bayat

bayat – تلاشِ حق، بیعت ، سلطان باھو

تلاشِ حق۔بیعت کے لیے  حضرت سخی سلطان باھوؒ کی جدو جہد اور کوشش

تلاشِ حق۔ بیعت

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  مادرزاد ولی تھے اور پھر علومِ باطنی کے حصول کے لئے والدہ محترمہ کا سایہ ہی کافی تھا کیونکہ حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا عارفہ کا ملہ تھیں -آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’میں تیس(30)سال تک مرشد کی تلاش میں سرگرداں رہا لیکن مجھے اپنے پائے کا مرشد نہیں مل سکا۔‘‘

ایک دن دیدارِ الٰہی میں مستغرق آپ رحمتہ اللہ علیہ شورکوٹ کے نواح میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور، صاحبِ حشمت اور بارعب سوار نمودار ہوا جس نے اپنائیت سے پکڑ کرآپ رحمتہ اللہ علیہ کو قریب کیا اور بڑے دلنشین انداز میں آگاہ کیا کہ میں علی ابن ابی طالب(رضی اللہ عنہٗ) ہوں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مولا علی کرم اللہ وجہہ کو دیکھا تو قریب تھا کہ خود کو آپ رضی اللہ عنہٗ  پر نثار کردیتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ پر توجہ مرکوز کی اور فرمایا ’’فرزند آج تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دربار میں طلب کیے گئے ہو۔‘‘

پھر جیسے وقت تھم گیا ہر شے ساکت ہوگئی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمحے میں خود کو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پایا۔ اس وقت اس بارگاہِ عالیہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ، حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ اور تمام اہلِ بیت رضی اللہ عنہم حاضر تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھتے ہی پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے مجلس سے ا ٹھ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کی اور توجہ فرما کر رخصت ہوئے۔ بعدازاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ بھی توجہ کے بعد مجلس سے رخصت ہوگئے تو مجلس میں صرف اہلِ بیتؓ اور رسولِ مقبول رضی اللہ عنہٗ ہی رہ گئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میری بیعت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد فرمائیں گے لیکن بظاہر خاموش تھے۔ مگر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا ’’میرے ہاتھ پکڑو‘‘ اور مجھے دونوں ہاتھوں سے بیعت فرمایا۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک مرتبہ کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ 
 تلقین فرمایا تو درجات اور مقامات کا کوئی حجاب نہ رہا۔ چنانچہ اوّل و آخر یکساں ہوگیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   سے تلقین سے مشرف ہوا تو خاتونِ جنت سیدّۃ النسا حضرت فاطمتہ زہرا رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا’تو میرا فرزند ہے‘۔‘‘

آپ رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے قدم چومے اور اپنے گلے میں ان کی غلامی کا حلقہ پہنا تو نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’مخلوقِ خدا کو خالقِ کائنات کی جانب بلائو اور انہیں تلقین و ہدایت کرو۔ تمہارا درجہ دن بدن بلکہ گھڑی بہ گھڑی ترقی پر ہوگا اور ابدالآباد تک ایسا ہوتا رہے گا کیونکہ یہ حکمِ سروری و سرمدی ہے۔‘ بعدازاں آپ رحمتہ اللہ علیہ کو آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے غوث الاعظم محبوبِ سبحانی پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے سپرد فرمایا۔ حضرت دستگیر رضی اللہ عنہٗ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو باطنی فیض سے مالامال کرنے کے بعد خلقت کو تلقین و ارشاد کا حکم دیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں’’جب فقر کے شاہسوار نے مجھ پر کرم کی نگاہ ڈالی تو ازل سے ابد تک کا تمام راستہ میں نے طے کرلیا۔‘‘

آپ رحمتہ اللہ علیہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہِ عالیہ میں حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’جو کچھ میں نے دیکھا ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا اور اس ظاہری بدن کے ساتھ دیکھا اور مشرف ہوا۔‘‘

رسالہ روحی شریف میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

دست بیعت کرد مارا مصطفیؐ
خواندہ است فرزند مارا مجتبیٰؐ
شد اجازت باھوؒ را از مصطفیؐ
خلق را تلقین بکن بہر خدا

ترجمہ: مجھے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دستِ بیعت فرمایا، حضرت مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ نے مجھے اپنا فرزندبنایا ہے۔ فقیر باھوُ کو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   سے یہ اجازت ملی ہے کہ خلقتِ خدا کو محض اللہ کی خاطر تلقین کروں۔

’عقلِ بیدار‘ میں آپ  رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

خواندہ فرزند من زان فاطمہؓ
معرفتِ فقر است برمن خاتمہ

ترجمہ: حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے مجھے اپنا فرزند بنایا ہے اس لیے معرفتِ فقر کی مجھ پر انتہا ہوگئی۔ 

 ظاہری دستِ بیعت

اس باطنی مہربانی کے بعد جب آپ رحمتہ اللہ علیہ  واپس گھر پہنچے تو والدہ محترمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پورا ماجرا آپ رحمتہ اللہ علیہا کے گوش گزار کیا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہا نے سارا ماجرا سن کر فرمایا ’’اب تمہیں کسی مرشد کامل سے ظاہری دستِ بیعت کرلینی چاہیے۔‘‘ ’’ بیعت تو میں کرچکا ہوں‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہنے جواب دیا ’’اویسی طریقہ کے مطابق مجھے حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے براہ ِراست فیضان حاصل ہوا ہے، سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے مجھے باطنی فیض سے مالا مال کیا ہے اور تلقین وارشاد کی اجازت بھی عطا فرمائی ہے۔‘‘لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ نے فرمایا کہ یہ باطنی بیعت ہے راہ ِفقر میں ظاہری بیعت ضروری ہے اور اس کیلئے مرشد ِکامل تلاش کرو۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے فرمایا ’’ تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے آپ ہی میری مرشد ہیں۔ ‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ نے جواب دیا ’’ بیٹا عورتوں کو بیعت اور تلقین کرنے کا حکم نہیں کیونکہ حضرت فاطمتہ الزہر ا رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا نے بیعت و تلقین نہیںکی۔‘‘ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  نے عرض کیا ’’کہاں تلاش کروں؟‘‘ فرمایا! ’’روئے زمین پر ڈھونڈو‘‘اور اشارہ مشرق کی طرف فرمایا۔ یوں آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشدِ کامل کی تلاش میں ایک بار پھر گھر سے نکل پڑے۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ  تجسس کی مسافت کے راستوں کو طے کرتے مختلف درویشوں اور فقیروں سے ملے لیکن کوئی بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ  کی طلب پوری نہ کرپارہا تھا۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے لا تعداد فقرا سے گڑھ بغداد (میاں چنوں ضلع خانیوال) راوی کے کنارے ایک گائوں میں رہائش پذیر شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ  کا شہر ہ سنا تو ان سے ملاقات کی خواہش دل میں پیدا ہوئی ۔ چنانچہ حضرت شاہ حبیب اللہ قادری  رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کیلئے آپ گڑھ بغداد تشریف لے گئے۔ جیسے ہی خانقاہ میں داخل ہوئے تو دیکھا خانقاہ درویشوں، فقیروں اور خدام سے پرُ ہے ۔ لوگ جوق درجوق ایک جانب آگ پر رکھی پانی سے بھری دیگ میں ہاتھ ڈالتے جاتے ہیں اورمرادیں پاتے جاتے ہیں ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہنے خاموشی سے یہ منظر دیکھا اورچپ چاپ ایک طرف بیٹھ گئے ۔ دفعتاً شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کی نظر آپ رحمتہ اللہ علیہ  پر پڑی تو انہوں نے حضرت سلطان باھو  رحمتہ اللہ علیہ سے کہا ’’تیری ظاہری حالت سے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تو طویل مسافت طے کرکے یہاں تک پہنچا ہے پھر اب خاموش اور علیحدہ کیوں بیٹھا ہے؟اُٹھ تو بھی دیگ میں ہاتھ ڈال کر اپنی مراد پا۔‘‘ فقر کے شہسوار حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہنے خاموشی سے ان کی بات سنی اور ادب سے بولے ’’مجھے کشف وکرامت کے یہ کھلونے متاثر نہیں کرتے اور نہ میری مراد ایسی ہے جو اس طرح بر آئے۔‘‘ حضرت شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے چونک کر آپ رحمتہ اللہ علیہ پر نظر ڈالی اور کہا ’’بے شک تمہاری مراد اور طلب بلند تر ہے لیکن تو یہ بھی جانتا ہے کہ بلند آرزو کی تکمیل کیلئے کٹھن مراحل طے کرنا پڑتے ہیں۔‘‘ حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا ’’بیشک! اور میں نے یہ طویل مسافت بے سبب طے نہیں کی، آپ حکم دیجیے ٔ۔‘‘ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ کچھ دیر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر نظریں جمائے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھتے رہے پھر بولے ’’اچھافی الحال تو حوض میں پانی بھر ۔ ‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے ایک خادم کو بلایا جس نے ایک مشکیزہ لا کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے کردیا۔ حضرت سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ نے وہ مشکیزہ اٹھایا، اسے پانی سے بھرا اور لے جاکر حوض میں ڈالا، حوض ایک ہی مشکیزہ پانی سے لبالب بھر گیا ۔ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ سمیت تمام حاضرین نے حیرت سے آپ رحمتہ اللہ علیہکو دیکھا ۔ پھر شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ سے مخاطب ہوئے:

’’ کیا تو آزمائش کیلئے خود کو آمادہ پاتا ہے ؟‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فوراً آمادگی ظاہر کی ۔ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا ’’تیرے پاس کوئی دنیاوی مال واسباب بھی ہے؟ ‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ اثبات میں سر ہلایا ۔ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ برجستہ بولے ’’ درویش اور دنیاوی مال کا آپس میں کیا تعلق ؟ ایک میان میں دو تلوار یں کیسے رکھی جاسکتی ہیں ۔ تو ایک دل میں دو محبتیں جمع کرنا چاہتا ہے ۔ ‘‘

یہ سن کر حضرت سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ فوراً گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر جا کر انہوں نے تمام مال اکٹھا کیا اور باہر پھینک دیا حتیٰ کہ پنگوڑے میں سوئے ہوئے اپنے شیر خوار بچے کی انگلی سے سونے کی انگوٹھی بھی اتار کر باہر اچھال دی۔ اگلی صبح طویل مسافت طے کرکے گڑھ بغداد پہنچے اور سیدھے شاہ حبیب اللہ  رحمتہ اللہ علیہ  کے سامنے پیش ہوگئے ۔ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں دیکھتے ہی اُٹھ کر ان کا استقبال کیا اوربولے ’’بے شک تو نے دنیاوی مال سے تو نجات حاصل کرلی مگر ابھی عورتوں سے آزادی حاصل نہیں کرپائے ۔ دونوں میں سے کس کا حق ادا کرنے کا ارادہ ہے ؟ خدا کا یا بیویوں کا؟‘‘

یہ سننا تھا کہ حضرت سخی سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ کچھ کہے اور کچھ آرام کیے بغیر ایک بار پھر طویل سفر کیلئے تیارہوگئے۔ ایک بار پھر گھر جا پہنچے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ الہاماً جانتی تھیں کہ آج بیٹا کس غرض سے گھر واپس آیا ہے مگر انجان بنتے ہوئے بولیں ’’ کیوں باھو بیٹے اب کیسے آنا ہوا؟‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے نرمی سے سرجھکا کر مقصد بیان کیا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے قریب بٹھایا اور آہستگی سے مخاطب ہوئیں ’’ اے بیٹا باھو! تمہاری بیویوں کے جو حقوق تم پر ہیں آج سے تم ان سے آزاد ہو اور تمہارے جو حقوق بیویوں کے ذمے ہیں وہ بدستور قائم رہیں گے۔ اگر تم حقیقی معرفت کے حصول میں کامیاب ہوگئے تو بہتر ہے لیکن محض بیویوں کے حقوق پورے کرنے کی خاطر گھر آنے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا اب طلاق کا خیال بھی دل میں نہ لانا ۔ ‘‘ 

والدہ محترمہ کی یہ قابلِ قبول تجویز سن کر آپ رحمتہ اللہ علیہ پرُسکون اور مطمئن انداز میں دوبارہ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ  کے پاس جا پہنچے۔شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا پرُتپاک استقبال کیا اور نظر سے ان پر توجہ کی پھر پوچھا ’’اے باھو! مطمئن بھی ہو؟ کچھ مشاہدہ بھی کیا؟‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ادب سے سر جھکا کر کہا ’’شیخ جو کچھ آج مجھ پرمنکشف ہوا اس سے تو میں پنگوڑے میں ہی آشنا ہوگیا تھا، میری تمنا اس سے زیادہ کی ہے۔‘‘شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے جواب تو نہ دیا البتہ بیٹھے بیٹھے ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ بھی خوب سمجھتے تھے کہ اس عمل کا مقصد امتحان ہی ہے ۔ چنانچہ آپ رحمتہ اللہ علیہ بھی جھٹ ان کے تعاقب میں پہنچے اور ایک کھیت میں ضعیف کاشتکار کی شکل میں شاہ حبیب اللہ  رحمتہ اللہ علیہکو محنت مشقت کرتے پایا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے نزدیک جاکر فرمایا ’’ ضعیفی اور یہ مشقت؟ آپ آرام کریں میں کام کرتا ہوں۔ ‘‘ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے اصل روپ میں آئے اورہنس کر انہیں ساتھ لیا اور آگے بڑھے مگر چند قدم چلنے کے بعد پھر غائب ہوگئے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ان کا تعاقب نہ چھوڑا اور اب کی مرتبہ انہیں ایک آبادی میں ایک بوڑھے برہمن پنڈت کی شکل میں لوگوں کو تلک لگاتے پایا۔ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مسکرا کر نوجوان کی شکل میں ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے ’’ بابا میرا ماتھا تو خالی ہے۔ کیا یہ میرے بھاگ میں نہیں کہ میرے ماتھے پر بھی آپ تلک لگائیں؟‘‘ دوسرے لمحے شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ پھر اپنی اصلی شکل میں حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  کے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ   کا ہاتھ تھاما اور آگے بڑھ گئے مگر تیسری مرتبہ پھر وہی عمل کیا یعنی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے لیکن حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کہاں پیچھا چھوڑنے والے تھے ۔ ان کے پیچھے لپکے اور ایک مسجد میں انہیں جا ڈھونڈا جہاں شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ ایک معمر امام مسجد کے روپ میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ چنانچہ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ بھی جھٹ ایک بچے کے روپ میں قاعدہ پکڑے ان کے سامنے جا بیٹھے اور ایک حرف پر انگلی رکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھنے لگے ’’بابا یہ کیا ہے ؟ ‘‘ اس بار شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ انہوں نے آب دیدہ ہوکر حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کو گلے سے لگالیا اور کہنے لگے ’’بس باھو بہت ہوچکا‘‘ لیکن سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی حالت نہ بدلی۔ آپ بدستور اسی حرف پر انگلی جمائے پوچھنے لگے ’’بابا بتائو یہ کیا ہے؟‘‘ شاہ حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ  بیچارگی سے بولے ’’باھوُ میں تجھے کیا بتاؤں یہ تو میرے بس کا کام نہیں۔تمہارا نصیب حضرت شیخ عبدالرحمن جیلانی قادری کے پاس ہے جو دہلی میں ہیں ۔‘‘

ایک اور روایت کے مطابق غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کو باطنی تربیت کی تکمیل کے بعد سیدّ عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی دستِ بیعت کا حکم دیا۔ سلطان العارفین  رحمتہ اللہ علیہ حکم ملتے ہی فوراً دہلی کی طرف روانہ ہوگئے ۔ ابھی آپ رحمتہ اللہ علیہ دہلی سے دور ہی تھے کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور آگے بڑھ کر حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے پائوں عزت سے چھونے کے بعد عرض کیا کہ اس کو شیخ سیدّ عبدالرحمن قادری نے ان کے استقبال کیلئے روانہ کیا ہے ۔ 29 ذیقعد 1078ھ (11مئی1668) بروز جمعتہ المبارک آپ  رحمتہ اللہ علیہ حضرت شیخ سیدّ عبد الرحمن جیلانی قادری رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ جیسے ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت شیخ سیدّ عبدالرحمن قادری  رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے، وہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو پکڑ کر خلوت میں لے گئے ۔ پس آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مرشد کامل سے اپنا ازلی نصیبہ اسمِ اللہ ذات کی صورت میں ایک قدم میں ہی ایک دم میں پا لیا ۔ جو چاہتے تھے مل گیا اور اسی وقت آپ رحمتہ اللہ علیہ کو رخصت کیا گیا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ الستی فیض سے مستفیض، نعمت سے پرُ اور فیض رسانی کے جذبات سے لبریز تھے ۔ ہر خاص وعام پر توجہ کرنے لگے۔ خلقِ خدا کیلئے آپ نے فیض عام کردیا اورآپ رحمتہ اللہ علیہ کے اردگرد خلقت کا اس قدر ہجوم ہوگیا کہ راستے بند ہوگئے، شہر میں شور مچ گیا۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ حضرت شیخ سیدّعبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو بلایا گیا ۔ حضرت شیخ سیدّ عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ نے جواب طلبی فرمائی ’’ ہم نے تجھے یہ خاص نعمت عنایت کی اور تو نے عام کردی ۔‘‘ عرض کیا ’’ یا پیرو مرشد! جب بڑھیا عورت روٹی پکانے کا توا بازارسے خریدتی ہے تو اسے ٹھونک بجا کر دیکھتی ہے کہ کیسا کام دے گا، آیا درست ہے یا نہیں اور جب ایک لڑکا لکڑی کی کمان خریدتا ہے تو اسے کھینچ کر دیکھتا ہے کہ اس میں لچک کافی ہے کہ نہیں ۔ پس آپ سے جو نعمتِ عظمیٰ حاصل کی میں نے بھی اس نعمت کی آزمائش کی کہ مجھے آپ سے کس قدر نعمت حاصل ہوئی ہے۔ پس حضرت سیدّ المرسلین احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور سے مجھے حکم ہوا ہے کہ خلقِ خدا کو تلقین کروںاور فیض کو عام کروں۔ انشاء اللہ قیامت تک یہ نعمت ترقی پر ہوگی ۔‘‘ حضرت شیخ سیّد عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہیہ دلیل سن کر مسکرااُٹھے اور کہنے لگے ’’باھو! میں تجھے منع نہیں کرتا مگر اس کا خیال رکھا کر کہ ہر شخص اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘ اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ  دہلی کی جامع مسجد میں تشریف لے گئے ۔ اورنگزیب ارکانِ حکومت سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی میں مشغول تھا ۔ مسجد میں اس قدر بھیڑ تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اس لئے حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سب سے پیچھے جہاں جوتیاں رکھتے ہیں، کھڑے ہوگئے۔ جب آپ رحمتہ اللہ علیہ نے توجہ کی تو تمام مسجد میں شور اور وجد برپا ہوگیا ۔ یہاں تک کہ صرف تین آدمی اورنگ زیب، قاضی اور کوتوال جذبہ کی تاثیر اور نگاہ کے اثر سے محجوب رہے۔ جیسے ہی حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے توجہ منقطع کی اور مجمع اپنی حالت میں واپس آیا تو وہ تینوں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  کے پاس آئے اور پوچھنے لگے ’’ہمیں کیو ںنعمت سے محروم رکھا گیا ؟‘‘ آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’ ہم نے توجہ یکساں کی تھی ۔ تم پر اس واسطے اثر نہیں ہوا کہ تمہارے دل سخت تھے ۔ ‘‘ انہوں نے دست بستہ ہو کر فیض کیلئے التجا کی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’ اس کیلئے یہ شرائط ہیں کہ تم اور تمہاری اولاد، ہماری اولاد اورپس ماندگان کیلئے دنیاوی مال ومتاع سے مروّت نہ کریں اورہمارے مکان اور گھر نہ آئیں تاکہ تمہارے دنیاوی امور کے سبب ہمارے عیال اور اولاد میں دنیاوی جھگڑے اور فساد نہ پڑ جائیں ۔‘‘ 

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اورنگزیب سے یہ اقرار لیکر اس پر توجہ کی اور خاص فیض تک پہنچایا۔ بعد ازاں جب وہاں سے روانگی کا ارادہ کیا تو اورنگزیب نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے یادگار کیلئے التجا کی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے وہیں کھڑے کھڑے کتاب ’’اورنگ شاہی ‘‘ تصنیف فرمائی جسے شاہی محرروں نے اسی وقت تحریر کرلیا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں