سلطان باھو کی کتب

کتب۔۔  حضرت سخی سلطان باھوؒ

تصانیف

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا اس کے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد140ہے ۔ ابیاتِ باھو رحمتہ اللہ علیہ جو کہ پنجابی میں ہے، کے علاوہ تمام تصانیف فارسی میں ہیں۔

’شرح ابیاتِ باھوُ رحمتہ اللہ علیہ ‘اور’ مرآتِ سلطانی(باھوُ نامہ کامل)‘ کے مؤلف ڈاکٹر سلطان الطاف علی جن کاتعلق خانوادہ سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ سے ہے، نے دونوں کتب میں یہ عبارت تحریر کی ہے کہ اُن کو حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک سے لکھا ہوا کسی کتاب کا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہوا۔ صرف خلفا اور درویشوں کے نسخہ جات ہی ملے ہیں۔یہی بات حضرت سخی سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کے مترجم سید امیر خان نیازی نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب اسرار القادری کا ترجمہ کرتے ہوئے پیش لفظ میں لکھی ہے۔ لکھتے ہیں ’’ ایک مترجم کی حیثیت سے میرے لیے سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ قلمی نسخہ جات میسر نہیں ہو پاتے تاکہ تقابلی جائزے کے بعد صحیح فارسی متن اخذ کرکے ترجمے کا صحیح حق ادا کیا جاسکے۔ اگر سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  کے اپنے ہاتھ مبارک کا لکھا ہوا ایک بھی نسخہ مل جائے تو باقیوں کی ضرورت ترجمے کے لیے نہیں رہتی۔ بد قسمتی سے کسی ایک کتاب کا نسخہ بھی آپ رحمتہ اللہ علیہکے ہاتھ کا لکھا ہوا موجود نہیں۔ وہ بھی اس طرح ضائع ہو گئے کہ خلفائے عظام نے انہیں عام کرنے کی بجائے اپنے صندوقوں میں محفوظ کر دیا۔‘‘( صفحہ40)

آپ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا یعنی آپ رحمتہ اللہ علیہ بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   کی طرح اُمی تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے۔ جس طرح حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم    کے دستِ مبارک کی لکھی ہوئی کوئی آیت، حدیث یا تحریر دستیاب نہیں ہے اسی طرح حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک کی بھی کوئی تحریر دستیاب نہیںہو سکتی ۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ جو کچھ مکاشفاتِ الٰہیہ سے بیان فرماتے درویش یا خلفا اسے قلم بند کر لیتے تھے اور وہی نسخہ جات دستیاب ہیں۔ اس لیے اگر سلطان الطاف علی یا صاحبِ مناقبِ سلطانی یا کسی دوسرے کو حضرت سخی سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک سے لکھا ہوا کسی کتاب کا کوئی نسخہ نہیں ملا تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ جن کتب کے تراجم ہوئے ہیں اُن کے نسخہ جات خانوادہ سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے ورثہ سے ہی مترجمین تک پہنچے ہیں پھر اکثر مترجمین نے ایک ہی کتاب کے مختلف نسخہ جات کا تقابل کرکے ہی اُن کا ترجمہ کیا ہے اس لیے تقریباً دستیاب تمام تراجم میں تعلیمات کے لحاظ سے کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ 

حضرت سلطان حامد رحمتہ اللہ علیہ نے ’’ مناقبِ سلطانی ‘‘ میں کتب کی جو فہرست دی ہے وہ بہت کم ہے ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’ مناقب ِسلطانی ‘‘ کی تصنیف کے وقت ہی اکثر وبیشتر کتب زمانہ کی دست برد کی نذر ہوچکی تھیں یا اُن کے پا س موجود نہ تھیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے علوم اور کتب کی اشاعت کیلئے کوئی ادارہ قائم نہ ہوسکا جس کی وجہ سے ان کتب کی وسیع پیمانہ پر اشاعت ممکن نہ ہوسکی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کی اشاعت کے سلسلہ میں جتنی بھی کوششیں ہوئیں وہ انفرادی تھیں۔ ان کتب کے لمبا عرصہ تک پردئہ اخفا میں رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ  رحمتہ اللہ علیہ یہ ’’ کیمیائے گنج ‘‘ نااہلوں سے دوررکھنا چاہتے ہوں یا پھر ان کے ظاہر ہونے کاایک خاص وقت اور زمانہ مقرر ہو ۔ اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو آخری زمانہ کی ہدایت کیلئے مصطفی ثانی او ر مجتبیٰ آخر زمانی کا لقب عطا فرمایا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب علمِ لدنی کا شاہکار ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان مبارک ہے کہ جس کو کوئی مرشد کامل اکمل نہ ملتا ہو وہ میری کتب کو وسیلہ بنائے۔ رسالہ روحی شریف میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

 اگر کوئی ولیٔ واصل عالمِ روحانی (کے مراتبِ سلوک) یا عالمِ قدس (ملکوت) کے مراتب میں رجعت کھا کر اپنے مقام سے گر جائے  تو اس پاک کتاب کو وسیلہ بنا لے تو یہ اس کے لیے مرشد کامل ہے۔ اگر وہ اسے وسیلہ نہ بنائے تو اسے قسم ہے، اگر ہم اُسے اس کے درجہ تک نہ پہنچائیں تو ہمیں قسم ہے۔  

آپ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ اعلان آپ کی ہر کتاب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ۔ حضرت سخی سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی عبارت بہت سادہ اور سلیس ہے جسے عام اور معمولی تعلیم یافتہ آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی عبارت میں ایسی روانی اور تاثیر ہے جو دورانِ مطالعہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔ ان کتب کو اگر با ادب او ربا وضو پڑھا جائے تو فیض کا ایک سمندر کتب سے قاری کے اندر منتقل ہوتا ہے ۔ اگر قاری صدقِ دل سے مطالعہ جاری رکھے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ  کے حقیقی روحانی وارث  سروری قادری مرشد تک راہنمائی ہوجاتی ہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں ضرورت کے مطابق آیاتِ قرآنی، احادیث مبارکہ او راحاد یثِ قدسی کا استعمال فرمایا ہے ۔ ان کتب میں جہاں کہیں بھی عبارت میں ان کا ذکر ہے وہاں سے اگر ان کو نکال دیا جائے تو پھر معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس جگہ آیاتِ قرآنی یا احادیث کو درج نہ کیا جاتا تو مطلب مکمل بیان نہ ہو پاتا ۔ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ عبارت میں اشعار کا بر محل اور خوبصورت استعمال کرتے ہیں جس سے عبارت کا اثر دو چند ہوجاتا ہے ۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی جو کتب بازار میں تراجم کی صورت میں دستیاب ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں: 
 ۱۔ ابیات سلطان باھو ؒ ( پنجابی)  ۲۔ دیوانِ باھوؒ (فارسی)  ۳۔عین الفقر  ۴۔مجا لستہ النبیؐ  ۵۔کلید التوحید (کلاں)  ۶۔کلید التوحید (خورد)     ۷۔ شمس العارفین  ۸۔ امیر الکونین ۹۔ تیغِ برہنہ  ۱۰ ۔رسالہ روحی شریف  ۱۱۔گنج الاسرار  ۱۲۔محک الفقر ( خورد)  ۱۳۔محک الفقر (کلاں)       ۱۴۔اسرارِ قادری  ۱۵۔اورنگ شاہی  ۱۶۔ جامع الاسرار  ۱۷۔عقلِ بیدار  ۱۸۔فضل اللقا ( خورد)  ۱۹ ۔فضل ا للقا (کلاں)  ۲۰ ۔مفتاح العارفین        ۲۱۔ نورالہدیٰ (خورد)   ۲۲۔ نورالہدیٰ (کلاں)  ۲۳۔ توفیقِ ہدایت  ۲۴۔ قربِ دیدار  ۲۵ ۔عین العارفین  ۲۶ ۔کلیدِجنت  ۲۷۔ محکم الفقرا   ۲۸۔سلطانُ الوَھم  ۲۹ ۔دیدار بخش (خورد)۔  ۳۰ دیدار بخش (کلاں)  ۳۱۔کشف الاسرار   ۳۲۔محبت الاسرار   ۳۳طرفتہ العین۔حجتُ الاسرار (یہ کتاب دوناموں سے معروف ہے) ۳۴۔ تلمیذالرحمن۔۳۵۔ سیف الرحمن۔۳۶ گنجِ دین۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ’’گنجِ دین‘‘ کے قلمی نسخہ کی عکسی نقل ہمارے پاس موجود تھی۔ یہ کتاب ٹبہ پیراں ضلع جھنگ سے حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ لعل شاہ ہمدانی کے خاندان سے مئی 1988ء میں دریافت ہوئی جسے حضرت گل شاہ خلف رشید حضرت قبلہ پیر سید محمد حسین شاہ ہمدانی کی فرمائش پر تحریر کیا گیا۔ سن کتابت 17 ذیقعد 1383ھ ہے۔ اس کا اوّلین ترجمہ خانوادہ سلطان باھوؒ کے ڈاکٹر سلطان الطاف علی نے مع فارسی متن 2020ء میں شائع کیا اور دوسرا اُردو ترجمہ احسن علی سروری قادری اور انگلش ترجمہ محترمہ عنبرین مغیث صاحبہ نے کیا ہے۔

شمس العارفین دراصل سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کلید التوحید (کلاں)، قربِ دیدار، مجموعۃ الفضل، عقلِ بیدار، جامع الاسرار، نور الہدیٰ اور فضل اللقا سے منتخب شدہ اسباق پر مشتمل ہے جو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے صاحبزادے سلطان ولی محمد رحمتہ اللہ علیہ نے ترتیب دی تھی۔ اب سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف کے نام سے مشہور ہے۔

مناقبِ سلطانی اور شمس العارفین سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی چند ایسی تصانیف کے نام بھی ملتے ہیں جو اب تک نایاب ہیں(۱)مجموعۃ الفضل (۲)  عین النجا (۳) مفتاح العاشقین (۴) قطب الاقطاب (۵) شمس العاشقین (۶) دیوانِ باھوؒ کبیر و صغیر۔ ایک ہی دیوانِ باھوؒ (فارسی) دستیاب ہے جو یا تو کبیر ہے یا صغیر۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی واحد کتاب جو پنجابی شاعری پر مشتمل ہے ابیاتِ باھوؒ کے نام سے مشہور اوردستیاب ہے۔ 

 

سلطان باھو کی کتب” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں