ترکِ دنیا | Turk e Dunya

ترکِ دنیا

واضح ہو کہ عام طور پر مال و دولت کی فراوانی کو دنیا سمجھا جاتا ہے مگر دنیا کی تعریف یوں کی گئی ہے:
ہر وہ چیز دنیاہے جو اللہ کی یاد سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول یا متوجہ کر لے۔
جیسا کہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ِ مبارک ہے :
مَا شَغَلَکَ عَنِ اللّٰہِ فَھُوَ صَنَمُکَ 
ترجمہ:جو چیز تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹا کر اپنے ساتھ مشغول کر لے وہ تیرا بت ہے۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے تھے:
اگر تیرے پاس مال و دولت ہے لیکن تیرے دِل میں اس کی محبت نہیں ہے اور توُاسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں بے دھڑک خرچ کرتا ہے تو یہ دنیا نہیں ہے۔ البتہ جب تو اسبابِ دنیا کو اپنی مجبوری بنالے گا تو تیرے لئے سب اسباب دنیا بن جائیں گے۔ پس تو دنیا میں رہتے ہوئے اس سے دامن بچا کر ایسے نکل جا جیسے مر غابی پانی میں رہتے ہوئے بھی پانی میں غرق نہیں ہوتی اور دنیا سے اپنا نصیب اس طرح حاصل کر جیسے بگلا پانی کے کنارے پر رہ کر اس کے اندر سے اپنا رزق حاصل کر تا ہے اور خود کو پانی میں غرق نہیں کرتا۔ توُ کاروبارِ دنیا کر مگر اللہ کے لئے، دنیا کا رزق کھا مگر اللہ کیلئے، دنیا میں چل پھر مگر اللہ کیلئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم جہان بھر سے علیحدگی اختیار کر لو البتہ جو کام بھی کرو اس میں یادِ خدا ہو، قلب اللہ کی طرف متوجہ ہو اور ہاتھ دنیا کے کام کی طرف۔
ہر وہ چیز جو قلب (باطن) کو اللہ کی طرف سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کر لے دنیا ہے۔
ترکِ دنیا سے مراد ترکِ ہوسِ دنیا ہے یعنی دنیا سے باطنی لاتعلقی کا نام ترکِ دنیا ہے اور اس کے بغیر معرفتِ الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ دنیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔

دنیا سایہ کی مانند ہے۔ اگر آپ سورج کی طرف پیٹھ کرلیں تو آپ کا سایہ آپ کے سامنے آجائے گا۔ اگر آپ اپنے سائے کو پکڑنے کے لیے اس کی طرف بڑھیں گے تو وہ آپ کے آگے چل پڑے گا اور آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا لیکن اگر آپ اپنے سائے کی طرف پیٹھ کرلیں اور سورج کی طرف منہ کرکے چل پڑیں تو سایہ آپ کے پیچھے بھاگنے لگے گا۔ بالکل اسی طرح اگر آپ اللہ سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف چل پڑیں گے تو اسے پکڑ نہیں سکیں گے لیکن اگر آپ دنیا سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف چل پڑیں گے تو دنیا آپ کے پیچھے بھاگنا شروع کر دے گی۔
دنیا میں اس طرح رہ جس طرح کشتی پانی میں رہتی ہے۔ کشتی کو اپنا باطن سمجھ اور پانی کو دنیا۔ جب تک کشتی میں پانی داخل نہیں ہوتا کشتی غرق نہیں ہوتی اور جب پانی کشتی میں داخل ہو جاتا ہے تو کشی غرق ہو جاتی ہے۔ بس تو کشتی کی مثل ہے اور پانی دنیا کی مثل۔ اپنے باطن کو دنیا اور اس کی محبت سے محفوظ رکھ۔

حضرت داتا گنج بخش علی بن عثمان ہجویری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جس قدر آدمی دنیا سے بیزار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق اسی قدر مضبوط ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھر بار، بیوی بچے چھوڑ کر جنگل میں جا بیٹھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دل میں دنیا کی محبت نہ ہو۔ دنیا میں رہے مگر دنیا کا نہ بنے۔ یہ ہے کمالِ درویشی۔ دریا کے اندر رہ کر دامن تر نہ ہونے دینا بڑی بہادری ہے۔ اگر کوئی دریا کے نزدیک بھی نہ جائے اور کہتا پھرے کہ میرا دامن تر نہیں ہوا تو یہ کون سی بڑی بات ہے۔
صوفیا کے نزدیک ترکِ دنیا سے ایسا ہی ترکِ دنیا مراد ہے۔ یہ ترک روحانی ہوتا ہے نہ کہ جسمانی۔ کمال یہ ہے کہ جسمانی طور پر مخلوق میں رہے اور روحانی (باطنی) طور پر اس سے بیزار ہو۔ (کشف المحجوب)

ترکِ دنیا کی اصطلاح کو منکرین اور ناقدینِ تصوف و طریقت نے خوب اچھالا ہے اور اسے رہبانیت یا غیر اسلامی قرار دے کر ردّ کر دیا گیا ہے۔ دراصل صوفیا کرام کے فلسفہ کے مطابق اس اصطلاح کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ صوفیا کرام کے فلسفہ کے مطابق ترکِ دنیا سے مراد اصل میں ترکِ ہوسِ دنیا ہے یعنی دنیا سے باطنی لاتعلقی کا نام ترکِ دنیا ہے اور یہ اصطلاح اُن کی خود ساختہ نہیں بلکہ انہوں نے اسے قرآن و حدیث سے حاصل کیا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَھْوٌ وَّ لَعِبٌ ط وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ م لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ     (سورۃ العنکبوت ۔64)
ترجمہ: یہ دنیا کی زندگی سوائے کھیل تماشا کے اور کچھ نہیں ہے۔ بے شک آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے۔ کاش وہ اس کو سمجھ جائیں۔
 وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَعِبٌ وَّ  لَھْوٌ ط وَ  لَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(سورۃ الانعام ۔32)
ترجمہ: دنیا کی زندگی تو ایک کھیل تماشا ہے اور آخرت کا گھر اہل ِتقویٰ کے لئے بہت بہتر ہے۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
 اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ  الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَھْوٌ وَّ زِیْنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌ م بَیْنَکُمْ  وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ (سورۃ حدید۔20)
ترجمہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی محض لہو و لعب، آرائش اور آپس میں فخر اور خود ستائی اور مال و اولاد میں کثرت طلب کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ مِنَ النِّسَآئِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ  مِنَ الذَّھَبِ وَ الْفِضَّۃِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ  ط  ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ۔  (سورۃ آلِ عمران۔14)
ترجمہ: لوگوں کے لئے عورتوں کی کشش، اولاد، جمع شدہ دولت کے خزانوں، سونے اور چاندی، شاندار گھوڑوں، چوپایوں اور کھیتی سے (دنیا کو) زینت دی گئی ہے۔ یہ سب دنیا کا مال ہے۔ ﷲ کے پاس ہی اصل ٹھکانہ ہے۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی دنیا کی محبت کو ایمان کے لئے بہت بڑا فتنہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاداتِ مبارکہ ہیں:
حُبُّ الدُّنْیَا رَاْسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ (مشکوٰۃ5212)
ترجمہ:دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
اَلدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ مَلْعُوْنٌ مَا فِیْھَا اِلَّا ذِکْرَ اللّٰہِ   (ابنِ ماجہ4112)
ترجمہ: دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب ملعون ہے سوائے ذکر ِاللہ کے۔ 

  حضرت ابوہریرؓہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکٰفِرِ (مسلم7417)
ترجمہ: دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت۔ 
اَلدُّنْیَا مَنَامٌ وَّ عَیْشُھَا فِیْہِ اِحْتِلَامٌ
ترجمہ: دنیا خواب ہے اور ا س کی عیش و عشرت احتلام ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مزید فرمایا:
   دنیا مردار ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں۔
دنیا گدھوں کی جنت ہے۔
دنیا کتے کا گھر ہے۔
دنیا کی لذت خنزیر کا گوشت ہے۔
دنیا کا عیش کافروں کا فخر ہے۔
دنیا دل کی سیاہی ہے۔ 

نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو ﷲ پاک نے یہ اختیار دیا کہ وہ دنیا اور آخرت میں سے جسے چاہیں پسند کر لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آخرت کو ترجیح دی۔ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے ’’اگر میں توجہ کروں تو احد پہاڑ بھی سونا بن جائے لیکن ہمیں دنیا منظور نہیں۔‘‘

ان آیاتِ قرآنی اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ فقرا نے یہ اصطلاح خود ایجاد نہیں کی بلکہ عین حکمِ رَباّنی کے مطابق ہے اور نہ ہی فقرا دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں میں نکل جانے کا حکم دیتے ہیں۔ ان کے نظریہ کے مطابق ترکِ دنیا سے مراد ترکِ ہوسِ دنیا ہے یعنی دنیا کی محبت دل سے نکال دی جائے کیونکہ جب تک دل سے دنیا کی ہوس اور محبت نہیں نکلے گی ﷲ کی محبت نہیں آئے گی۔ اس لئے وصالِ الٰہی کے لئے دِل سے دنیا اور دنیا کی اشیا اور مخلوق کی محبت نکالنا ضروری ہے۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
حُبُّ الدُّنْیَا وَ الدِّیْنِ لَا یَسَعَانِ فِیْ قَلْبٍ وَاحِدٍ کَالْمَآئِ وَ النَّارِ فِیْ اِنَآئٍ وَاحِدٍ 
ترجمہ: کسی دل میں دین اور دنیا کی محبت اکٹھی نہیں رہ سکتیں جیساکہ آگ اور پانی ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔ 

سیدّناغوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
جس دل میں دنیا کی محبت ہے وہ ﷲ سے محجوب ہے اور جس دل میں آخرت کی محبت ہے وہ ﷲ تعالیٰ کے قرب سے محجوب ہے۔ جوں جوں تیرے دل میں دنیا کی محبت بڑھتی جائے گی توں توں تیرے دِل میں آخرت کی محبت گھٹتی جائے گی اور جس قدر تیرے دِل میں آخرت کی محبت بڑھتی جائے گی اِسی قدر تیرے دل سے ﷲ تعالیٰ کی محبت گھٹتی جائے گی۔ (الفتح الربانی ۔مجلس 10)

حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
  تو ﷲ کو بھی چاہتا ہے اور کمینی دنیا کو بھی۔ یہ محض ایک خیال اور پاگل پن ہے۔ (مثنوی بوعلی شاہ قلندر) 

شیخ فرید رحمتہ ﷲ علیہ فرماتے ہیں:
    دنیا ایک پوشیدہ آگ ہے جس میں محبوبِ حقیقی کے عاشقوں کے سوا سب جل رہے ہیں۔ 

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ ﷲ علیہ نے بھی اپنی تعلیمات میں ترکِ ہوسِ دنیا پر بہت زور دیاہے ۔ آپؒ دُنیا کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

باھوُا دنیا دانی چیست پرُ درد و بلا
می کند از ذکر و فکر حق جدا

ترجمہ: اے باھوُؒ! کیا تو جانتا ہے کہ دنیا کیا ہے؟ یہ پرُ درد آزمائش ہے جو ذکر، فکر اور حق سے جداکردیتی ہے۔ (عین الفقر)

دنیا والوں اور انبیا کرام و اولیا کرام میں فرق صرف ترکِ دنیا اور محبتِ دنیا کا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
سونا، چاندی، اونٹ، گھوڑے، بیل، گدھے، ہاتھی، نوکر اور سپاہی ابوجہل اور یزید کا خزانہ اور لشکر تھے جبکہ صبر ، شکر، ذکر، فکر، ذوق، شوق، محبت، عشق، نماز ، روزہ، فقر و فاقہ، مسلمان و مومن صحابہؓ اور قرآن و حدیث حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور امامینِ پاک علیہم السلام کا خزانہ اور لشکر تھے۔نقارہ، ڈھول، دف اور سرنا وغیرہ ابوجہل اور یزید کی نوبت تھے۔اذان اور ذکر ِ اللہ کا بلند نعرہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور امامین پاک علیہم السلام کی نوبت تھے اور ہیں۔ دنیاوی نوبت اور بادشاہی باطل اور فنا ہونے والی ہے لیکن دینِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نوبت اور بادشاہی کو بقاہے۔ (عین الفقر)

جان لے! یہ دنیا کا مال ہی تھا جس نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دشمنی اور جنگ کی تھی۔ اگر ابو جہل مفلس ہوتا تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کرتا۔حضرت امام حسن  رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو دنیا نے ہی شہید کیا۔ (عین الفقر)

جو سب سے پہلے دل میں سے حب ِ دنیا کو باہر نہیں نکالتا وہ ہرگز اللہ کا قرب نہیں پا سکتا نہ ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ہر بال اور قلب و قالب سے ذکر جاری ہوتا ہے۔ معرفت و فقر ِ خداجو کہ اصل کامیابی ہے، اس تک اور وحدانیت و وِصال تک ترکِ دنیا کے بغیر کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ (کلید التوحید کلاں)

ہر کہ در مردار غرقش کی شود دیدار او
غیر اللہ ہر چہ باشد دفتر از دل بشو

ترجمہ: جو مردار میں مشغول ہو اُسے دیدار کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ دیدار کرنے کے لیے جو غیر اللہ تیرے دل میں ہے اُسے دھو ڈال۔ (کلید التوحید کلاں)
جان لے کہ نفسِ امارہ، شیطان اور دنیا تینوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے۔ (اسرارِ قادری)
یعنی انسان کو ﷲ کی یاد سے غافل کرنے کیلئے ان تینوں نے محاذ بنا رکھا ہے۔
حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ ﷲ علیہ دنیا اور طالبِ دنیا کے بارے میں اپنی تصنیف عین الفقر میں فرماتے ہیں:
طالبِ دنیا دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا، یا وہ منافق ہو گا یا ریاکار۔ دنیا شیطان ہے اور طالبِ دنیا شیاطین ہیں۔ دنیا فتنہ و فساد ہے اور طالبِ دنیا فتنہ انگیر ہیں، دنیا نفاق ہے اور اس کے طالب منافق ہیں، دنیا حیض کا خون ہے اور طالبِ دنیا حائض ہیں، دنیا جھوٹ ہے اور طالبِ دنیا جھوٹے ہیں، دنیا شرک ہے اور طالبِ دنیا مشرکین ہیں۔ دنیا خبث ہے اور طالبِ دنیا خبیث ہیں، دنیالعنت ہے اوراس کے طالب لعنتی ہیں۔ جان لے کہ دنیاکے مال کو جان سے عزیز وہ رکھتاہے جو بے دین،بے عقل اور بے تمیز ہو۔ دنیا جہل ہے اور اس کے طالب جاہل ہیں۔ دنیا بدکار عورت اور فاجرہ ہے اور اہلِ دنیا اس کے شوہر دیوث ہیں جو پوشیدہ و ظاہر اپنی ہی عورت کو دوسروں کے ساتھ زنا اور فحاشی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ (عین الفقر)
دنیا کیا چیز ہے؟ دنیا دوئی کا نام ہے۔ جوشخص دوئی اختیار کرتاہے وہ خود کو شیطان کی راہ پر گامزن کر لیتا ہے۔  (عین الفقر)
جو دل دنیا کی محبت میں گرفتار ہو، شیطان کی تبا ہ کاریوںاور خطر ات میں پھنسا ہو ،نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس سے معمور ہو، اس پر اللہ تعالیٰ اپنی نگاہِ رحمت نہیں ڈالتا۔ (عین الفقر)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’ترکِ دنیا تمام عبادات کی جڑ ہے اور حب دنیا تمام برُائیوں کی جڑ ہے۔‘‘ یہ بات حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار تما م پیغمبروں نے کہی ہے اور تمام انبیا نے ترکِ دنیا کا حکم دیا ہے، پھر تُو ان سب کے خلاف چلنے کی خطا کیوں کرتا ہے؟ دنیا کے چار حروف ہیں: د، ن، ی، ا۔ حرف ’د‘ سے دنیا کا کوئی دین نہیں، حرف ’ن‘ سے دنیا نافرمانِ حق فرعون ہے، حرف ’ی‘ سے دنیا شیطان کی یارِ یگانہ ہے اور حرف ’ا‘ سے دنیا اظلم و آدم کش ہے۔ اے احمق! دنیا سے وہ آدمی تارک فارغ ہوتا ہے جو دین پر قائم رہتا ہے۔ دین کے بھی تین حروف ہیں: د، ی، ن۔ حرف ’د‘ سے دین معرفت کی آنکھ کو کھول کر مولیٰ کا دیوانہ و فریفتہ کرتا ہے جس سے بندہ طالبِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بنتا ہے، حرف ’ی‘ سے دین یاری کراتا ہے اللہ سے اور یاری کراتا ہے تمام مومن بھائیوں، اہلِ اسلام مسلمانوں اور تمام مومن مسلمانوں سے اور حرف ’ن‘ سے دین نیت کو خالص کرکے طالبِ اللہ کو صفا کیش و خیر اندیش بناتا ہے۔ ہر غنی و درویش اور ہر وہ آدمی جو دین کواپنے ہاتھ میں رکھ کر دنیا کو چھوڑ دیتا ہے، خطراتِ دنیا سے فارغ ہوجاتا ہے، صدقِ دِل سے تن پر لباسِ فقر پہن لیتا ہے اور خدا سے صدقِ خاص و درست اعتقاد رکھ لیتا ہے تو حق سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے میرے فرشتو! میری دوستی میں میرا ایک بندہ دنیائے مردار نجس و پلید سے الگ ہوگیا ہے۔‘‘ تمام انبیا و اولیا و اتقیا اور جملہ اہلِ اسلام کی ارواح اور اٹھارہ ہزار عالم کی کل مخلوقات کو حکم ہوتا ہے ’’تم سب میرے دوست کی زیارت و پیشوائی کے لیے جاکر اُس کی ہمت پر آفرین کہو اور جو گدڑی و خاکسارانہ لباس اُس نے پہن رکھا ہے ویسا ہی لباس تم بھی پہنو۔‘‘ فقیر کو یہ مراتب ابتدا ہی میں پہلے ہی روز بخش دیئے جاتے ہیں۔ (محک الفقر کلاں) 

حضرت سخی سلطان باھوؒ  پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

ایہہ دُنیا زَن حیض پلیتی، کتنی مل مل دھووَن ھوُ
دُنیا کارن عالم فاضل، گوشے بہہ بہہ رووَن ھوُ
جیندے گھر وِچ بوہتی دنیا، اَوکھے گھوکر سووَن ھوُ
جنہاں ترک دنیا تھیں کیتی باھوؒ، واہندی نکل کھلووَن ھوُ

یہ دنیا اسی طرح پلید اور ناپاک ہے جس طرح عورت حیض کی حالت میں ناپاک ہوتی ہے۔ خواہ کتنا ہی پاکیزہ ہونے کی کوشش کرے، پاک نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جو حبِ دنیا میں مبتلا ہوتا ہے اس کی کوئی عبادت و ریاضت قبول نہیں ہوتی۔ کتنے ہی عالم فاضل دنیا اور اس کی لذات کو ریاضت اور چلہ کشی کے ذریعے ترک کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔ جس کے گھر میں جتنی زیادہ دولت اور من میں جتنی زیادہ دنیا کی محبت ہوتی ہے وہ اتنا ہی بے چین اور بے سکون ہوتا ہے۔ ایسے لوگ آرام کی نیند بمشکل ہی سوتے ہیں کیونکہ مال کی حفاظت کی فکر انہیں سونے نہیں دیتی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے مقصد ِحیات کو سمجھا اور خواہشاتِ دنیا سے منہ موڑ لیا وہ اس جہان سے کامیاب و کامران گئے۔ 

اَلَسْتُ  بِرَبِّکُمْ  سنیا   دِل  میرے،  جند   قَالُوْا  بَلٰی  کوکیندی  ھوُ
حُب وطن دِی غالب ہوئی، ہک پل سون نہ دیندی ھوُ
قہر پوے تینوں رہزن دُنیا، تو تاں حق دا راہ مریندی ھوُ
عاشقاں مول قبول نہ کیتی باھوؒ، توڑے کر کر زاریاں روندی ھوُ

روزِ ازل جب سے اَلَسْتُ  بِرَبِّکُمْ   (کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں) سنا ہے اس وقت سے میری روح مسلسل قَالُوْا  بَلٰی  (بیشک تو ہی ہمارا ربّ ہے) پکار رہی ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد بھی مجھ پر وطن (عالمِ لاھوت) کی محبت اس قدر غالب ہے کہ ایک لمحہ بھی چین اور سکون نہیں ہے۔ اے رہزن دنیا! تجھ پر قہر نازل ہو کیونکہ تو حق تعالیٰ تک جانے کی راہ میں حائل ہے۔ یہ دنیا خواہ کتنی ہی رنگین اور دلکش کیوں نہ ہو جائے عاشقینِ ذاتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور اپنی منزل وصالِ الٰہی تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ 

ادھی لعنت دُنیا تائیں، تے ساری دنیاداراں ھوُ
جیں راہ صاحب دے خرچ نہ کیتی، لین غضب دیاں ماراں ھوُ
پیوواں کولوں پتر کوہاوے، بھٹھ دُنیا مکاراں ھوُ
جنہاں ترک دُنیا کیتی باھوؒ، لیسن باغ بہاراں ھوُ

آدھی لعنت دنیا پر اور ساری دنیاداروں پر ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت کو چھوڑ کر دنیا اور خواہشاتِ دنیا کی محبت میں مبتلا ہیں۔ جنہوں نے دنیا، مال و دولت، جان اور اولاد ﷲ کی رضا کے لئے خرچ نہ کیے وہ دنیا اور آخرت میں سخت سزا کے مستحق ہیں۔ دنیا انسان کو اس قدر حرص و حسد میں مبتلا کر دیتی ہے کہ باپ اپنے بیٹے تک کو اس کے لئے قتل کر دیتا ہے۔ اے مکار دنیا! خدا کرے تجھے آگ لگ جائے۔ جو لوگ دنیا کی محبت ترک کر کے ﷲ کی پاک محبت میں محو ہو جاتے ہیں وہی آخرت میں کامیاب اور سرخرو ہوتے ہیں۔ 

گجھے سائے ربّ صاحب والے، کجھ نہیں خبر اصل دِی ھوُ
گندم دانا اساں بہتا چگیا، ہن  گل پئی ڈور ازل دِی ھوُ
پھاہی دے وِچ میں پئی تڑفاں، بلبل باغ مثل دِی ھوُ
غیر دِلے تھیں سٹیے باھوؒ، تاں رکھییٔ امید فضل دِی ھوُ

یہ کائنات اور تمام مخلوقات ذاتِ حق کے سوا کچھ نہیں ہے اورذات کثرت میں پوشیدہ ہو چکی ہے۔ تمام لوگ صرف اس ظاہر کو دیکھ رہے ہیں اور ان کو ذات کی خبر تک نہیں۔ یہ سب اس دانۂ گندم کی وجہ سے ہے جس کو کھانے کے بعد نسل ِانسانی صفات، اشکال، بشری جال اور دنیا میں پھنس کر اس طرح بے چین، بے سکون اور مضطرب ہے جس طرح بلبل پنجرے میں قید ہو کر تڑپتی ہے۔ غیر ﷲ کی محبت دل سے نکال کر ذاتِ حقیقی تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے لیکن یہ بھی ﷲ کے فضل و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ 

دُنیا ڈھونڈن والے کتے، دَر دَر پھرن حیرانی ھوُ
ہڈی اُتے ہوڑ تنہاں دِی، لڑدیاں عمر وِہانی ھوُ
عقل دے کوتاہ سمجھ نہ جانن، پیون لوڑن پانی ھوُ
باجھوں ذِکر ربّ دے باھوؒ، کوڑی رام کہانی ھوُ

طالبانِ دنیا مال و دولت اور لذاتِ دنیا کی تلاش میں دنیا بھر میں دوڑتے پھر رہے ہیں اور ان کے حصول کے لیے کتوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ ان کی تمام عمر کنویں کے بیل کی طرح گزر جاتی ہے اور عقل کے اندھوں کو اتنی خبر تک نہیں ہوتی کہ ﷲ پاک انہیں رزق عطا فرما رہا ہے اور اُن کے رزق کا ضامن ہے، انہیں اللہ کو چھوڑ کر دنیا کے پیچھے بھاگنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسمِ اللہ  ذات کے ذکر کے بغیر اصل حقیقتِ حال تک راہنمائی اوررسائی ممکن ہی نہیں اور زندگی یونہی فضول بھاگ دوڑ میں تمام ہوتی ہے۔ 

دُنیا گھر منافق دے، یا گھر کافر دے سونہدی ھوُ
نقش نگار کرے بہتیرے، زَن خوباں سبھ مونہدی ھوُ
بجلی وانگوں کرے لشکارے، سر دے اُتوں جھوندی ھوُ
حضرت عیسیٰؑ دِی سلھ وانگوں باھوؒ، راہ ویندیاں نوں کونہدی ھوُ

دنیا ایک خوبصورت اور حسین لیکن مکار عورت ہے جس کے فریب کا شکار صرف دنیادار، منافق یا کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ اپنے فریبِ حسن اور بجلی کی سی جوانی سے سب کو لوٹ لیتی ہے اور اپنے محبین کو اسی طرح ہلاک کرتی ہے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تین آدمیوں نے ایک سونے کی اینٹ کے لئے ایک دوسرے کی جان لے لی تھی۔ 

قصہ اس طرح ہے کہ تین مسافروں کو سونے کی ایک اینٹ مل گئی۔ ایک بازار سے کھانا لینے چلا گیا اور دو اینٹ کی حفاظت کے لئے ٹھہر گئے۔ دونوں نے سازش کی کہ جب وہ کھانا لے کر واپس آئے گا تو اس کو قتل کر کے اینٹ دونوں بانٹ لیں گے۔ کھانا لانے والے کی نیت بھی خراب ہو گئی اور اس نے کھانے میں زہر ملا دیا۔ جب واپس آیا تو اس کو دونوں نے قتل کر دیا اور وہ دونوں بھی زہریلا کھانا کھا کر مر گئے۔ 

دِین تے دُنیا سکیاں بھیناں، تینوں عقل نہیں سمجھیندا ھوُ
دونویں اِکس نکاح وِچ آون، شرع نہیں فرمیندا ھوُ
جیویں اَگ تے پانی تھاں اِکے وِچ، واسا نہیں کریندا ھوُ
دوہیں جہانیں مٹھا باھوؒ، جیہڑا دعوے کوڑ کریندا ھوُ

دین ِحق (فقر) اور دنیا دو سگی بہنوں کی مثل ہیں۔ جس طرح دو حقیقی بہنیں ایک مرد کے نکاح میں نہیں آ سکتیں اور جس طرح آگ اور پانی اکٹھے نہیں ہو سکتے اسی طرح دین اور دنیا کو ایک دِل میں اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔ جس نے بھی یہ جھوٹا دعویٰ کیا وہ کذاب ہے اور وہ دونوں جہانوں میں خسارہ پانے والوں میں سے ہے۔ 

بنھ چلایا طرف زمین دے، عرشوں فرش ٹکایا ھوُ
گھر تھیں ملیا دیس نکالا، اساں لکھیا جھولی پایا ھوُ
رہ نی دُنیا نہ کر جھیڑا، ساڈا اَگے بھی دِل گھبرایا ھوُ
اسیں پردیسی ساڈا وطن دوراڈھا، باھوؒ دَم دَم غم سوایا ھوُ

طالبِ مولیٰ کا اصل گھر تو عالم ِلاھوت ہے جہاں پر اُس نے دیدارِ الٰہی کی خاطر دنیا اور عقبیٰ کو ٹھکرا دیا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ تو ہماری تقدیر ہے جس نے ہمیں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے اور ہمیں اپنے وطنِ ازلی عالمِ لاھوت سے عالمِ خلق (ناسوت) میں لے آئی ہے۔ اے دنیا! ہمارا پیچھا چھوڑ دے اور ہمیں تنگ نہ کر، ہمارا دل پہلے ہی فراقِ یار میں بے قرار اور بے چین ہے۔ ہم تو اس دنیا میں پردیسی ہیں اور ہمارا اصل وطن محبوبِ حقیقی کے پاس ہے جو بہت دور ہے۔ اُس تک پہنچنے کی راہ میں بہت سے مصائب اور مشکل منازل ہیں جنہیں ہم نے دنیا کی محبت دل سے نکال کر عشق سے طے کرنا ہے۔ ہر لمحہ اس محبوب سے دوری کا غم بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

اَوجھڑ جھل تے مارُو بیلا، جتھے جالن اساڈی آئی ھوُ
جس کدھی نوں ڈھاہ ہمیشاں، اوہ اَج ڈَھٹھی کل ڈھائی ھوُ
نیں جنہاں دے وہے سراندی، اوہ سکھ نہ سوندے راہی ھوُ
ریت تے پانی جتھے ہون اکٹھے باھوؒ، اُتھے بنی نہ بجھدی کائی ھوُ

یہ دنیا خطرناک گھنے جنگل اور خوفناک ویرانے کی مانند ہے جس میں ہمیں زندگی گزارنی پڑ رہی ہے۔ اس دنیا کی مثال کسی کمزور دیوار کی طرح ہے جو کسی بھی وقت گر سکتی ہو۔ اور ہماری مثال تو اس آدمی کی طرح ہے جو کسی ندی کے کنارے لیٹا ہو اور اس ڈر سے بیدار رہتا ہو کہ کہیں سوتے ہوئے ندی میں نہ گر جائے۔ ریت اور پانی کو ملا کر کوئی مستقل بند نہیں باندھا جا سکتا، آخر پانی ریت کو بہا کر لے جائے گا۔ یہ دنیا بھی ریت کی طرح ہے جو ایمان کو بہا لے جاتی ہے۔ یہ فانی دنیا ریت کے بند کی طرح ہے جو باقی نہیں رہے گی۔

اِیہہ دنیا زَن حیض پلیتی، ہرگز پاک نہ تھیوے ھوُ
جیں فقر گھر دُنیا ہووے، لعنت اُس دے جیوے ھوُ
حب دُنیا دی رب تھیں موڑے، ویلے فکر کچیوے ھوُ
سہ طلاق دُنیا نوں دیئے باھوؒ، جیکر سچ پچھیوے ھوُ

دنیا کی مثال اس حائضہ عورت کی سی ہے جو حیض کی حالت میں خواہ کتنی بار غسل کر لے یا پاک ہونے کی کوشش کرے، پاک نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح یہ نجس و ناپاک دنیا کبھی پاک نہیں ہو سکتی۔ جو دعویٰ تو فقر کا کرتا ہو لیکن گھر میں مال و متاعِ دنیا جمع کر رکھا ہو اور دل میں ان کی محبت رکھتا ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے کیونکہ دنیا اور دنیاوی مال و متاع تو راہِ فقر سے گمراہ کر کے اپنی محبت میں جکڑ لیتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ طالب کو اس سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ جس طرح عورت کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ شرعی طور پر حرام ہو جاتی ہے اور اس سے کوئی تعلق یا واسطہ باقی نہیں رہتا اُسی طرح تو بھی دنیا سے پیچھا چھڑا لے۔ 

الغرض جب تک دل کے اندر حبِ دنیا، لذّاتِ دنیا، خواہشاتِ دنیا اور شہواتِ دنیا موجود رہتی ہیں اس وقت تک دل کے اندر ﷲ پاک کی محبت نہیں آ سکتی۔ جو دنیا اور ﷲ پاک کی محبت کو دل کے اندر اکٹھا جمع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے وہ کاذب ہے۔ ﷲ تعالیٰ کے محب اور عاشق دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے خواہ پوری کائنات کی دولت ان کے سامنے ڈھیر کر دی جائے۔ دنیا اور غیر اللہ کی محبت کو دِل سے نکال کر دِل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق کو بسالینا ہی کامیابی ہے اور یہ ذکر و تصورِ اسمِ اللہ  ذات کے بغیر ناممکن ہے اور وہ بھی اگرکسی مرشدکامل اکمل سروری قادری صاحبِ مسمٰی سے حاصل ہوا ہو۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

2 تبصرے “ترکِ دنیا | Turk e Dunya

  1. نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو اﷲ پاک نے یہ اختیار دیا کہ وہ دنیا اور آخرت میں سے جسے چاہیں پسند کر لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آخرت کو ترجیح دی۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے ’’اگر میں توجہ کروں تو احد پہاڑ بھی سونا بن جائے لیکن ہمیں دنیا منظور نہیں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں