انسانِ کامل یا فقیرِ کامل Insan e Kamil

انسانِ کامل یا فقیرِ کامل

راہِ فقر میں اپنی ہستی کو اللہ پاک کی ذات میں فنا کر کے بقا باللہ ہو جانا عارفین کا سب سے اعلیٰ اور آخری مقام ہے۔ یہاں پر وہ دوئی کی منزل سے بھی گزر جاتے ہیں۔ حدیثِ نبویؐ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا (مرنے سے پہلے مر جاؤ) میں اسی مقام کی طرف اشارہ ہے۔ فقر کے اس انتہائی مر تبہ کومقامِ فنا فی ھوُ، وحدت، فقر فنا فی اللہ بقاباللہ یا وصالِ الٰہی کہتے ہیں اور یہ مقامِ توحید بھی ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان سراپا توحید ہو جاتا ہے۔ انسانی عروج کا یہ اعلیٰ ترین مقام ہے۔ عام اصطلاح میں اس مقام تک پہنچنے والے انسان کو ’’انسانِ کامل‘‘ یا ’’فقیرِکامل‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن فقرا اور عارفین نے اپنی تصنیفات میں اس مقام کو مختلف ناموں سے موسوم کیا ہے۔
ارشاد ِنبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ 
ترجمہ: جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہی اللہ ہے۔
جب طالب فقر کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو جملہ صفاتِ الٰہی سے متصف ہو کر انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ کائنات کے تمام مراتب میں سب سے اکمل ’’انسان‘‘ ہے اور جملہ افرادِ انسانی میں خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے اکمل و ارفع ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مظہرِ اُتم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی انسانِ کامل ہیں اور آپ ہی حق تعالیٰ کے خلیفہ برحق ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد آپ کے نائبین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے یہ مرتبہ حاصل ہوا۔ دنیا میں ہر وقت ایک شخص قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہوتا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا باطنی نائب ہوتا ہے اور انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔ وہ امانتِ الٰہیہ، خلافتِ الٰہیہ کا حامل ہوتا ہے اور کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ اس ’’انسانِ کامل‘‘ کی وساطت سے چلاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اسے ہی مرشد کامل اکمل فرماتے ہیں۔ انسانِ کامل پر فقر کی تکمیل ہوتی ہے اور اس مرتبہ پر اس صاحبِ فقر کی اپنی ہستی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ’میں اور تو‘ کا فرق مٹ جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے یکتائی کے اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے جہاں دوئی نہیں ہوتی۔ حدیثِ قدسی کے مطابق اس کا بولنا اللہ کا بولنا ہوتا ہے، اس کا دیکھنا اللہ کا دیکھنا، اس کا سننا اللہ کا سننا، اس کا چلنا اللہ کا چلنا اور اس کا پکڑنا اللہ کا پکڑنا ہوتا ہے۔ اس مقام کی طرف علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:

ہاتھ ہے اﷲ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کشا کار ساز
خاکی و نوری نہاد، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی، اس کا دل بے نیاز
(بالِ جبریل)

غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:
اے بندے! جب تو مقامِ فنا پر پہنچے گا تو تجھ پر تکوین (امرِکن کا اِذن) وارد کی جائے گی یعنی فنائیت کے بعد موجود کرنا اور کائنات پیدا کرنا تیرے سپرد کیا جائے گا اور عالم میں تصرف کرنے کی طاقت تجھے عطا کی جائے گی جس کی بدولت تو جہان میں تصرف کرے گا۔ (فتوح الغیب)
اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا ’’میرے نزدیک فقیر (انسانِ کامل) وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہیں بلکہ فقیر وہ ہے جس کا امر ہر شے پر نافذ ہو اور جب وہ کسی شے کے لیے کہے ’ہوجا‘ تو وہ ہو جائے۔‘‘ (الرسالۃ الغوثیہ)

فقر کی اسی منزل پر جب حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ پہنچے تو آپؒ نے فرمایا:
فقر کی منزل پر بارگاہِ کبریا (حق تعالیٰ) سے حکم ہوا ’’تو ہمارا عاشق ہے‘‘، اس فقیر نے عرض کی ’’عاجز کو حضرتِ کبریا کے عشق کی توفیق نہیں ہے۔‘‘ فرمایا ’’تو ہمارا معشوق ہے۔‘‘ یہ عاجز پھر خاموش ہو گیا تو حضرتِ کبریا کے انوارِ تجلی کے فیض نے بندے کو ذرے کی طرح استغراق کے سمندر میں مستغرق کر دیا اور فرمایا ’’تو ہماری ذات کی عین ہے اور ہم تمہاری عین ہیں، حقیقت میں تو ہماری حقیقت ہے اور معرفت میں توہمارا یار ہے اور ’ھو‘ میں ’یاھو ‘ کا سرّہے۔‘‘ (رسالہ روحی شریف) 
یہاں ’ھو‘ سے مراد ’ذاتِ حق تعالیٰ‘ ہے اور ’یاھوُ‘ سے مراد حقیقتِ محمدیہ ہے اور ’سِرّ‘ سے مراد تکمیلِ باطن اور وصالِ الٰہی ہے یعنی مقامِ فنا فی ھوُ (فنا فی اللہ بقاباللہ) ہے جہاں پر انسان کامل ہو کر تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہوتا ہے۔

انسانِ کامل کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
چونکہ اللہ تعالیٰ کے نور مبارک سے جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور مبارک ظاہر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام مخلوق کا ظہور ہوا اس لئے انسان کی اصل نور ہے اور عمل کے مطابق جس کا نفس، قلب اور روح تینوں نور بن جاتے ہیں اسی کو انسانِ کامل کہتے ہیں۔ (عقلِ بیدار)
انسانِ کامل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور دیگر تمام (فقرا کاملین) آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلے سے مراتب بمراتب (وصالِ الٰہی اور کاملیت کے) اس مقام پر پہنچے۔ (عین الفقر)
کامل انسان ہمیشہ اللہ اور اس کے دیدار کا طالب ہوتا ہے جبکہ ناقص احمق کی طرح ہمیشہ بدبودار مردار دنیا کا طالب ہوتا ہے۔ (امیر الکونین)
 پس انسانِ کامل کا وجود ایک طلسمات اور اسم و مسمیّ کا گنج معمہّ ہوتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

یہاں آپؒ نے انسانِ کامل کے وجود کو طلسمات فرمایا ہے کیونکہ وہ مظہر عجائب الغرائب ہے اور اسم (اللہ) سے مسمٰی (ذاتِ الٰہی) کو پا لینے کا راز جانتا ہے۔ اس کا وجود اسرارِ الٰہیہ کا ایک خزانہ (گنج) ہے۔ جس طرح کسی خزانہ تک معمہ حل کر کے پہنچا جاسکتا ہے اسی طرح انسانِ کامل کو پہچاننا بھی ایک معمہ ہے اور جو اس معمہ کو حل کر لیتا ہے وہی انسانِ کامل کی حقیقت تک پہنچتا ہے اور اسرارِ الٰہیہ کو پا لیتا ہے۔ انسانِ کامل کی حقیقت کی پہچان ادراکِ قلبی سے ہوتی ہے اور اس کی پہچان سے محروم انسان کو حدیثِ مبارکہ میں جاہل قرار دیا گیا ہے:
مَنْ مَاتَ وَ لَمْ یَعْرِفْ
اِمَامِ زَمَانِہٖ مَاتَ مَیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً 
ترجمہ: جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اپنے زمانہ کے امام کو (ادراکِ قلبی سے) نہ پہچانا وہ جہالت کی موت مرا۔
انسانِ کامل کی پہچان کے لئے تصورِ اسمِ اللہ ذات ہی ایک ذریعہ ہے۔ اسمِ اللہ ذات کے تصور کے بغیر انسانِ کامل کی پہچان ناممکن ہے کیونکہ انسانِ کامل کی منزل تک بھی اسمِ ذات ہی پہنچاتا ہے اگر یہ صاحبِ مسمٰی(انسانِ کامل) سے حاصل ہوا ہو۔

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

مردِ میدان زندہ از  اللّٰہ ھُو است
زیر پائے او جہانِ چار سو است
(مثنوی)

ترجمہ: مردِ میدان (انسانِ کامل) اللّٰہ ھُو (اسم ِذات) سے زندہ ہے اور یہ جہانِ چار سو اس کے قدموں کے نیچے ہے۔

سلسلہ سروری قادری میں جب طالب ھوُ میں فنا ہو کر فنا فی ھوُ ہو جاتا ہے اور اس کے ظاہر و باطن میں ھوُ کے سوا کچھ نہیں رہتا تو یہ ہے مقامِ ’’ہمہ اوست در مغزو پوست‘‘ اور اسی مقام کا حامل ہوتا ہے سلسلہ سروری قادری کا امام۔ وہی ہے امامِ زمانہ، وہی ہے انسانِ کامل اور فقیر مالک الملکی، وہی ہے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ اور وہی حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اس زمانے میں خلیفہ اور نائب ہوتا ہے۔ یعنی حقیقتِ محمدیہ ہر زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائب، خلیفہ اور جانشین کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۔  (سورۃ یٰسٓ۔12)
ترجمہ:اور ہر چیز کو جمع کر رکھا ہے ہم نے امامِ مبین میں۔
اس آیت میں ’امامِ مبین‘ سے مراد انسانِ کامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر امر، حکم اور اپنی پیدا کردہ کل کائنات کو ایک لوحِ محفوظ جو کہ انسانِ کامل کا قلب ہے، میں محفوظ کر رکھا ہے۔ انسانِ کامل کا قلب وہ جگہ ہے جہاں انوارِ ذات نازل ہوتے ہیں اور اسکی وسعت کا بیان و اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
قَلْبُ الْمُؤْمِنِ عَرْشُ اللّٰہِ تَعَالٰی 
ترجمہ: مومن کا قلب اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یَسَعُنِیْ اَرْضِیْ وَ لَا سَمَائِیْ وَلٰکِنْ یَّسَعُنِیْ قَلْبُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ (حدیث ِقدسی)
ترجمہ: نہ میں زمین میں سماتا ہوں اور نہ آسمانوں میں لیکن بندہ مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں۔
انسانِ کامل اللہ تعالیٰ کا مظہر اور مکمل آئینہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوارِ ذات و صفات اور اسما و افعال کا انعکاس کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی جمیع صفات سے متصف اور اس کے جملہ اخلاق سے متخلق ہوتا ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے سب سے پہلے اپنی کتاب ’’مرآۃ العارفین ‘‘میں انسانِ کامل کی اصطلاح استعمال کی۔ آپؓ فرماتے ہیں:
ذاتِ حق اور ذاتِ انسانِ کامل میں بسبب کلیت اور اجمال کے مشابہت ہے بسبب اشیا کے ان دونوں میں بوجہ کلی اور اجمالی طور پر موجود ہونے کے۔ علم ِحق اور علم ِانسانِ کامل میں مشابہت ہے اسی لیے کہ دونوں علم اس چیز کی تفصیل کے مظہر ہیں جو دونوں میں مجمل ہے۔ پس انسانِ کامل اس مشابہت کے سبب ذاتِ حق تعالیٰ کے لیے مرآۃِ تامہ (مکمل باصفا آئینہ ) ہے اور ذات اس (مرآۃِ تامہ انسانِ کامل) پر کلی اور اجمالی طور پر متجلی ہے۔ اور علمِ انسانِ کامل علم حق کا آئینہ ہے اور علمِ حق اس پر متجلی اور اس میں سے ظاہر ہے۔ پس وہ چیز جو کلی اور اجمالی طور پر ذات میں درج ہے سو وہی کلی اور اجمالی طور پر انسانِ کامل میں بھی درج ہے اور وہ چیز جو علم ِحق میں جزئی اور تفصیلی صورت میں ظاہر ہے سو وہی بیچ علم ِانسانِ کامل کے جزئی اور تفصیلی صورت میں ظاہر ہے۔ بلکہ علمِ انسان علمِ حق ہے اور ذاتِ انسان ذاتِ حق ہے، بغیر اس کے کہ اُس کا اس سے اتحاد ہے اور بغیر اس کے کہ اس کا اس میں حلول ہے اور بغیر اس کے کہ یہ وہ ہو جائے، اس لیے کہ یہ امر محال ہے۔ اس لیے کہ اتحاد دو وجودوں سے حاصل ہوتا ہے، اسی طرح حلول اور صیرورۃبھی (دو وجودوں میں پائی جاتی) ہے لیکن یہاں وجودِ واحد کے سوا کچھ نہیں ہے۔  (مرآۃ العارفین)

شیخِ اکبر حضرت محی الدین ابن ِ عربی ؒ نے اپنی تصانیف ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ اور ’’فصوص الحکم‘‘ میں انسانِ کامل کے جو اوصاف تحریر کیے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
۱۔ انسانِ کامل، اکمل موجودات ہے۔
۲۔واحد مخلوق ہے جو مشاہدے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لاتی ہے۔ 
۳۔ صفاتِ الٰہیہ کا آئینہ ہے۔ 
۴۔مرتبہ حد ِ امکان سے بالا اور مقامِ خلق سے بلند ہے۔ 
۵۔حادثِ ازلی اور دائمِ ابدی اور کلمہ فاصلہ جامعہ ہے۔
۶۔حق تعالیٰ سے اسے وہی نسبت ہے جو آنکھ کو پتلی سے ہے۔
۷۔ عالم کے ساتھ اس کی نسبت انگشتری میں نگینے کی مانند ہے۔ 
۸۔ رحمت کی جہت سے اعظم مخلوقات ہے۔ 
۹۔ انسانِ کامل عالم کی روح ہے اور عالم اس کا قالب۔
۱۰۔ انسانِ کامل ربوبیت اور عبودیت کا جامع ہے۔ اگر اللہ واحد ہے تو اس کا خلیفہ (انسانِ کامل) بھی (دنیا میں) واحد ہے۔ 
۱۱۔ عالم میں موجود ہر شے حق تعالیٰ کے کسی نہ کسی اسم کی مظہر ہے اور وہی اسم اس کا ربّ ہے اور انسانِ کامل حق تعالیٰ کے اسمِ جامع اسمِ اللہ   کا مظہر ہے جو سب اسمائے الٰہی کا ربّ ہے پس ربّ الارباب ہے پس ربّ العالمین ہے۔
۱۲۔ حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانِ کامل کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ دونوں ہاتھوں سے مراد جلال اور جمال کی دونوں صفات ہیں۔ پس حضرت انسانِ کامل جو مدبرِعالم ہے، عالم کی روح ہے لہٰذا غائب ہے۔ اگرچہ خلیفہ کی صورت میں ظاہر میں موجود ہے لیکن سوائے خاص اولیا کے اس کوکوئی نہیں پہچانتا لہٰذا غائب ہے۔ خلیفہ سے مراد قطبِ زماں ہے اور وہ اپنے وقت کا سلطان ہے۔ 
۱۳۔چونکہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں نہ رسول جو نئی شریعت لائے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد ہر زمانہ میں ایک ایسا فردِ کامل ہوتا رہے گا جس میں حقیقتِ محمدیہ کا ظہور ہوگا اور وہ فنا فی الرسول کے مقام سے مشرف ہوگا۔ وہ فردِ کامل قطب ِ زمان ہے اور ہر زمانہ میں ایک ولی اس منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔ 
۱۴۔ حضور سرورِ کونین نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جملہ موجودات میں سرایت اس طرح ہے جس طرح اشجار میں پانی کی سرایت ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور کائنات میں ہر شے کی بنیاد ہے)۔ جس شجر کی جڑ سے پانی خشک ہوجاتا ہے وہ خشک ہو جاتا ہے۔ 
۱۵۔ہر زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ازل سے لے کر ابد تک اپنا لباس بدلتے رہتے ہیں اور اکمل افراد کی صورت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی جلوہ نما ہوتے ہیں۔
۱۶۔ چونکہ اسمِ اللہ ذات جامع جمیع صفات و منبع جمیع کمالات ہے لہٰذا وہ اصل تجلیات و ربّ الارباب کہلاتا ہے اور اس کا مظہر جو عین ثانیہ ہوگا وہ عبدا ﷲ عین الاعیان ہوگا۔ ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رہتاہے جو اپنے زمانے کا عبداﷲ ہوتاہے۔ اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں جو عبداﷲ یا محمدی المشرب ہوتا ہے۔ وہ بالکل بے ارادہ تحتِ امر و قرب و فرائض میں رہتاہے، اﷲ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتاہے اسکے توسط سے کرتاہے۔
۱۷۔پس ازل سے ابد تک انسانِ کامل ایک ہی ہے اور وہ ذات صاحبِ لو لاک سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک ہے جو آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک کے تمام رسولوں، نبیوں، خلیفوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہی ہے اور ختمِ نبوت کے بعد غوث، قطب، ابدال، اولیا اللہ کی صورت میں علیٰ قدر مراتب ظاہر ہوتی رہے گی۔ 

حضرت شیخ موید الدین جندی رحمتہ اللہ علیہ سورۃ فاتحہ کی شرح کرتے ہوئے اسم اللہ  کے بارے میں تفسیر روح البیان میں فرماتے ہیں:
اسمِ اعظم جس کا ذکر مشہور ہوچکا ہے اور جس کی خبر چار سو پھیل گئی ہے وہ حقیقتاً و معناً عالمِ حقائق و معنی سے ہے اور سورۃً و لفظاً عالمِ صورت و الفاظ سے ہے۔ جمیع حقائقِ کمالیہ سب کی سب احادیث کا نام حقیقت ہے اور اس کے معنی وہ انسانِ کامل ہے جو ہر زمانہ میں ہوتاہے یعنی وہ قطب الاقطاب اور امانتِ الٰہیہ کا حامل اﷲ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتاہے اور اسم ِاعظم کی صورت اس ولی کامل (انسانِ کامل) کی ظاہری صور ت کا نام ہے۔  

حضرت سید عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ اپنی تصنیف انسانِ کامل میں فرماتے ہیں:
وجودِ تعینات میں جس کمال پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم متعین ہوئے ہیں کوئی اور شخص متعین نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق، احوال، افعال اور اقوال اس امر کے شاہد ہیں کہ آپ ان کمالات میں منفرد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انسانِ کامل ہیں اور باقی انبیا و اولیا اکمل صلوٰۃ اللہ علیہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسے ملحق ہیں جیسے کامل اکمل سے ملحق ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ وہ نسبت رکھتے ہیں جو فاضل کو افضل سے ہوتی ہے لیکن مطلق اکمل انسان حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک ہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بالاتفاق انسانِ کامل ہیں۔

انسانِ کامل وہ ہے جو بمقتضائے حکم ِ ذاتی بطور مِلک و اصالت اسمائے ذاتی و صفاتِ الٰہی کا مستحق ہو۔ حق کیلئے اس (انسانِ کامل) کی مثال آئینے کی سی ہے کہ سوائے آئینہ کے کوئی شخص اپنی صورت نہیں دیکھ سکتا اور نہ انسان کیلئے ممکن ہے کہ سوائے اسمِ اللہ  کے آئینہ کے، کہ وہ اس کا آئینہ ہے، اپنے نفس کی صورت دیکھ سکے اور انسانِ کامل بھی حق کا آئینہ ہے اس لئے حق تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ سوائے انسانِ کامل کے اپنے اسما و صفات کو کسی اور چیز میں نہ دیکھے۔ وہی امانت ِ الٰہیہ کا حامل ہے اور یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول کے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْھَا وَ حَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا(سورۃ الاحزاب۔172)
ترجمہ: ہم نے اپنی امانت آسمانوں، زمین اورپہاڑوں پر پیش کی تو سب نے اس بارِ امانت کو اٹھانے سے عاجزی ظاہر کر دی لیکن انسان نے اسے اٹھالیا۔ بے شک وہ (اپنے نفس کے لیے) ظالم اور نادان ہے۔

انسانِ کامل قطبِ عالم ہے جس کے گرد اوّل سے آخر تک وجود کے فلک گردش کرتے ہیں اور وہ جب وجود کی ابتدا ہوئی اس وقت سے لے کر ابدالآباد تک ایک ہی شے ہے۔ پھر اس کے لیے رنگا رنگ لباس ہیں اور باعتبار لباس کے اس کا ایک نام رکھا جاتا ہے کہ دوسرے لباس کے اعتبار سے اس کا وہ نام نہیں رکھا جاتا۔ اس کا اصلی نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ اس کی کنیت ابو القاسم، اس کا وصف عبد اللہ اور اس کا لقب شمس الدین ہے۔ باعتبار دوسرے لباسوں کے اس کے نام ہیں۔ پھر ہر زمانہ میں اس کا ایک نام ہے جو اس زمانہ کے لائق ہوتا ہے۔

حقیقتِ محمدیہ ہر زمانہ میں اس ز مانہ کے اکمل کی صورت میں اُس زمانہ کی شان کے مطابق ظاہر ہوتی ہے۔ یہ انسانِ کامل اپنے زمانہ میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خلیفہ ہوتا ہے۔

انسانِ کامل کے بارے میں کپتان ڈبلیو بی سیال لکھتے ہیں:
مقامِ فنا فی اﷲ میں رہ کر بحرِ ذات و صفاتِ الٰہی میں غوطے لگا کر بندئہ مومن بمصداق حدیث ِقدسی ’’یَسْمَعُ وَ یُبْصِرُ‘‘حق تعالیٰ کی صفات سے متصف ہوتا ہے۔ اس مقام کی طرف ایک اور حدیث سے بھی اشارہ ہوتاہے جس میں کہاگیا ہے تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ  (ترجمہ: ﷲ کے اخلاق سے متخلق ہو جاؤ)۔ جب صفاتِ الٰہی سے بندۂ مومن متصف ہوکر واپس بقا کی حالت کی طرف آتاہے تو بحیثیت انسانِ کامل خلافتِ الٰہیہ کا تاج اس کے سر پر رکھا جاتا ہے۔ یہ مقام انسانی عروج کا بلند ترین مقام ہے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاصہ ہے۔ یہ عبدیت کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ فنا میں رہ کر آدمی ہمیشہ کیلئے غرق ہوجاتا ہے۔ (روحانیت اور اسلام)

اقبالؒ اس کو یوں بیان کرتے ہیں:

قلب را از صبغتہ،اللّٰہ   رنگ دہ
عشق را ناموس و نام و ننگ دہ
(اسرارِ خودی)

ترجمہ: اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ لے اور اس طرح اپنے عشق کو عزت و احترام دے۔

مسلمان بندہ مولا صفات است
دِل او سرّے از اسرارِ ذات است
جمالش جز بہ نورِ حق نہ بینی
کہ اصلش در ضمیرِ کائنات است
(ارمغانِ حجاز)

ترجمہ: مسلمان بندہ (انسانِ کامل) صفاتِ الٰہیہ سے متصف ہوتا ہے اور اس کا باطن اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ اُس کا جمال نورِ حق سے روشن آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے۔ اس (انسانِ کامل)کی جڑ کائنات کے ضمیر (روح) میں ہے یعنی وہ کائنات کے ہر راز سے آگاہ ہوتا ہے۔

مولانا رومؒ فرماتے ہیں:

عشق آں شعلہ است کہ چوں بر افروخت
ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
تیغِ لا در قتل غیر حق براند
در نِگر زاں پس کہ بعد لا چہ ماند
(مثنوی)

ترجمہ: عشق وہ شعلہ ہے کہ جب روشن ہوا تو ماسویٰ معشوق سب کچھ جل گیا۔ اُس نے ’’غیر اللہ‘‘ پر جب لا کی تلوار چلائی تو ذرا سوچ لا کے بعد باقی کیا رہ گیا۔

  حضرت شاہ شمس تبریزؒ فرماتے ہیں:

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جان شدی
تاکس نگوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

ترجمہ: میں توُ ہوگیا اور توُ میں ہوگیا، میں جسم ہو گیا تو اس کی جان۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اورتُو اور۔

  حضرت فرید الدین عطار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

دریں دریا کہ من ہستم، نہ من ہستم نہ دریا ہم
نہ داند ہیچ کس ایں سرّ، مگر آں کس چنیں باشد

ترجمہ: وہ دریا جس میں کہ میں ہوں، نہ میں ہو ں نہ وہ دریا۔ اس راز سے کوئی واقف نہیں سوائے اس کے جو اس جیسا ہو گیا ہے۔

مرتبۂ وحدت یعنی فنا فی اللہ بقا باللہ تک کیسے رسائی حاصل ہو سکتی ہے؟

مراتب تین قسم کے ہیں: فنا فی الشیخ، فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ، ان مراتب تک پہنچنے کیلئے مرشد سے عشق ضروری ہے۔ اسے فقر میں عشقِ مجازی کہا جاتا ہے اور عشقِ مجازی ہی عشقِ حقیقی تک راہنمائی کر تاہے۔

عارفین یا فقرا کاملین کے نزدیک عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) کے زینہ کے ذریعہ ہی ہم عشقِ حقیقی (اللہ تعالیٰ کے عشق) تک پہنچ سکتے ہیں۔ عام طور پر عشقِ مجازی عورت کے کسی مرد یا مرد کے کسی عورت سے عشق کو سمجھا جاتا ہے، جو بالکل لغو اور شیطانی کھیل ہے۔ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ راہِ فقر میں عشقِ مجازی سے مراد عشقِ مرشد ہے۔ عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) کے لیے عام سلاسل میں یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ طالب (مرید) کو تصورِ مرشد کے لیے کہا جاتا ہے بلکہ آج کل تو کچھ پیروں نے باقاعدہ اپنی تصاویر بھی تصور کے لیے دینا شروع کر دی ہیں۔ طالب ہر وقت اپنے مرشد کے تصور اور خیالوں میں مگن رہتا ہے۔ اس طریقہ میں استدراج اور دھوکہ ہو سکتا ہے اور آج کے پرُفتن دور میں سو فیصد ہوتا بھی دھوکہ ہی ہے کیونکہ یہ تو انسانی جبلت ہے کہ وہ جس انسان کے تصور میں ہر وقت محو اور جس کے خیالوں میں ہر وقت مگن رہتا ہے اُسے اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔ پھر یہ شرک اور بت پرستی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ سلسلہ سروری قادری میں یہ طریقہ کبھی بھی نہیں رہا اور نہ ہی یہ سلسلہ درجات یعنی عالمِ ملکوت، جبروت اور سدرۃ المنتہیٰ کی سیر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی ابتدا اور انتہا ہے ہی عشق کیونکہ اس میں دیدارِ الٰہی ہے اور دیدار عشق کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ جو اللہ تعالیٰ سے نظر ہٹا کر عالمِ ملکوت و جبروت کے نظاروں میں کھو گیا اس کا دیدار و معرفتِ الٰہی کا سفر ختم ہو گیا۔ عشق والے اللہ کے سوا نہ کسی اور کی طلب کرتے ہیں اور نہ کسی طرف دھیان کرتے ہیں۔ سلسلہ سروری قادری میں عشقِ الٰہی کے سفر میں عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) تصور ِاسمِ اللہ  ذات سے حاصل ہوتا ہے۔ بشرطیکہ اسمِ اللہ ذات کسی صاحبِ مسمّٰی مرشد سے حاصل ہوا ہو۔ طالب جب اسمِ اللہ ذات کا تصور شروع کرتا ہے تو سب سے پہلے اُسے اسمِ اللہ ذات سے تصورِ مرشد حاصل ہوتا ہے۔ اس طریقے میں استدراج اور دھوکہ بالکل نہیں ہے کیونکہ مرشد کا تصور اسمِاللہ ذات سے حاصل ہو رہا ہے اور اسمِ اللہ ذات سے حق ہی حاصل ہوتا ہے۔ اصول تو یہ ہے کہ جس کا تصور کیا جائے اُسی کا تصور پختہ ہوتا ہے لیکن یہاں تو ابتدائی منزل پر اسمِ اللہ ذات کا تصور کیا جارہا ہے اور حاصل مرشد کا تصور ہو رہا ہے۔ اسی سے طالب کو یقین ہوجاتا ہے کہ میرا مرشد کامل ہے اور خود اسمِ اللہ ذات کی صورت ہے۔ یہاں سے عشقِ مجازی (عشق ِ مرشد) کا آغاز ہوتا ہے، پھر عشقِ مرشد سے یہ عشق آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق اور اس کے بعد عشقِ حقیقی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور طالب دریائے وحدت میں غرق ہو جاتا ہے۔ کامل مرشد خود فنا فی اللہ بقا باللہ، وصالِ الٰہی اور وحدت کے مقام پر ہے لہٰذا طالب جب مرشد کے عشق کی بدولت اس میں فنا یعنی فنا فی الشیخ ہو جاتا ہے تو اسے ازخود ہی وصالِ الٰہی یا وحدت حاصل ہو جاتی ہے، طالب کو کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ راہِ فقر میں تمام کاوش اور کوشش کا مقصد مرشد میں فنا ہونا ہے پھر وحدت تک رسائی اپنے آپ ہو نے والا عمل ہے۔ سب سے پہلے مرشد کی سطح پر وحدت حاصل ہوتی ہے جس میں مرید مرشد کی ہستی میں فنا ہو کر اپنی انفرادی ہستی ختم کرکے سیرت و کردار اور صورت میں مرشد کی مثل ہو جاتا ہے۔ مرشد چونکہ پہلے ہی وحدت کی صورت ہو تا ہے اس لئے طالب کو وحدتِ حق تعالیٰ تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

    فنا فی الشیخ کے بارے میں حضرت سخی سلطان با ھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد کامل جس طالب کو تصورِ اسم  اللہ ذات کی تلقین فرماتا ہے اسے فنا فی الشیخ کر کے اپنا وجود عطا کرتا ہے اور مرتبہ ٔ نعم البدل پر پہنچا دیتا ہے۔  (نورالہدیٰ کلاں)
جان لے کہ فنا فی الشیخ ایک عظیم الشان مرتبہ ہے۔ بعض ایسے احمق ہوتے ہیں جو فنا فی الشیطان کے مرتبے پر ہوتے ہیں (لیکن خود کو فنا فی الشیخ سمجھتے ہیں) اور ہمیشہ پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں ۔ مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم شیخ کا جسم، طالب کی گفتگو شیخ کی گفتگو، طالب کے احوال شیخ کے احوال بن جاتے ہیں۔ عادات و خصائل میں، صورت میں، سیرت میں طالب اپنے شیخ جیسا ہو جاتا ہے اور سر سے لیکر قدموں تک طالب کا وجود شیخ کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ ( نورالہدیٰ کلاں)

سلسلہ سروری قادری میں فنا فی الشیخ کے یہ تمام مراتب مرشد کامل کی نگاہ اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتے ہیں۔اس کے بعد مرشد ِکامل باطن میں طالبِ مولیٰ کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیتا ہے۔ یہ مرتبہ بھی صرف مرشد کی مہربانی اور تصور اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتا ہے۔ 
 یاد رکھنا چاہیے کہ راہ ِ فقر میں سب سے مشکل مقام فنا فی الشیخ ہے۔ جس نے اس کو طے کرلیا اس نے سب مقامات کو طے کر لیا کیونکہ مرشد پہلے ہی وحدت کی صورت (فنا فی اللہ بقاباللہ) ہوتا ہے۔ جیسے ہی طالب ِصادق فنا فی الشیخ ہو تا ہے وہ خود بخود ہی فنا فی اللہ اور بقاباللہ کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے جس کے بعد مقامِ وحدت پر فائز ہونے پر انسانِ کامل کا تاج اس کے سر پر رکھا جاتا ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ساغر از توحید وحدت نوش کن
دنیا و عقبیٰ ہر دو را فراموش کن

ترجمہ: توحید پر پہنچ کر وحدت کا جام پی لے اور دنیا و عقبیٰ دونوں کو بھول جا۔ (عین الفقر)

جو توحید میں غرق ہو کر یکتا ہو جائے وہ ریا سے پاک ہو کر شوق کے ساتھ مست اور مسرور رہتا ہے۔ یہ مردانِ خدا کے مراتب ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)

سلطان العارفین سلطان باھوؒ اور مقامِ وحدت

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ انسانِ کامل کے مقامِ فنا فی ھوُ، وحدت، فنافی اللہ بقا باللہ اور وصالِ الٰہی کے بارے میں اپنی تصانیف میں فرماتے ہیں: 
ذکرِ ھو کرتے کرتے جب ذاکر کے وجود پر اسمِ ھوُ غالب آکر اُسے قبضے میں لے لیتا ہے تو اس کے وجود میں ھُو کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ (محک الفقر کلاں)
جب عارف واصل فنا فی اللہ اسمِ اللہ ذات کے برزخ کو تصور سے اپنے دل پرنقش کرتا اور اسے دیکھتا ہے تو اس کا جسم اسمِ اللہ ذات میں غائب ہو جاتا ہے ۔ اسے پتہ چل جاتا ہے کہ جسم اسمِ  اللہ ذات میں فنا ہو کر غائب ہو گیا اور اسمِ اللہ ذات ظاہر ہو گیا ہے۔ پھر وہ ظاہر اور باطن میں مشاہدہ اسمِ  اللہ ذات میں اس قدر مگن رہتا ہے کہ اس کے وجود میں ذکر کی لذت باقی نہیں رہتی۔ (عین الفقر)

واصلان را بس بود نامِ خدا
روز و شب با عشق وحدتِ کبریا

ترجمہ: واصلانِ حق کے لیے بس اللہ کا نام ہی کافی ہے کیونکہ یہ انہیں دن رات وحدتِ باری تعالیٰ کے عشق میں غرق رکھتا ہے۔ (عین الفقر)

سِرّ وحدت چیست دانی فنا فی اللہ فنا
از خود توحیدش دور ماند سر ہوا

ترجمہ: سر وحدت کیا چیز ہے؟ یہ فنا فی اللہ فنا کا مقام ہے۔ جو آدمی توحید کے اس مقام سے دور ہو گیا وہ ہوائے نفس کا غلام ہو گیا۔ (محک الفقر کلاں)

جو شخص مقام معرفتِ فقر میں اپنی ہستی کو فنا کر دیتا ہے وہ انتہا ئی مقام بقا باللہ کو پا لیتا ہے۔

میانِ ہجر و وصلش فقر اعلیٰ
فنا فی اللہ شود با حق تعالیٰ

ترجمہ: ہجرو وصال کے درمیان فقر کا بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ بندہ فنا فی ذات ہو کر ذاتِ حق میں غرق ہو جائے۔ (محک الفقر کلاں)

چناں کن جسم را در اسم پنہاں
کہ میگردد الف در بسم پنہاں

ترجمہ: اپنے وجود کو اسمِ اللہ  ذات میں اس طرح گم کرلے جیسے ’الف‘ بسم اللہ کے بسم میں گم ہوتا ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں)

جب آپ رحمتہ اﷲ علیہ مقامِ وحدت پر پہنچے تو آپؒ نے فرمایا:

چہار بودم سہ شدم اکنون دویم
و ز دوئی بگذشتم و یکتا شدم

ترجمہ: پہلے میں چار تھا، پھر تین ہوا، پھر دو اور جب دوئی سے بھی گزر گیا تو یکتائی سے مشرف ہوگیا۔ (نور الہدیٰ کلاں)

آپؒ اس شعر میں فرماتے ہیں کہ پہلے ہم چار تھے یعنی میں، میرا مرشد، رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ تعالیٰ۔ جب میں فنا فی الشیخ ہو گیا تو تین رہ گئے اور جب فنا فی الرسول ہو گیا تو دو رہ گئے اور جب میں فنا فی اللہ ہو گیا تو یکتا ہو کر سراپا توحید ہو گیا۔

دیدہ دل دیدار بردہ روح سپردم با خدا
غرق فی التوحید گشتم این بود وحدت لقا

ترجمہ: میرا دل اور آنکھیں دیدار میں محو رہتی ہیں، روح محبوبِ حقیقی سے جا ملی ہے اور وجود غرق فی التوحید ہو گیا ہے۔ درحقیقت اسی کو وحدتِ لقا کہتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

j باھوؒ اسمِ اعظم ’’ھوُ‘‘ سے واصل ہو ا اور واصلِ ھوُ بھلا زیرِ خاک کہا ں رہتے ہیں۔

احتیاجی کس ندارم التجائی نیست کس
غرق فی التوحید گشتم شد فنا فی اللہ بس

ترجمہ: نہ مجھے کسی کی احتیاج ہے نہ ہی میں کسی سے کوئی التجا کرتا ہوں۔ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے کیونکہ میں غرق فی التوحید ہو کر فنا فی اللہ ہو چکا ہوں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

چنان غرق گردد بدریای عشق
کہ ہر دم سر از عرش بالا کشد

ترجمہ :ہم دریائے عشق میں اس شان سے غرق ہوئے کہ ہمارا سرہمیشہ عرش سے بلندہی ہوتارہا ہے۔ (عین الفقر)

او مرا داند مرا بیند بما او خوش نظر
حقِ وحدت را چہ داند گاؤخر

ترجمہ: وہ مجھے جانتا ہے، مجھے دیکھتا ہے اور اپنی نظر ِکرم مجھ پر رکھتا ہے۔ وحدتِ حق کو یہ بیل اور گدھے کیا جانیں؟ (عین الفقر)

مقامِ وحدت ذکر، فکر اور حضوری سے بھی بالاتر ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

باھوؒ بس حجاب است علم ذکر و ہم حضور
ہر کہ فی اللہ شد فنا گشتہ بہ نور

ترجمہ: اے باھوؒ! جو شخص غرق فنا فی اللہ ہو جاتا ہے وہ سراپا نور ہو جاتا ہے اور علم و ذکر و حضوری اس کیلئے حجاب بن جاتے ہیں۔

اہلِ حضور کے لیے ذکر اور علم بے ادبی میں شمار ہوتے ہیں جس طرح کسی شخص کا مجازی بادشاہ کے سامنے بادشاہ کو اس کے نام سے پکارنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔ جب تک بندہ توحید اور وحدت میں غرق نہیں ہوجاتا اس وقت تک حضوری بھی وحدانیت سے جدائی اور شرک ہے۔ بندہ اس وقت تک توحید میں غرق نہیں ہوتا جب تک وہ ماسویٰ اللہ سے جدا اور اللہ سے یکتا نہیں ہو جاتا اور اللہ کے عشق و محبت میں اس قدر غرق نہیں ہو جاتا کہ ذکر و علم بھی اسے بھول جائے، وہ مقام فنا فی اللہ سے بھی آگے گزر جائے اور ذکر اور علم کو بھلا کر عشق و محبت میں غرق ہوکر فنا فی اللہ ہو جائے۔ (عین الفقر)

ہر آن گوید حضورش حق ز دورش
حضورش آنکہ از خود خویش دورش

ترجمہ: حضوری کا دعویٰ وہ کر تا ہے جو حق سے دور ہو۔ حضوری میں وہی ہوتا ہے جو اپنی خودی کو ختم کر چکا ہو۔(عین الفقر)

انسانِ کامل ہی مرشد کامل ہے۔

’’انسانِ کامل‘‘ اصل میں ’’مرشد ِکامل‘‘ ہی ہے کیونکہ جب طالب فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تب ہی مسندِتلقین و ارشاد پر فائز ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ انسانِ کامل کے لیے مرشد کامل اکمل، مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ اور صاحبِ مسمیّ مرشد کی اصطلاحات بھی استعمال فرماتے ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اپنے زمانے کے انسانِ کامل ہیں اور آپؒ نے خود کو نہ صرف ’’کامل و مکمل و اکمل و نور الہدیٰ جامع مرشد‘‘ فرمایا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ’’مالک الملکی فقیر‘‘ بھی فرمایا ہے اور صرف انسانِ کامل ہی مالک الملکی فقیر کے رتبے پر فائز ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس سے ہماری بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مرشد کامل ہی انسانِ کامل بھی ہے۔ نور الہدیٰ کلاں میں آپؒ فرماتے ہیں:

اکملم کامل مکمل جامع ہم نور الہدیٰ
مالک الملکی مراتب فقیر فی اللہ باخدا

ترجمہ:میں کامل اکمل مکمل وجامع نور الہدیٰ فقیر ہوں اورمالک الملکی فقیر فنا فی اللہ کے مرتبے پر فائز ہوں۔ 

انسانِ کامل کا یہ اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ انسانِ کامل اہل ِ ہدایت و غنایت اور صاحبِ ولائیت فقیر ولی اللہ لایحتاج اور روشن ضمیر ہوتا ہے۔ دفتر ِاولیا میں اسے عارفِ کامل، فقیرِ کامل، ازلی غنی، صاحبِ فیض و فضل اور صاحبِ عنایت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (سورۃ النسائ۔59)
ترجمہ: اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسولؐ کی اور اس کی جو تم میں اولی الامر ہو۔
اولی الامر سے یہاں مراد انسانِ کامل ہے جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عارف کامل قادری بہر قدر تے قادر و بہر مقام حاضر۔ (رسالہ روحی شریف)
ترجمہ:  عارف کامل قادری (انسانِ کامل) ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔
فقیر دائمی حضوری میں رہنے والا اور علمِ دعوت کا مکمل و کامل عامل ہوتا ہے۔ اولی الامر اُسے کہتے ہیں جس کا امر واپس نہ پلٹا جائے۔
لِسَانُ الْفُقَرَآئِ سَیْفُ الرَّحْمٰنِ
ترجمہ: فقرا کی زبان رحمن کی تلوار ہے۔

فقیر کا لفظ ’’کن‘‘ جس کام کی انجام دہی کے لیے ادا کیا جائے وہ اللہ کے حکم سے انجام پاتا ہے خواہ جلد انجام پائے یا دیر سے۔ فقیرکا دل (باطن) دائمی حضوری میں ہوتا ہے جو بذریعہ دعوت ہمیشہ الہامی پیغام وصول کرتا ہے۔ اولی الامر اسے بھی کہتے ہیں کہ جس کا امر (حکم) ہر شے پر غالب ہو کیونکہ کوئی بھی اس اولی الامر پر غالب نہیں آ سکتا خواہ تنہا ہو یا لشکر کے ساتھ۔ پس معلوم ہوا کہ فقیر اللہ کے امر سے ہی فقیر بنتا ہے اور اللہ کا امر سچ اور غالب ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ (سورۃ یوسف۔21)
 ترجمہ: اور اللہ اپنے ہر امر پر غالب ہے۔(امیر الکونین)

فقیر صاحبِ تحصیل ہے اور علما صاحبِ تفصیل ہیں۔ فقیر اللہ تعالیٰ کی طبع رکھتا ہے، علما رسولوں کی طبع رکھتے ہیں اور ظلِ اللہ بادشاہ اولی الامر ہے۔ طبعٔ رسول رکھنے والے علما اور اولی الامر بادشاہ دونوں طبعٔ اللہ یعنی فقیر کے تابع ہیں۔ فنافی اللہ فقرا غیر ماسویٰ اللہ سے پاک ہوتے ہیں۔(عین الفقر)

جان لے کہ فقیر کے تین مراتب ہیں۔ پہلااَطِیْعُوا اللّٰہَ   ہے یعنی فقیر ہر حال میں اطاعتِ الٰہی کو بجا لاتا ہے اور غیر اللہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ فقیر کے اس مرتبے کو فنا فی اللہ کہتے ہیں۔ دوسرا مرتبہ  اَطِیْعُوا الرَّسُوْل  ہے یعنی فقیر ہمیشہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی کرتا ہے اور دیدارِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں صبح و شام غرق رہتا ہے۔ فقیر کے اس مرتبے کو فنا فی محمدؐ کہتے ہیں۔ فقیر کا تیسرا مرتبہ  اُوْلِی الْاَمْرِ ہے۔ مراتبِ اولی الامر فنا فی الشیخ طالب کو حاصل ہوتے ہیں جس کی نظر اور حکم سب پر غالب ہوتے ہیں یعنی تمام مراتبِ حیات و ممات کلمہ طیب کی برکت سے اس کی توجہ و نظر میں ہوتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

جب آپ اس باب ’’انسانِ کامل‘‘ کا مطالعہ کریں تو اس کو باب ’’مرشد کامل اکمل‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو بات سمجھ میں آجائے گی۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں ’’انسانِ کامل‘‘ کو مختلف ناموں سے موسوم فرمایا ہے۔مثلاً:
1۔ امیر الکونین
  2۔سلطان العارفین
  3۔عارف کامل قادری
 4۔سلطان التارکین 
5۔صاحبِ امر یا فقیر صاحبِ امر 
6۔ اولی الامر 
7۔ فقیر 
  8۔  فقیرِکامل یا کامل فقیر   
9۔عارف باللہ یا عارف اللہ فقیر 
10۔ مست فقیرِ کامل 
11۔فقیر صاحبِ قلب 
12۔صاحبِ راز فقیر 
13۔صاحبِ عین العیان، صاحبِ عیاں فقیر یا عین العیان فقیر 
14
۔ غوث و قطبِ وحدت یا غوث وقطب صاحبِ تحقیق یا اہلِ وحدت واحد غوث و قطب   
15۔فنا فی اللہ فقیر
16۔ حقیقی فقیر 
17۔عارف ختم الفقرا 
  18۔ختم الفقر فقیر 
  19۔لایحتاج فقیر یا صاحبِ جمعیت لایحتاج فقیر 
20۔عاشق فقیر 
21۔ فقیر درویش یا درویش فقیر 
22۔غنی فقیر 
23۔ کامل کل فقیر۔

ان تمام اصطلاحات سے مراد انسانِ کامل ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اس بات کو مد ِنظر رکھ کر حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات کا مطالعہ فرمائیں۔ 

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے پنجابی ابیات بھی اس سلسلہ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انسانِ کامل (مقامِ وحدت، فنا فی ھوُ، فنا فی اللہ بقاباللہ اور وصالِ الٰہی) کے موضوع پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ابیات سے انتخاب پیش کیا جا رہا ہے۔

عقل فکر دِی جا نہ کائی، جتھے وحدت سر سبحانی ھوُ
ناں اُوتھے ملاں پنڈت جوشی، ناں اُوتھے علم قرآنی ھوُ
جد اَحمد اَحد وِکھالی دِتیّ، تاں کل ہوئے فانی ھوُ
علم تمام کیتونے حاصل باھوؒ، کتاباں ٹھپ آسمانی ھوُ

مقامِ وحدت اﷲ پاک کا ایک راز ہے، وہاں عقل و فکر کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس مقام تک رسائی ہی عقل و خرد کی حدود سے گزر کر حاصل ہوتی ہے۔ راہِ فقر میں یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے اس لیے اس منزل تک رسائی کے بعد کسی دوسری منزل و رسومِ راہ (ذکر اذکار، تلاوتِ قرآن، علما کی راہنمائی) کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں پر جب ہم نے احد کو میم کا گھونگھٹ اوڑھے احمد کی صورت میں دیکھا تو احد کی ذات میں فنا ہو گئے اور توحید و رسالت کی حقیقت کو پا لیا۔ آخری مصرعے میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام آسمانی کتب اﷲ پاک تک پہنچنے کا راستہ ہیں اور جب احد تک رسائی ہو گئی تو پھر ان کتابوں کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟

اَحد جد دِتی وِکھالی، از خود ہویا فانی ھوُ
قرب وِصال مقام نہ منزل، ناں اوتھے جسم نہ جانی ھوُ
نہ اوتھے عشق محبت کائی، نہ اوتھے کون مکانی ھوُ
عینوں عین تھیوسے باھوؒ، سرّ وحدت سبحانی ھوُ

مقامِ احدیت (ھاھویت) میں جب اللہ تعالیٰ نے تجلیٔ ذات وارد فرمائی تو دوئی ختم ہو گئی اور میں ذات میں فنا ہو کر فانی اور توحید میں فنا ہو کر ہمہ تن تو حید ہو گیا یعنی فنا فی ھوُ ہو گیا۔ یہاں پر قرب و وصال، مقام و منزل، عشق و محبت، جسم و روح اور کون و مکان کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حال میں ہم وحدتِ سبحانی کا عین اور اس کا سرّ ہو گئے۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ انسانِ کامل کی قوت و قدرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

میں شہباز کراں پروازاں، وِچ دریائے کرم دے ھوُ
زبان تاں میری کن برابر، موڑاں کم قلم دے ھوُ
افلاطون ارسطو وَرگے، میرے اَگے کس کم دے ھوُ
حاتم جیہے کئی لکھ کروڑاں، در باھوؒ دے منگدے ھوُ

آپؒ انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہیں اور عارفین کے سلطان ہیں۔ اس بیت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں شہبازِ معرفت ہوں اور سمندرِ رحمتِ باری تعالیٰ میرے اندر موجزن ہے۔ انسانِ کامل کے مرتبہ پر پہنچ کر مجھے زبانِ کن (زبانِ قدرت) حاصل ہو گئی ہے اور میں لوحِ محفوظ پر رقم شدہ نوشتہ ٔ تقدیر تبدیل کرسکتا ہوں۔ میرے علم کے سامنے ارسطو اور افلاطون کے علم کی کوئی حیثیت نہیں اور حاتم طائی جیسے کروڑوں سخی تو خود میرے در پر بھکاری بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ ایک فارسی بیت میں آپؒ اپنے اس مرتبہ کے متعلق فرماتے ہیں:

جائے کہ من رسیدم اِمکاں نہ ہیچ کس را 
شہبازِ لامکانم آنجا کجا مگس را
لوح و قلم و کرسی کونین راہ نہ یابد
افرشتہ ہم نہ گنجد آنجا نہ جا ہوس را
(کلید التوحید کلاں)

ترجمہ: جہاں تک میں پہنچ گیا ہوں وہاں تک کسی اور کے پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔ میں لامکان میں پرواز کرنے والا شہباز ہوں، وہاں مکھیوں (طالبانِ دنیا و عقبیٰ) کے لیے جگہ نہیں ہے۔ وہاں تو لوح ،قلم اور کرسی غرضیکہ کونین (دونوں جہان) بھی راہ نہیں پاتے۔ وہاں نہ فرشتے کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہوس کے لیے کوئی جگہ۔ 

آپ رحمتہ اللہ علیہ انسانِ کامل کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
دیدارِ الٰہی حاصل ہونا بھی کامل مرتبہ نہیں ہے کیونکہ اس میں بھی دوئی ہے۔ اصل مرتبہ تو اپنی ہستی اور خودی کو ختم کرکے اللہ تعالیٰ کی ذات میں فنا ہو جانا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ’میں‘ اور ’توُ‘ کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اسے وحدت فنا فی اللہ بقا باللہ کا مقام بھی کہا جاتا ہے اور یہی فقر کا سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ یہ عبدیت کا سب سے اعلیٰ مقام ہے اور یہاں پر انسانِ کامل کا تاج اس کے سر پر رکھا جاتا ہے اور اسے تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز کیا جاتا ہے-اس مقام پر طالب کا بولنا اللہ کا بولنا ہوتا ہے، اس کا سننا اللہ کا سننا ہوتا ہے، اس کا دیکھنا اللہ کا دیکھنا ہوتا ہے، اس کا چلنا اللہ کا چلنا ہوتا ہے اور اس کا پکڑنا اللہ کا پکڑنا ہوتا ہے۔

انسانِ کامل (فقیر) کا دشمن

سلطان العارفین حضر ت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فقیر (انسانِ کامل) کے دشمن کے بارے میں فرماتے ہیں:
فقرا کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ (محبت الاسرار)
فقیر (انسانِ کامل) کے تین دشمن ہوتے ہیں اور یہ تینوں ہی دنیا کو دوست رکھتے ہیں۔ ایک منافق دوسرا حاسد اور تیسرا کافر۔ (اسرارِ قادری)

فقیر (انسانِ کامل) کا دشمن تین حال سے خالی نہیں ہوتا، یا تو مردہ دل اور حاسد عالم ہے جس کی زبان زندہ اور دل تصدیق سے بے خبر ہے یا وہ جھوٹا، منافق اور کافر ہے یا اہلِ دنیا ہے جسے بہشت میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی۔ (عقلِ بیدار)

جو فقیر کو بے برکت سمجھتا ہے وہ خود بے برکت ہے ۔ جو فقیر کے فقر کو بے حکمت سمجھتا ہے وہ خود بے حکمت ہوتا ہے۔ جو صاحبِ تصور اسمِ اللہ ذات عارف فقیر کو جاہل سمجھتا ہے وہ خود جاہل ہے اگرچہ وہ ظاہری علم بھی پڑھتا ہو پھر بھی وہ عالم نہیں۔ (امیر الکونین)

فقرا کا دشمن اللہ سے غافل اور شفاعتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محروم ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

جو فقرا کا منکر ہو وہ دونوں جہان میں خوار اور پریشان رہتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

آئیں اس دور کے انسانِ کامل کی تلاش کریں اور پھر اس کی صحبت میں رہ کر راہِ فقر کا سفر طے کریں اور جز سے کل کی منزل پر پہنچ جائیں یعنی مقامِ وحدت، فقر فنا فی اللہ بقا باللہ اور وصالِ الٰہی تک رسائی حاصل کریں۔ مسافر سے راہنما  تک کا یہ سفر انسانِ کامل (مرشد کامل) ہی کی زیرِ نگرانی طے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس مقام تک رسائی کے بغیر راہِ فقر کے تمام مقامات و منازل کہانیوں اور قصوں کی مثل ہیں۔

( ماخوذ از کتاب ’’شمس الفقرا‘ ‘ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں