تسلیم و رضا |Tasleem o Raza

تسلیم و رضا

فقر کا مرکز اور محور تسلیم ورضائے الٰہی ہے۔ رضا کی اصل حقیقت یہ ہے کہ سالک (طالب) اس امر پر یقینِ کامل رکھے کہ ہر چیز کی عطا یا مناہی اللہ کی مشیٔت اور ارادہ ہے۔ دنیاوی معاملات ہوں یا راہِ سلوک، طالبِ مولیٰ کے لیے بہتر یہی ہے کہ ہر بات میں خوف اور امید کے مابین رہے۔ اطاعت کے وقت اللہ کے سامنے فخر نہ کرے اور مصیبت کے وقت اس کے در سے مایوس نہ ہو جائے۔ ہیبت وپریشانی، دکھ اور سکھ، سکون اور اضطراب، آسانی اور تنگی، بیماری اور صحت، بھوک اور سیری الغرض ہر حالت میں اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنا اور سرِتسلیم خم کردینا ہی اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول ومنظور ہے۔ مقامِ رضا فقر کی منازل میں سے بہت بڑی منزل ہے اور مقامِ رضا کے بعد ہی باطن کے دو انتہائی اہم مقامات یعنی دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان دو اعلیٰ ترین مقامات سے پہلے تسلیم و رضا کا مقام آخری مقامات میں سے ہے اور یہی نفسِ مطمئنہ کا مقام بھی ہے۔ ا رشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ارْجِعِیْ ٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ج۔  (سورۃ الفجر27-28)
ترجمہ: اے نفسِ مطمئنہ! لوٹ اپنے ربّ کی طرف، اس حالت میں کہ وہ تجھ سے راضی ہوگیا اور تو اس سے راضی ہوگیا۔
قرآنِ مجید میں بھی ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ دیدارِ حق تعالیٰ ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو اللہ کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کردیتے ہیں ۔
وَمَنْ اَحْسَنُ دِِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ     (سورۃ النسا۔125)
ترجمہ: اور اس شخص سے بہتر کون ہوسکتا ہے جس نے اپنا سر اللہ کی رضا کے سامنے جھکا دیا، وہ محسن ( مرتبۂ احسان تک پہنچنے والا یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے والا ) ہے۔
بَلٰی ژ مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗ ٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ص وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ     (سورۃ البقرہ۔112)
ترجمہ: ہاں جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کردیا وہ محسن ( مرتبۂ احسان تک پہنچنے والا یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے والا) ہے اور اس کیلئے اپنے ربّ کی طرف سے اجر ہے اور اس کیلئے نہ کچھ خوف ہے اور نہ کوئی غم۔

ان آیاتِ کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول طرزِ عمل یہ ہے کہ ہر دم اور ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم رکھا جائے، نعمت پر شکر اور مصیبت میں صبر کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایمان صرف اس شخص کا مقبول اور منظور ہوتا ہے جو خلوصِ نیت سے اس کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کردیتا ہے اور اس کی خوشنودی اور رضا کی خاطر اپنی مرضی، منشا اور اختیار سے دستبردار ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں جو تکالیف اور مصائب اس پر وارد ہوتے ہیں انہیں خوش دلی سے قبول کرتا ہے اور اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر قربان کرکے تسلیم و رضا کی راہ اختیار کرتا ہے۔ 
     حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ِمبارک ہے:
لَا تَتَحَرَّکُ ذَرَّۃٌ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ 
ترجمہ: اللہ کی رضا کے بغیر ذرّہ بھی نہیں ہلتا۔

عارفانِ الٰہی پر رضائے حق کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ انہیں شدید سے شدید تر حالات میں بھی کوئی غم، دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی یعنی ’’سر ِتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔‘‘ اس مقام پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے خاص نور یعنی لقائے الٰہی سے سرفراز کرتا ہے اور ان کو ہر لمحہ ایک نئی زندگی غیب سے عطا ہوتی ہے۔ 

کشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زمان از غیب جانِ دیگر است

ترجمہ: تسلیم و رضا کے خنجر سے ذبح ہونے والوں کو ہر لمحہ غیب سے نئی زندگی ملتی رہتی ہے۔ (عین الفقر)

جن عارفین یا عاشقوں کی زندگی کا مقصد ہی رضائے الٰہی ہوتا ہے وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔ شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کے لبوں پر تیس سال تک تبسم نہ آیا لیکن جب ان کا بیٹا فوت ہوگیا تو لوگوں نے خلافِ معمول ان کو متبسم دیکھا۔ پوچھا ’’اے شیخ! یہ تبسم کرنے کا کون سا موقع ہے؟‘‘ فرمایا ’’مجھے یقین ہے کہ حق تعالیٰ میرے فرزند کی موت میں راضی تھا اس لئے میں نے بھی رضائے الٰہی کی خاطر تبسم کیا، جو اس کی خوشی وہی میری خوشی۔‘‘ 

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:
نزولِ تقدیر کے وقت حق تعالیٰ پر اعتراض کرنا ( یعنی اس کی رضا کے خلاف دل میں خیال لانا) دین، توحید ، توکل اور اخلاص کی موت ہے۔ ایمان والا قلب کیا، کیوں، کیسے کو نہیں جانتا، ا س کا کام تو ’’ہاں‘‘ کرنا ہے ( یعنی حکمِ تقدیر کی موافقت کرتا ہے اور چوں چراں کے ساتھ رائے زنی نہیں کرتا)۔ یہ نفس کی عادت ہے کہ نزاع کر ے ۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 1)
جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی قدر اورقضا پر راضی ہو کر صبر اختیار کرتا ہے اس کیلئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار مدد ہے اور آخرت میں بے شمار نعمت۔ (الفتح الربانی)

حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’میں تسلیم کے معاملے میں اس منزل پر پہنچ گیا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو (میری جگہ) اعلیٰ علیین (فردوسِ بریں) میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جگہ دے دے اور مجھے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اسفل السافلین یعنی جہنم کے انتہائی نچلے درجے میں پھینک دے تو میں اس شخص سے بھی بڑھ کر خدا سے راضی ہوں گا۔‘‘
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’رضا کے معنی اختیار کو چھوڑ دینے کے ہیں اور رضا یہ ہے کہ بلاکو نعمت سمجھ۔‘‘
حضرت یحییٰ معاذ رازی رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا ’’کس طرح معلوم ہو کہ اللہ راضی ہے یا نہیں؟‘‘ فرمایا ’’تمہارا راضی ہونا اس کے راضی ہونے کی علامت ہے۔‘‘
حضرت منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’رضا یہ ہے کہ ہاتھ پائوں کا ٹ کر تختہ دار پر لٹکایا جائے تو بھی آہ نہ کرے۔‘‘ 

’تفسیر اسرار الفاتحہ‘ میں نقل ہے کہ ایک روز حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ، مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ، شفیق بلخی رحمتہ اللہ علیہ اور رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا ایک مجلس میں اکٹھے ہوئے۔ ان میں صدق کے موضوع پر گفتگو ہونے لگی۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا’’ــــــوہ شخص طلبِ مولیٰ کے دعویٰ میں ہرگز صادق نہیں ہے جو اللہ کی طرف سے آنے والی تکلیف پر صبر نہیںکرتا۔‘‘ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا نے یہ سن کر فرمایا ’’اس بات سے خودی کی بوُ آتی ہے، بات اس سے بہتر ہونی چاہیے۔‘‘ حضرت شفیق بلخیؒ نے فرمایا ’’وہ شخص طلبِ مولیٰ کے دعویٰ میں صادق نہیں جو مولیٰ کی دی گئی تکلیف میں لذت محسوس نہیں کرتا۔‘‘ حضرت رابعہ بصریؒ نے فرمایا ’’اس بات سے بھی خود نمائی کی بوُ آتی ہے، اس سے بڑھ کر کچھ کہنا چاہیے۔‘‘ مالک بن دینارؒ نے فرمایا ’’وہ شخص طلبِ مولیٰ کے دعویٰ میں صادق نہیں جو اللہ کی طرف سے دی گئی تکلیف پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔‘‘ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا نے فرمایا ’’وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو اللہ کی طرف سے دی گئی تکلیف کو اللہ کے مشاہدہ میں غرق ہوکر بھول نہیںجاتا۔‘‘ (عین الفقر)

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضاست
ما امینیم این متاعِ مصطفیؐ ست
(مثنوی)

ترجمہ: فقر تو ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کی راہ ہے اور حقیقت میں یہی متاعِ مصطفیؐ ہے جس کے ہم وارث ہیں۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
راہِ توکل اختیار کر کے صرف اللہ کے قرب پر راضی ہو جائو۔ (عین الفقر)
رزق دو قسم کا ہے، ایک نفس کے غلام لوگوں کا رزق اور دوسرا اللہ کے محبوب بندوں کا رزق جو اللہ انہیں خود پہنچاتا ہے۔ پس زیادہ مال جمع کرناصرف جمعیتِ نفس کی خاطر ہے اورخلق کا اعتبار اس بات پر ہے کہ پہلے مال ودولت جمع کر کے غنی ہوا جائے اور بعد میںہدایت کی راہ اختیار کی جائے۔ تجھے چاہیے کہ پہلے قلبِ سلیم حاصل کر اور پھر حق تسلیم کر تاکہ تجھے کنۂ کن سے قربِ الٰہی کے مراتب حاصل ہو جائیں۔ عاقلوں کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔ کامل انسان وہ ہے جو حق میں غرق ہو کر چوں و چرا سے ماورا ہو جاتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اللہ کی رضا کی خاطر ساری عمر شہر شہر، نگر نگر گھوم پھر کر فقر کا خزانہ لٹاتے رہے، اس کیلئے آپؒ کو در در جانا پڑا۔ آپؒ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

نفس را رسوا کنم بہر از خدا
بر ہر درے قدمی زنم بہر از خدا

ترجمہ:میں اپنے نفس کو رضائے الٰہی کی خاطر رسوا کرتا ہوںاور ہر در پر اللہ کی خاطر قدم رکھتا ہوں۔ (نو ر الہدیٰ کلاں)

گر بہ بینی حال احوال از قبر
میشود مکشوف زیر و با زبر
بعد ازان عبرت خوری با غم تمام
دل سلیم و گشت واضح ہر مقام

ترجمہ:اگر تو احوالِ قبر کوجان جائے تو تجھ پر زیر و زبر کی تمام حقیقتیں روشن ہو جائیں۔ بعد ازاںغم و اندوہ کے ساتھ تجھے عبرت حاصل ہوگی۔ پھر ہی تیرا قلب تسلیم و رضا اختیار کرے گا اور تجھ پر ہر مقام واضح ہو جائے گا۔ (نو ر الہدیٰ کلاں)

گر ترا بر سر زند سر پیش نہ
خدمتی بہر از خدا درویش بہ

ترجمہ: اگر درویش تیری سر زنش بھی کرے تب بھی اپنا سر اس کی خدمت میں جھکائے رکھ۔ رضائے الٰہی کی خاطر درویش کی خدمت کرنا ہر عمل سے افضل ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
 خلقِ عظیم صاحبِ قلبِ سلیم کا مرتبہ ہے جو حق کو تسلیم کر کے صراطِ مستقیم پر قائم رہتا ہے۔ یہی ان لوگوں کا راستہ ہے جن کو اللہ پاک اپنے انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔  (نور الہدیٰ کلاں)

خود پرستان را نہ حاصل شد خدا
خود پرستان را خداوند شد ہوا
ہر کہ کردہ جان و از جان تن جدا
آن باز دارد نفس را بہر از خدا

ترجمہ:خود پرستوں کو کبھی خدا نہیں ملتا کیونکہ ا نہوں نے نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ خدا ان کو ملتا ہے جو اللہ کی خاطر اپنی جان پر بھی کھیل جاتے ہیں اور نفس کو اس کی خواہشات سے باز رکھتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

جان لے کہ بہت زیادہ علم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اسلام کے متعلق ضروری معلومات سے آگاہ ہونا، گناہوں سے باز رہنا، خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہنا، محبتِ الٰہی سے معرفت و توحید تک پہنچنا اور نفس کی تمام خواہشات سے خود کو نجات دلانا فرضِ عین ہے۔ قدیم و عظیم صراطِ مستقیم پر گامزن ہو کر قلبِ سلیم حاصل کرنا اور حق کو تسلیم کرنا ہی ذریعہ نجات ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

باھوؒ بہر از خدا وحدت نما
می برد حاضر ترا با مصطفیؐ

ترجمہ: باھوؒ خدا کی رضا کی خاطر وحدت عطا کرتا ہے اس لیے تجھے بھی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچا سکتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

باھوؒ بردار تسلیم و رضا
دل سلیمی گشت حاضر مصطفیؐ

ترجمہ: اے باھوؒ! تسلیم و رضا اختیار کر جس سے دل سلامتی حاصل کر کے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل کرتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)

صبر کن صبر کہ جز صبر دوا نیست
چہ کند گر تسلیم و رضا ندارد پیش

ترجمہ: صبر کرو کہ صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اگر تسلیم و رضا اختیار نہیں کرو گے تو اسکے علاوہ کیا کرو گے؟(کلید التوحید کلاں)

باھوؒ رضا بر قضا غالب چو گردد
ز کردہ از خدا ہرگز نہ لرزد
چرا لرزد کہ قرب او تمام است
ہر آں لرزد کہ ناقص عام خام است
رضا قاضی قضا در حکم بہ او
بجز حکمش نہ گیرد جان از مو

ترجمہ: اے باھوؒ! جب قضا پر رضا غالب آتی ہے تو وہ (طالبِ مولیٰ) خدا کے امور سے ہرگز نہیں کانپتا۔ جسے اللہ کا کامل قرب حاصل ہو وہ کیوں (اسکے ڈر سے) کانپے بلکہ ناقص، عام اور خام اس (کے خوف) سے کانپتے ہیں۔ رضا قاضی (کی مثل) ہے اور قضا اس کے حکم کے ماتحت ہے اس لیے اس کے حکم کے بغیر قضا ایک بال کی بھی جان نہیں لے سکتی۔(کلید التوحید کلاں)

جان لو کہ بندہ اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوا کہ اس کا ہر کام اور خواہش اس کی مرضی کے موافق پوری ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
آپ ؒ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

بوُہتی میں اوگن ہاری، لاج پئی گل اس دے ھوُ
پڑھ پڑھ علم کرن تکبر، شیطان جیہے اوتھے مسدے ھوُ
لکھاں نوں ہے بھَو دوزخ دا، ہک نِت بہشتوں رُسدے ھوُ
عاشقاں دے گل چھری ہمیشہ باھوؒ، اَگے محبوب دے کسدے ھوُ

میں بہت ہی بد نصیب، گناہ گار اور خطاکار ہوں لیکن مجھے فخر ہے کہ میرے گلے میں مرشد کی غلامی کی زنجیر ہے جو مجھے خوش بخت لوگوں کے گروہ میں شامل کروا دے گا۔ بہت سے لوگ شیطان کی طرح اپنے علم پر تکبر کی وجہ سے وصالِ حق تعالیٰ سے محروم ہیں او رلاکھوں لوگوں کو دوزخ کے عذاب کا خوف لاحق ہے لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو بہشت کی نعمتوں کو ٹھکرا کر دیدارِ حق تعالیٰ کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ عاشق ِحقیقی تو ہمیشہ اپنے محبوب کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کیے رہتے ہیں۔ 

جیوندیاں مر رہناں ہووے، تاں ویس فقیراں بہیے ھوُ
جے کوئی سٹے گودڑ کوڑا، وانگ اَروڑی سہئیے ھوُ
جے کوئی کڈھے گاہلاں مہنے، اس نوں جی جی کہیئے ھوُ
گِلا اُلاہماں بھنڈی خواری، یار دے پارُوں سہییٔ ھوُ
قادر دے ہتھ ڈور اساڈی باھوؒ، جیوں رکھے تیوں رہییٔ ھوُ

اگر      مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْ ا ( مرنے سے پہلے مر جاؤ ) کا مقام حاصل کرنا ہے تو دنیا میں فقیر بن کررہنا چاہیے۔ اگر کوئی کوڑا کرکٹ بھی اوپر پھینکے تو اسے اسی طرح برداشت کرنا چاہیے جس طرح کوڑے کا ڈھیر اپنے اوپر مزید گندگی کو سہارتا رہتا ہے۔ اگر کوئی گالیاں نکالے او ربر ا بھلا کہے تو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بجائے بڑی محبت اور پیار سے جی جی کہتے رہنا چاہیے۔ گِلے، طعنے، بدنامی اور خواری اپنے یار کی خاطر برداشت کرنا ہی پڑتے ہیں۔ ہم نے تو اپنی زندگی کی ڈور اپنے مرشد کے ہاتھ میں دیدی ہے، اب جیسے اس کی رضا ہو اس پر راضی رہنا چاہیے ۔

مرشد کامل کی اسمِ اللہ ذات کے تصور کے ذریعہ تربیت طالبِ مولیٰ میں تسلیم و رضا کی عادت کو اتنا پختہ کر دیتی ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور فعل پر پیار آتا ہے۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

 

3 تبصرے “تسلیم و رضا |Tasleem o Raza

اپنا تبصرہ بھیجیں