرب تک کہیں بھی عزرائیل علیہ السلام دم بھر میں اُس کی جان قبض کر لیں گے لیکن میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

باھوؒ! بہر از خدا بہر از رسولؐ
اطلاعے زیں بدہ اہل الوصول

ترجمہ: اے باھوؒ! تجھے خدا اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا واسطہ، تو اہلِ وصول کو اس سے باخبر کر دے۔

جو لوگ ایسی دعوت پڑھنے میں عامل ہونے کے باوجود ظالم لوگوں کے ظلم سہتے رہتے ہیں اور کسی کو ستاتے نہیں وہ اپنے تمام احوال سے باخبر و ہوشیار رہتے ہیں۔ اہلِ دعوت فقیر بہت بڑی قوت کے مالک ہوتے ہیں، وہ بے قوت نہیں ہوتے کہ لوگ اُن سے عداوت رکھیں کیونکہ وہ طالبِ  اللہ ہوتے ہیں اور طالبِ اللہ دونوں جہان پر غالب ہوتا ہے۔

ملک و فلک زیر پائے فقیر
جاودانی بہ زیر سائے فقیر

ترجمہ: زمین و آسمان کا مقام فقیر کے قدموں کے نیچے ہے اس لیے وہ ہمیشہ اس کے زیرِ سایہ رہتے ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: 
خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ
ترجمہ: انسانوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے۔ (محک الفقر کلاں)

اہلِ دعو ت کا قبر پر سوار ہونا روحانی کو پہاڑ سے زیادہ وزنی معلوم ہوتا ہے۔ اگر دعوت پڑھنے کے دوران اہلِ دعوت ایک تنکا اُٹھا کر قبر پر کوڑے کی طرح مار دے تو وہ تنکا روحانی کو ایسا زخم پہنچاتا ہے جیسا کہ تلوار یا کلہاڑی یا نیزہ یا چھری یا بندوق پہنچاتی ہے۔ روحانی یہ زخم کھا کر بلبلا اُٹھتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے اُسے اہلِ دعوت کا کام کرنے کا حکمِ اعلیٰ صادر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اہلِ دعوت کا رُ کا ہوا مشکل کام فوراً ہوجاتا ہے اور وہ اپنے مقصود کو پہنچ جاتا ہے۔ ایسی دعوت کو ننگی تلوار کہتے ہیں کہ ایسی دعوت پڑھنے والے کی زبان اللہ کی تلوار ہوتی ہے۔ اُس کا دل زندہ اور نفس مردہ ہوتا ہے اور اُسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے ایسی دعوت پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے۔

ہر کرا رخصت نہ باشد از رسولؐ
ایں مراتب کے رسد وحدت وصول

ترجمہ: جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے ایسی دعوت پڑھنے کی اجازت و رخصت نہ ملے وہ وصلِ وحدت کے ان مراتب تک کہاں پہنچ سکتا ہے؟ (محک الفقر کلاں)
دعوت کے ان مراتب کا تعلق زبانی قیل و قال اور گفتگو سے نہیں بلکہ اس کا تعلق دَعْ نَفْسَکَ وَتَعَال  (اپنے نفس کو چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کو پالے) کے لائحہ عمل سے ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
اُقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ بِسَیْفِ الْمُجَاھَدَۃِ
ترجمہ: مجاہدے کی تلوار سے اپنے نفسوں کو قتل کر دو۔

البتہ اہلِ نفس کو یہ طاقت کہاں کہ وہ روحانی کی قبر کے پاس جا کر اُس سے جنگ کرے؟ یہ روحانیت کی وہ راہ ہے کہ جس میں حقیقتِ روحانیت اولیا اللہ پر غالب ہوتی ہے۔ توُ اچھی طرح جان اور سمجھ لے کہ اسمِ اللہ کا مجاہدہ تلوار کے مجاہدے سے غالب تر مجاہدہ ہے۔ محض ایک دفعہ پڑھ لینے سے دعوت ہرگز رواں نہیں ہوتی اور نہ ہی زیرِعمل آتی ہے جب تک کہ اہلِ دعوت اس طرح دعوت نہ پڑھے کہ دعوت شروع کرتے وقت وہ خود کو اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر سمجھے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنا شفیع بنائے، حضرت محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہُ العزیز کو امینِ الٰہی سمجھے اور خود کو منصف بنا کر آنکھیں بند کر لے اور مراقبہ میں تفکر کرے کہ اللہ کے قرب سے بہتر کون سی چیز ہے جسے میں دعوت پڑھ کر مسخر کروں؟ اور اگر اُسے یہ یقین ہو جائے کہ تمام مخلوق کمتر ہے اور خالق تمام مخلوق سے برتر ہے تو اللہ تعالیٰ اُس پر مہربان ہو جائے گا اور دونوں جہان اُس کے تابع کر کے خدمت گار بنا دے گا۔ جو آدمی اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے خاک و سونا اُس کی نظر میں برابر ہو جاتے ہیں کہ اسمِ اللہ میں تاثیر کلی پائی جاتی ہے۔ اسمِ اعظم کی تاثیر سے وہ روشن ضمیر ہو کر بے نظیر مرتبے کا مالک ہوجاتا ہے اور ہر ملک و ولایت اور مشرق سے مغرب تک، زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر بادشاہی اُس کے حکم و قید میں آجاتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ بادشاہ اہلِ فقر کے تابع ہوتا ہے۔ جس نے بھی فتح و نصرت و بادشاہی پائی نگاہِ فقیردرویش سے پائی۔ (محک الفقر کلاں)

فقیر کی پڑھی ہوئی دعوت حضوریٔ حق کی دلیل ہوتی ہے، فقیر کا ہر کلام مثل کلامِ خلیلؑ اللہ ہوتا ہے، ہم مجلس فقیر ہم مجلسِ ربِّ جلیل ہوتا ہے لیکن ایسا مظہرِنورِ الٰہی فقیر جہان میں قلیل ہوتا ہے۔ جس آدمی کا باطن صاف ہو جائے اُس کا دل معرفتِ الٰہی سے مزین ہو کر جامِ جہاں نما ہوجاتا ہے۔ ایسے فقیر لب بستہ خاموش رہتے ہیں کہ وہ اللہ سے پیوستہ ہو جاتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے بات نہیں کرتے کیونکہ غیر اللہ سے بات چیت سے غم پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا غم ہے اور فقر اللہ کا نام ہے جو بہت بڑی غنیمت ہے۔ اہلِ غم اور اہلِ غنیمت کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں۔ صاحب ِدعوت منتہی فقیر ظاہری و باطنی قوت کی وجہ سے لارجعت و لازوال ہوتا ہے۔ ایسے دعوت خواں فقیر کو مراتبِ قرب و وصال حاصل ہوتے ہیں۔ منتہی صاحبِ دعوت کو ستارے و بروج شمار کرنے کی کیا حاجت ہے اور اُسے نحس و سعد ساعتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ تو لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ مرتبے کا مالک ہوتا ہے۔ وہ جب قبر کے پاس جا کر مراقبہ کرتا ہے تو خود سے بے خود ہو کر روحانی سے جواب باصواب پاتا ہے۔ وہ احوالِ قبر سے باخبر ہوتا ہے اور از راہِ دل قبر سے خبریں وصول کرتا ہے جس سے اُس کی باطنی دلیل کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ایسے صاحب ِدعوت فقیر مذکور کا وجود صاف اور قلب طاہر ہوتا ہے۔ اس قسم کے دعوت خوان فقیر کو قاتل کہتے ہیں کہ وہ نظر و توجہ سے قتل کرتا ہے۔ اُس کی نظر اور توجہ تیز تلوار کی مانند ہوتی ہے۔ قتال قاتل مرد مذکر فقیر وہ ہے جو سب سے پہلے اپنے موذی نفس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے قتل کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
اُقْتُلُوا الْمُؤْذِیَاتِ قَبْلَ الْاِیْذَآئِ 
ترجمہ: موذیوں کو اُن کی ایذا رسانی سے پہلے ہی قتل کر دو۔

اس قسم کے قاتل فقیر کو اولی الامر سیف اللہ بھی کہتے ہیں جو کبھی تُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ  (اللہ جسے چاہے عزت دیتا ہے) کے درجے پر ہوتا ہے اور کبھی  تُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ (اللہ جسے چاہے ذلت دیتا ہے) کے درجے پر ہوتا ہے۔ الغرض! حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: 
اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَ الْبُغْضُ فِی اللّٰہِ(ابوداؤد4599)
ترجمہ: کسی سے محبت کرو تو اللہ کے لیے کرو اور کسی سے بغض رکھو تو بھی اللہ کے لیے رکھو۔ (محک الفقر کلاں)

جان لے کہ بعض لوگ دعوت پڑھنے میں خود عامل ہوتے ہیں اور بعض کو کسی عامل کامل اہلِ دعوت فقیر کی طرف سے دعوت پڑھنے کی رخصت و اجازت ہوتی ہے۔ کامل صاحبِ دعوت وہ ہے جو دعوت پڑھنے میں خود عامل و کامل ہو۔ علاوہ ازیں وہ صاحبِ ریاضت بھی ہو، صاحبِ اجازت بھی ہو، صاحبِ ارادت بھی ہو اور اہل سعادت بھی ہو۔ اگر کوئی چاہے کہ میں کفار پر غالب آجائوں، اُن کے ملک پر قابض ہو جائوں اور رافضی بے دینوں کو قید ِ اسلام میں لے آئوں تو اُسے چاہیے کہ کاغذ کے دو پرزے لے کر ایک پر تین نام نمرود، شداد اور قارون لکھے اور دوسرے پر تین نام فرعون، ہامان اور ابلیس علیہم اللعنت لکھے اور ان دونوں پرزوں کو اپنے پیروں کے نیچے رکھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روحِ مبارک کو ایصالِ ثواب کی نیت سے دو رکعات نماز نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں بعد از سورۃ فاتحہ سورۃ فتح پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۃ یس پڑھے اور سلام کے بعد سجدہ میں یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ انْصُرْ مَنْ نَصْرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ وَ اخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ 
ترجمہ: اے میرے اللہ! جو دینِ محمدیؐ کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو دینِ محمدیؐ کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے تو بھی اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے۔

پھر ان دو نوافل کا ثواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اُن کے اصحابِ پاک رضی اللہ عنہم کی ارواح کو بخش دے تاکہ اس ترتیب سے جب وہ دعوت پڑھے تو اس کا رُکا ہوا کام ہو جائے اور وہ بہت جلد اپنے مقصود کو پہنچ جائے۔ انشاء اللہ تعالیٰ کہ تاثیر ِ کلامِ ربانی برحق ہے۔ اگر وہ اپنی مطلب برآری بہت جلدی چاہتا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ دو رکعات میں پورا قرآنِ مجید پڑھے۔ اگر وہ یہ عمل متواتر تین دن تک کرے تو قیامت تک اُس کا یہ عمل نہیں رکے گا۔ اس دعوتِ تیغ ِبرہنہ کو وہ آدمی پڑھ سکتا ہے جسے بارگاہِ الٰہی سے یہ دعوت پڑھنے کا حکم ہو، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے اجازت ہو اور محی ّ الدین شاہ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی طرف سے رخصت ہو اور وہ ان صفات سے بھی متصف ہو کہ ظاہر میں مرد شہسوارِ اہل ِقبور ہو اور باطن میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں دائم صاحب ِ حضور ہو۔ (محک الفقر کلاں)

اگر کوئی بے قوت اور ذکرِ اللہ سے غافل مردہ دل آدمی اپنے زندہ جسم کے ساتھ کسی زندہ دل و مردہ جسم و زندہ خاک و زندہ شوق ولی اللہ کی قبر پر چلا جائے اور قبر کے پائوں کی طرف سے یا سر کی طرف سے یا قبر پر سوار ہو کر دعوت پڑھنا شروع کر دے تو وہ اُسی وقت ہلاک ہو جائے گا اور جان بلب ہو کر مر جائے گا یا رجعت کھا کر بیمار یا دیوانہ ہو جائے گا۔ اگر کوئی صاحبِ قوت غالب الاولیا عاملِ دعوت کسی روحانی کی قبر پر جاتا ہے تو روحانی اُس کے نزدیک محض ایک مردہ ہوتا ہے جو اُس کی دعوت سے عظمت حاصل کرتا ہے۔ اس لیے ایسے باطن صفا صاحبِ قوت دعوت خواں کو اختیار ہے کہ وہ قبر کے جس طرف سے بھی چاہے دعوت پڑھ سکتا ہے خواہ بالا خواہ زیریں۔ قبر کی ہم نشینی میں دعوت پڑھنا نہایت ہی دشوار کام ہے۔ قبر پر دعوت پڑھنے کے لائق وہی آدمی ہو سکتا ہے جو اس کام کا عامل ہو۔ اگر کوئی عامل دعوت پڑھتا ہے تو وہ قبر سے خزائنِ الٰہی حاصل کرتا ہے اور اگر دعوت خواں عامل نہ ہو تو وہ قبر سے بیماری و رنج اٹھا کر مر جاتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

جان لے کہ دعوت سات خزائن کی جامع ہے:
1۔ وہ خزائن جو عرشِ اکبر کے نیچے پائے جاتے ہیں۔
2۔ وہ خزائن جو زیر زمین پائے جاتے ہیں جیسا کہ سونا، چاندی اور نقدی کے خزائن۔
3۔ وہ خزائن جو روئے زمین پر پائے جاتے ہیں۔
4۔ وہ خزائن جو عقبیٰ میں پائے جاتے ہیں جیسے کہ خزائن ِ بہشت۔
5۔ وہ خزائن جو مقامِ ازل میں پائے جاتے ہیں۔
6۔ ایمان کے وہ خزائن جو اَبد میں پائے جاتے ہیں۔
7۔ معرفتِ مولیٰ کے خزائن۔

یہ ساتوں خزائن اولیا اللہ کے مزارات پر دعوتِ قبور پڑھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ لہٰذا دعوت خواں کو مرد مذکر شہسوارِ قبر ہونا چاہیے۔ جان لے کہ فقیر کو رجعت اُس وقت پیش آتی ہے جب وہ مولیٰ کو چھوڑ کر غیر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اہل ِعلم کو رجعت اُس وقت پیش آتی ہے جب وہ علم کے خلاف عمل کرتا ہے، اہلِ دنیا کو رجعت بخل کی وجہ سے ہوتی ہے، جاہل کو رجعت شرک کی وجہ سے پیش آتی ہے اور بادشاہ کو رجعت بے عدل و بے انصاف ہونے پر پیش آتی ہے۔ صاحبِ دعوت فقیر وہ ہے جو اس قسم کی ہر چھوٹی بڑی رجعت کو ایک ہی نظر سے دفع کر دے۔ جان لے کہ اولیا اللہ کے مزارات پر دعوت وہ آدمی پڑھ سکتا ہے جو دعوتِ قبور کے ان مراتب تک پہنچ چکا ہو کیونکہ اولیا اللہ کی قبر شیر کی مثل ہوتی ہے اس لیے قبر پر وہ آدمی سوار ہو سکتا ہے جونر شیر کا شہسوار ہو۔ اولیا اللہ کی قبر کوہِ طور کی مثل ہوتی ہے اس لیے اولیا اللہ کی قبر پر وہی آدمی سوار ہو سکتا ہے جو حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی طرح صاحبِ حضور ہو۔ اولیا اللہ کی قبر آگ کی مثل ہوتی ہے، اس آگ میں وہ آدمی کود سکتا ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی طرح جان نثار ہو۔ جان لے کہ اگر ایک طرف آگ ہو اور دوسری طرف قبر ہو تو آگ پر قدم رکھ دے مگر قبر پر قدم مت رکھ۔ دعوتِ قبور پڑھنے کا عمل تین مواقع پر کیا جانا چاہیے، ایک یہ کہ جب بادشاہِ اسلام کفار سے جہاد کر رہا ہو، دوسرے وہاں کہ جہاں ملحدوں کا غلبہ ہو اور تیسرے وہاں کہ جہاں اسلام کی عزت محفوظ نہ ہو۔ ان تین وجوہات کی بنا پر قبورِ اولیا پر سوار ہو کر آیاتِ قرآن کی دعوت پڑھنا روا ہے لیکن قبر پر سوار ہو کر دعوت پڑھنا آسان کام نہیں ہے کہ یہ جان نثاری کا کام ہے اور جان نثار کرنا بہت مشکل و دشوار کام ہے۔  (محک الفقر کلاں)

ہر دم ذکر فکر کی ترتیب سے اگر دعوتِ باطن پڑھی جائے تو باطن کی خاص الخاص راہِ مطلق کھل جاتی ہے جس سے دل بیدار ہو کر طلبِ حق میں مشغول ہو جاتا ہے۔ ایسی دعوت کو دعوتِ غرق یا دعوتِ جذب کہتے ہیں۔ اس دعوت میں اسمِ اللہ کے حروف سے نورِ ذات کی تجلیات قطراتِ بارش کی مانند برستی ہیں۔ تجلیات کی یہ بارش اسمِ  اللہ کے حرف ’ا‘، حرف ’ل‘، حرف ’ل دوم‘ اور حرف ’ہ‘ سے برستی ہے۔ حروفِ اسمِ  اللہ سے پھوٹنے والی یہ تجلیّ دیکھ کر چشمِ دل عین الیقین کا مرتبہ حاصل کر لیتی ہے اور چشمِ ظاہر کو علم الیقین کی حد تک معرفتِ الٰہی نصیب ہوجاتی ہے۔ جو آدمی اس یقین سے بے یقین ہو جاتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ حروفِ اسمِ اللہ ذات کی اس تجلی کی تحقیق طریقِ محمدیؐ سے کی جائے کہ نورِ اللہ کی اس تجلی کی باریدگی کے وقت جن اور شیاطین بھی کثیر تعداد میں راہزنی کی غرض سے اُس کے اردگرد ناری تجلیات کا مظاہرہ کرتے ہیںا ور ذاکر کو بدعت و شرک و استدراج میں مبتلا کرتے ہیں۔ اس مقام پر ذاکر کو خبردار و ہوشیار رہنا چاہیے۔ ان احوال و مقامات سے نمٹنے کے لیے ایک نہایت ہی باخبر مرشد دستگیر ہونا چاہیے جو ان مقامات کی ہر زیر و زبر کی گمراہی سے طالب کو نکال کر تصورِ اسمِ اللہ ذات کی لازوال توفیق بخشے۔ یہ متاعِ نیک جس دُکان سے بھی ملے اسے مت چھوڑ اور شریعتِ محمدیؐکو ابتدا سے انتہا تک زیرِعمل رکھ کہ یہی اصل دین ہے۔ دعوتِ ریاضت اور چیز ہے اور دعوتِ راز اور چیز ہے۔

دم رواں باشد بمثل تیغِ تیز 
دعوتے چوں تیز وھم از دل بخیز

ترجمہ: دعوتِ دم جب رواں ہوجاتی ہے تو تیز دھار تلوار کی طرح کاٹ کرتی ہے۔ یہ تیز اثر دعوت وَھم کے ذریعے دل سے ابھرتی ہے۔

اس قسم کی تیغِ برہنہ دعوت مردہ نفس و زندہ قلب و جان اولیا اللہ کی قبر کی ہم نشینی میں قرآن خوانی سے تعلق رکھتی ہے۔ جب کوئی فقیر ِکامل اس قسم کی جان گیر دعوت پڑھنا شروع کرتا ہے تو بے شک کل و جز کی تمام مخلوق، تمام انبیا و اولیا، کلمہ طیب    لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  پڑھنے والے تمام اہل ِاسلام کی ارواح، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اصحابِؓ کبار، اصحابِ ؓصفہ، اصحابِ ؓبدر، اصحابِ ؓاہلِ مدینہ اور اصحابِ ؓعرب و عجم پر مشتمل لگ بھگ ایک لاکھ تیرہ ہزار صحابہ کرامؓ حاضر ہو جاتے ہیں اور تمام مؤکل فرشتے اور حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم الانبیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک تمام انبیا کرام کی ارواح اور اٹھارہ ہزار عالم کے جملہ جن و انس، عرشِ اکبر، کعبتہ اللہ اور زمین و آسمان کے تمام طبقات جنبش میں آکر صاحبِ دعوت کی قید میں آ جاتے ہیں۔ جب تک وہ دعوت پڑھنا ختم نہیں کرتا اہلِ خاص خلاصی نہیں پاتے۔ اس دعوت سے سخت تر دعوت اور کوئی نہیں۔ اگر کوئی متواتر گیارہ دن تک ہر روز یہ دعوت پڑھے تو بے شک یہ اپنا اثر دکھائے گی اور اللہ کی عزت کی قسم! فرشتے اُس ملک و ولایت کی زمین کو ہلا کر رکھ دیں گے یا الٹ کرتہس نہس کر دیں گے، چاہے اس ملک و ولایت و زمین و شہر کے باسی انبیا و اولیا کی مثل ہی کیوں نہ ہوں۔ دعوت خواں اس دعوت کو ایک رات پڑھے یا دو راتیں پڑھے اور اگر اُس کا کام سخت و دشوار تر ہو تو تیسری رات بھی پڑھ لے۔ اگر وہ اس سے زیادہ دنوں تک پڑھے تو اُس کے اس عمل کا اثر قیامت تک ختم نہیں ہوگا۔ جو آدمی دعوتِ دعائے سیفی سیف اللہ اور دعوتِ کلام اللہ کی اس تاثیر پر شک کرتا ہے وہ کافر مطلق ہے کہ دعوتِ کلامِ ربانی برحق ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ جس طرح پارہ کسی عامل کامل کیمیا گر کے بغیر کشتہ نہیں ہوتا نہ خاکستر و نابود ہو کر کھانے کے قابل بنتا ہے اور نہ ہی پیتل کیمیاگر کے بغیر سونا بنتا ہے اُسی طرح عمل ِدعوت بھی مرشدِکامل کی اجازت اور قبورِ اولیا اللہ کی ہم نشینی کے بغیر نہ تو کارگر ہوتا ہے نہ رجعت سے محفوظ ہوتا ہے اور نہ ہی رواں ہوتا ہے۔ صاحبِ دعوت عامل کامل کے لیے صاحبِ اکسیر کو قید کر کے اپنے تابع کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ (محک الفقر کلاں)

آدمی کو معرفتِ الٰہی قرآنِ مجید سے حاصل ہوتی ہے۔ جب وہ اولیا اللہ کی قبر کی ہم نشینی میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا ہے تو اُس کی ہر مشکل حل ہوجاتی ہے۔ باطن میں انبیا اور اولیا اللہ کی ارواح سے مجلس و ملاقات اور دست مصافحہ کا شرف بھی قرآنِ مجید اور اولیا اللہ کی قبر سے حاصل ہوتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ’قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ‘کا مرتبہ بھی قرآنِ مجید اور قبورِ اولیا اللہ سے حاصل ہوتا ہے۔ قوتِ حاضراتِ روحانیاں اور اسمِ اعظم بھی قرآنِ مجید اور قبورِاولیا اللہ سے حاصل ہوتا ہے۔ الہام و غرقِ وحدانیت کا مرتبہ اور ذکر فکر، مذکور حضور کی روانی بھی قبورِ اولیا کی معیت میں قرآن خوانی سے حاصل ہوتی ہے۔ علمِ فیض اللہ، علمِ لدنیّ، معرفتِ الٰہی اور تمام کسبی رسمی علوم بھی قبورِاولیا کی معیت میں قرآن پڑھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ ملکِ سلیمانی کا مکمل قبضہ، ظاہر و باطن کے ہر مقام کا تصرف اور دنیا میں عالمگیر بادشاہی کا غلبہ بھی قبورِ اولیا کی ہم نشینی میں قرآن پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ عالم عامل کامل لا یحتاج عارف باللہ فقیر کا مرتبہ بھی قبورِ اولیا کی ہم نشینی میں قرآن پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے لیکن یہ سب کچھ تب ہوتا ہے جب اس دعوت کو پڑھنے کے لیے حکم و اجازت دینے والا کوئی شہسوارِقبر مرشد کامل ہو جو ظاہر باطن کے ہر طریق سے باخبر اور نفس پر امیر ہو۔ یہ مرتبہ اُس ولی اللہ فقیر کو حاصل ہوتا ہے جس کا باطن صاف ہو۔ منتہی صاحب ِدعوت کے اردگرد چار لشکر ہر وقت موجود رہتے ہیں جو اُس کی حفاظت و نگہبانی کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ اُن لشکروں کو چشم ِظاہر سے نہیں دیکھتا تاہم کوئی لشکر بھی اُسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔ وہ چار لشکر یہ ہیں: 1۔سرورِ دو عالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، اُن کے اصحابِؓ کبار اور جملہ دیگر صحابہ کرامؓ کی ارواحِ پاک کا لشکر۔ 2۔شہدا کا لشکر، جملہ امامین شہیدین شریفین ابی محمد الحسن و ابی عبداللہ الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لشکر۔ 3۔مؤکل فرشتوں کا لشکر۔ 4۔عالمِ غیب کے جنوں اور دیگر صاحبِ دعوت اولیا کرام کا لشکر۔ یہ تمام لشکر ہر قسم کے اسلحہ مثلاً تلوار، تیر، برچھا، نیزہ،کلہاڑی و بندوق وغیرہ سے لیس ہوتے ہیں۔ جب یہ جذب و غضب و قہر و غصہ میں آکر صاحبِ دعوت کے دشمن پر غیب الغیب سے وار کرتے ہیں تو اُسے شدید زخمی کر دیتے ہیں اور وہ درد سے مغلوب ہو کر مر جاتا ہے۔ لیکن فقیر کو چاہیے کہ وہ خیر طلب اور خدا ترس ہو، خود تکلیف اٹھائے لیکن کسی اور کو دکھ نہ دے کہ بندہ جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:  
مَنْ حَفَرَ بِئْرًا لِاَخِیْہِ فَقَدْ وَقَعَ فِیْہِ 
ترجمہ: جو اپنے بھائی کی راہ میں کنواں کھودتا ہے وہ خود اُس میں گرتا ہے۔
اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَ الْبُغْضُ فِی اللّٰہِ (ابوداؤد4599)
ترجمہ: کسی سے محبت کرو تو اللہ کے لیے کرو اور کسی سے بغض رکھو تو بھی اللہ کے لیے رکھو۔ 

جو آدمی اللہ کے دوستوں کو ستاتا ہے بے شک وہ دونوں جہان میں خراب ہوتا ہے۔ بعض آدمی اہل ِدنیا پر غلبہ پانے کے لیے دعوت پڑھتے ہیں لیکن وہ دعوت کا مطلب تک نہیں جانتے جیسا کہ کئی آدمی سانپ پر منتر پڑھ کر اُسے اپنا قیدی بنا لیتے ہیں اور اُن کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ منتر پڑھ کر اُس درندے کو پکڑ لیں۔ ایسے لوگوں کو اولیا اللہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ تو محض منتر باز ہیں۔ جو لوگ کلامِ پاک کو رجوعاتِ خلق (دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے) کی خاطر پڑھتے ہیں اُن کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ خلقِ خدا مسخر ہو جائے اور وہ اُس سے درہم و دینار (دولت) کمائیں اور لوگوں سے نذر و نیاز وصول کریں۔ وہ اپنا رزق اسی طرح حاصل کرتے ہیں اور اپنے رزق کا وسیلہ اسی کو سمجھتے ہیں اور خدائے عزّوجل پر اعتبار و توکل نہیں کرتے۔ ایسے لوگ سراسر شرک و ریا میں مبتلا ہیں۔ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس گمراہ فرقہ سے محفوظ رکھے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلاً  (سورۃ البقرہ۔41)
ترجمہ: میری آیات کو معمولی قیمت پر مت بیچو۔  

اگر نیک بختی کا انحصار تصرفِ دنیا پر ہوتا تو طالح فرعون طالع موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ نیک بخت ہوتا۔ پس نیک بخت وہ ہے جو عمر بھر معرفتِ راز اور عبادتِ نماز جیسی اطاعت ِظاہرو باطن میں مشغول رہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے: 
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ (سورۃ النسا ء ۔77)
ترجمہ: (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) آپ فرما دیں متاعِ دنیا بہت قلیل ہے۔
درہم و دینار کوئی بخیل ہی جمع کرتا ہے۔  (محک الفقر کلاں)
 علمِ دعوت راہِ فقر میں اہم حیثیت رکھتا ہے جو مرشد کامل طالب کو اس وقت عطا کرتا ہے جب وہ تصور اسمِ اللہ  ذات سے حضورِ حق میں پہنچ جاتا ہے۔ لیکن طالب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی طلب صرف دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری ہونی چاہیے اور یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ علمِ دعوت ہو یا کشف و وھم جیسی کوئی اور روحانی قوت، سب صرف اور صرف مرشد کی عطا ہے۔ طالب کی اپنی کوشش یا صلاحیت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ لہٰذا طالب کی نگاہ صرف اپنے مرشد کامل پر ہونی چاہیے۔ اصل نقطہ مرشد کامل ہے، اگر اس نقطے سے نگاہ ہٹ گئی تو نفس حاوی آجائے گا اور پھر طالب کو علمِ دعوت پڑھنے سے جو جواب ملے گا وہ اس کے نفس کی طرف سے ہوگا۔ علمِ دعوت کا یہ اصول ہے کہ ہر طالب کو اس کے مقامِ قربِ الٰہی کے مطابق جواب باصواب حاصل ہوتا ہے، طالب جتنا اللہ کے قرب میں ہوگا اتنی ہی کامل اس کی دعوت ہوگی اور جتنا دور اتنا ہی گمراہ کن اس کا کشف، وھم اور دعوت۔ اس لیے ہوشیار اور خالص طالب ہر لمحہ صرف اللہ کے قرب اور مرشد کی رضا کا طالب ہوتا ہے نہ کہ روحانی قوتوں کا۔ مرشد عطا کرے یا نہ کرے، خالص طالب چوں و چراں نہیں کرتا اور اگر مرشد عطا کرے تو بھی ان قوتوں کو صرف مرشد کی رضا کے مطابق اور مزید قربِ الٰہی کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں